حیاتِ امام احمد رضا کے اہم گوشے
<p>تحریر: ساجد علی مصباحی</p>
<p>استاذ: الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور اعظم گڑھ</p>
<p>بسم اللہ الرحمٰن الرحیم</p>
<p>نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم</p>
<p>امام احمد رضا، مختصر تعارف:</p>
<p>۱۰؍شوال المکرم ۱۲۷۲ھ /۱۴؍جون ۱۸۵۶ء، بروزِ شنبہ ،بوقتِ ظہر ،ہندوستان کےمشہور ومعروف شہر ”بریلی“ میںاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانحنفی قادری کی ولادت ہوئی ،آپ کا پیدائشی نام ”محمد“ اور تاریخی نام”المختار[۱۲۷۲ھ]“ہے۔آپ کے جد امجد مولانا رضا علی خان بریلوی قدس سرہٗ(متوفیٰ :۱۲۸۲ھ/۱۸۶۶ء)نے آپ کو” احمد رضا“کے نام سے پکارا جو خاص وعام کی زبان پر جاری ہوگیا۔</p>
<p>آپ نے ابتدائی تعلیم میزان ومنشعب تک مرزا غلام قادربیگ ،بریلوی(متوفیٰ:۱۳۳۶ھ/۱۹۱۷ء) سے حاصل کی اور اکثر علوم دینیہ ،عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان (متوفیٰ:۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) سے کیــــــ مولانا عبدالعلی رام پوری(متوفیٰ:۱۳۰۳ھ) سے شرح چغمینی کے بعض اسباق پڑھےــــــــمرشد گرامیسیدشاہ آل رسول احمدی مارہروی (متوفیٰ:۱۲۹۶ھ/۱۸۷۹ء)سے تصوف وطریقت کی تعلیم حاصل کیــــــ سیدشاہ ابوالحسین نوری مارہروی (متوفیٰ:۱۳۲۴ھ/۱۹۰۶ء)سےتعلیم طریقت کی تکمیل کی اور کسی قدرعلم جفر وتکسیربھی سیکھا اور جب ۱۲۹۵ھ/۱۸۷۸ء میں زیارت حرمین شریفین کے لیے مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تومفتی شافعیہ شیخ احمد بن زین بن دحلان مکی(متوفیٰ:۱۲۹۹ھ/۱۸۸۱ء) ،مفتی حنفیہ شیخ عبدالرحمٰن سراج مکی (متوفیٰ :۱۳۰۱ھ/۱۸۸۳ء)اورامام کعبہ شیخ حسین بن صالح مکی (متوفیٰ :۱۳۰۶ھ/۱۸۸۴ء)سے حدیث وفقہ وتفسیروغیرہ کی سند حاصل فرمائی۔</p>
<p>آپ کی خداداد ذہانت وذکاوت اوراعلیٰ فہم وبصیرت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ بسم اللہ خوانی ہی کے دن الف،ب ،ت ،ث پڑھتے ہوئے لا کے مرکب ہونے پر حیرت انگیز اشکال کااظہارکیاـــــچار سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ ختم کرلیا ـــــچھ سال کی عمر میں میلادِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناءکے موضوع پر مجمع عام میں بصیرت افروز خطاب فرمایاـــــآٹھ سال کے ہوئے توفن نحو کی مشہور کتاب”ہدایۃ النحو “ کی عربی زبان میں شرح لکھیـــــدس سال کی عمر میں اصول فقہ کی اہم کتاب” مسلم الثبوت “پرحاشیہ لکھاـــــتیرہ سال ،دس ماہ ، چاردن کی عمر میں مروجہ علوم عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل کرکے دستارِفضیلت سے سرفراز ہوئے اور اسی دن رضاعت سے متعلق ایک فتویٰ لکھا جو بالکل درست تھا ،اسے دیکھ کر والد ماجد رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خانقدس سرہ اس قدر خوش ہوئے کہ اسی دن فتویٰ نویسی کی اجازت مرحمت فرمادی اورمسندِ افتا پر بٹھا دیا۔</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے ایک دن پوچھا گیا کہ ”اگر بچے کی ناک میں کسی طرح دو دھ چڑھ کر حلق میں پہنچ گیا ہو تو کیا حکم ہے؟</p>
<p>آپ نے ارشاد فرمایا: منہ یاناک سے عورت کا دودھ جو بچے کے جوف میں پہنچے گا ، حرمتِ رضاعت لائے گا۔ـــــیہ وہی فتویٰ ہے جو چودہ شعبان ۱۲۸۶ھ کو سب سے پہلے اِس فقیر نے لکھا اور اسی۱۴؍شعبان ۱۲۸۶ھ کو منصبِ اِفتا عطا ہوا ،اور اسی تاریخ سے بِحَمْدِ اللہ تعالیٰ نماز فرض ہوئی اور ولادت ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ،روزِ شنبہ ،وقتِ ظہر مطابق ۱۴؍جون ۱۸۵۶ء،۱۱جیٹھ سدی ۱۹۱۳سمبت کو ہوئی تو منصبِ اِفتا ملنے کے وقت فقیر کی عمر ۱۳ برس،دس مہینہ ،چاردن کی تھی جب سے اب تک برابر یہی خدمتِ دین لی جارہی ہےوَالْحَمْدُ للٰہ“۔)[1](</p>
<p>آپ کے عہد طفلی کا یہ واقعہ بھی بڑا خوش گوار تھا کہ ایک روز آپ بچوں کے ساتھ مکتب میں پڑھ رہے تھے ، ایک آنے والے بچے نے استاذ کو سلام کیا ،انھوں نے وعلیکم السلام کہنے کی بجاے جواب میں کہا :جیتے رہو۔</p>
<p>آپ نے فوراً استاذ صاحب سے عرض کیا:یہ سلام کا جواب تو نہ ہوا ۔وعلیکم السلام کہنا چاہیے تھا ۔مولوی صاحب اس سے بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔)[2](</p>
<p>اس قسم کے واقعات سے صاف ظاہر ہےکہ اسلامی شعائر وآداب کی حفاظت وپاسبانی کی جوروایتیں آپ کی دینی ،علمی ،اصلاحی اورتعمیری تاریخ سے وابستہ ہیں ،ان کی ابتدا بچپن ہی سےہوچکی تھی۔</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقدس سرہٗ کا سینہ علوم و معارف کا خزینہ اور دماغ فکر وشعور کا گنجینہ تھا، اپنے بیگانے سب ہی معترف ہیں کہ شخصی جامعیت،اعلیٰ اخلاق و کردار، قدیم و جدید علوم و فنون میں مہارت ، تصانیف کی کثرت ، فقہی بصیرت ، احیاے سنت کی تڑپ، قوانین شریعت کی محافظت، زہد وتقویٰ ، عبادت وریاضت ،اخلاص وللہیت اور روحانیت و عشق رسول میں ان کے معاصرین میں کوئی ان کاہم پلہ نہ تھا ۔</p>
<p>آپ کی صداقت وراست گفتاری ، نیک نفسی وپاک بازی ، شرافت نفس اوراعلیٰ ظرفی کے افراد خانہ اور اہل تعلق سب ہی معترف ومداح تھے ،بڑوں کا ادب واحترام ، اساتذہ ، علما ومشائخ کا اعزاز واکرام ، ان کے ساتھ محبت و حسن عقیدت او ر اس طرح کی بہت سی خوبیوں کےآپ مالک تھے۔</p>
<p>اس لیے آپ کی حیات مبارکہ کے تعلق سے کچھ لکھنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑتاہےکہ آپ کے کس وصف جمیل کا ذکر کیاجائے اور کسےترک کیاجائے ،آپ کی ذات گرامی کاحال تو یہ ہےکہ </p>
<p> زفرق تا بہ قدم ہرکجا کہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا ست</p>
<p>یقیناًآپ کے تمام اوصافِ جمیلہ وکمالاتِ جلیلہ پر مستقل لکھنے کی ضرورت ہے ،اورالحمدللہ بہت سے گوشوں پرکافی کچھ لکھا جاچکاہے اور بعض گوشوں پر ابھی لکھاجارہاہے۔ہماس مضمون میں اختصار کے ساتھ چند گوشوں کا تذکرہ کرتے ہیں اوراربابِ ذوق سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ مزیدمعلومات اورتسکین قلب کےلیے مآخذومراجع کی طرف رجوع کریں ۔</p>
<p>3امام احمدرضا اوراتباع شریعت :</p>
<p> صرف اربابِ نظر ہی کے وہ رہبر تو نہیں مرجع اہل طریقت بھی ہیں اعلیٰ حضرت</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی حیات مبارکہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہی یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہےکہ آپ نے پوری زندگی شریعت پر سختی سے عمل کیا ، ہرفرض وواجب کی محافظت اور اتباع سنت وشریعت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیا جس کے نتیجے میں آپ کا قلب مبارک ایسا پاکیزہ اور مزکّیٰ ومصفیٰ ہوچکاتھا کہ نور معرفت کی تابندگی اوائل زندگی ہی میں نظر آنے لگی تھی۔</p>
<p>بائیس سال کی عمر میں جب آپ تاج الفحول حضرت مولانا عبدالقادر بدایونی (متوفیٰ:۱۳۱۹ھ/۱۹۰۱ء)اور اپنے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خان بریلوی کے ہمراہ ۱۲۹۴ھ/۱۸۷۷ء میں مارہرہ مطہرہ پہنچے توخاتم الاکابر حضرت سید شاہ آل رسول احمدی قادری برکاتی نے بیعت کے ساتھ ہی آپ کو اجازت وخلافت سے بھی سرفراز فرمادیا جب کہ دوسرے مریدین ومعتقدین کوکافی ریاضت ومجاہدہ اور تطہیر وتزکیہ کے بعد اگر قسمت یاوری کرتی تو یہ سعادت میسر آتی تھی ۔</p>
<p>خلافِ معمول یہ دل کش منظر دیکھ کر سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی نے عرض کیا : حضور ! آپ نےانھیں بلا ریاضت ومجاہدہ خلافت عطافرمادی ،اس کی کیا وجہ ہے ؟حضرت سید شاہ آل رسول احمدی قادری مارہروی نے ارشاد فرمایا:</p>
<p>” اور لوگ میلاکچیلا ، زنگ آلود دل لے کر آتے ہیں جس کے تزکیہ کے لیے ریاضت ومجاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے،یہ مصفیٰ ومزکیٰ قلب لے کر آئے ہیں ، انھیں ریاضت ومجاہدہ کی کیا ضرورت تھی ؟صرف اتصال نسبت کی ضرورت تھی جو بیعت کے ساتھ ہی حاصل ہوگیا۔</p>
<p>مزید فرمایا: مجھے بڑی فکر تھی کہ بروز محشر اگر احکم الحاکمین نےسوال فرمایاکہ آل رسول تو میرے لیے کیا لایا ہے؟تو میں کیا پیش کروں گا ؟مگر اللہ کا شکر ہے کہ آج وہ فکر دور ہوگئی ، اس وقت میں احمد رضا کو پیش کردوں گا“۔)[3](</p>
<p>حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی، اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا قدس سرہ ٗکے بچپن کا ایک واقعہ اس طرح قلم بند کرتے ہیں:</p>
<p>”اعلیٰ حضرت کی روزہ کشائی بڑی دھوم دھام سے ہوئی ،سارے خاندان اور حلقۂ احباب کو مدعو کیا گیا، کھانے دانے پکے ، افطاریاں بنیں،اس میں فیرنی بھی تھی جس کے پیالے ایک کمرے میں جمانے کے لیے رکھے تھے ،رمضان المبارک گرمی میں تھا اور اعلیٰ حضرت خُرد سال تھے ،مگر آپ نے بڑی خوشی سے پہلا روزہ رکھا تھا،ٹھیک دوپہر میں چہرۂ مبارک پر ہوائیاں اڑنے لگیں،آپ کے والد ماجد نے دیکھا تو اس کمرے میں لے گئے اور اندر سے کواڑ بند کرکے اعلیٰ حضرت کو فیرنی کا ایک ٹھنڈا پیالہ اٹھاکر دیا اور فرمایا کہ کھالو۔آپ نے عرض کیا: میرا تو روزہ ہے۔انھوں نے فرمایا کہ بچوں کے روزے یوں ہی ہواکرتے ہیں،کمرہ بند ہے نہ کوئی آسکتاہے ، نہ دیکھ سکتاہے ،تو اعلیٰ حضرت نےعرض کیا : جس کا روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہاہے،اس پر باپ آب دیدہ ہوگئے اور خدا کا شکر اداکیاکہ خداکے عہد کویہ بچہ کبھی فراموش نہ کرے گا ،جس کو بھوک پیاس کی شدت میں ،کمزوری اور کم سنی میں ،ہرفرض کی فرضیت سے پہلے وفاے عہد کی فرضیت کا اتنا لحاظ وپاس ہے“۔)[4](</p>
<p>4امام احمد رضا اورعلوم وفنون:</p>
<p> اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ پچپن(۵۵) علوم وفنون کے ماہر تھےجیسا کہ ”الإجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ[۱۳۲۴ھ]“ میں خود انھوں نے ذکر کیاہےاورمحتاط سوانح نگاروں نے بھی اسی کو لکھاہے۔</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہٗ کے علمی فضل وکمال اور مختلف علوم وفنون میں ان کی مہارتِ تامہ کا اعتراف ان کے مخالفین ومعاندین بھی اپنی مجلسوں میں کرتے رہتے تھے۔ چنان چہ علامہ محمدصابر القادری نسیمؔ بستوی لکھتے ہیں:</p>
<p>”اعلیٰ حضرت قبلہ کا جب وصال ہوا تو بیرونی اضلاع کو فوراً تار دیےگئے ۔۔۔ جب وہ تارمرادآبادمیں استاذ العلماء مولانا نعیم الدین صاحب قبلہ کو پہنچا،فوراً شہر میں اعلان کرنے کے لیےانھوں نے طلبہ کے چند گروہ روانہ کردیے جو پہلے بیک آواز نعرۂ تکبیر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے،پھر بلند آواز سے ایک شخص اعلان کرتاتھاکہ” آج نمازِ جمعہ کے وقت اعلیٰ حضرت قبلہ کا وصال ہوگیااور کل ان کی تجہیز وتکفین ہوگی، جو صاحب نمازِجنازہ میں شرکت کرنا چاہیں وہ نو بجے صبح تک بریلی پہنچ جائیں“۔</p>
<p>یہ اعلان جب شاہی مسجد کے قریب پہنچا تو مدرسہ کےصدرمدرس نے ایک طالب علم کو حکم دیاکہ بازار میں دیکھو، کیا اعلان ہورہاہے۔وہ طالب علم گیا اور لوٹا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”خان صاحب بریلوی فوت ہوگئے“۔اس پر صدرمدرس بہت برہم ہوئے اور کہاکہ یہ خوش ہونے کی بات ہے یا رونے کی بات ہے۔مذہبی اختلاف اپنی جگہرہا، مگر ہمیں غیر مسلم اقوام کے مقابلےمیں ان کی ذات کے ساتھ ایک فخر قائم تھا کہ دنیا کے سارے علوم اگر ایک ذات میں جمع ہوسکتے ہیں تو وہ مسلمان ہی ہوسکتاہےاور اس وقت ہم مسلمانوں میں ایک ایسا شخص موجود بھی ہے کہ دنیابھر کے مروجہ علوم میں مہارتِ تامہ رکھتاہےاوروہ مولانا احمدرضا خاں کی ذات تھی جن کی ذات تک ہمیں یہ فخر حاصل تھا۔افسوس،صد افسوس! آج یہ فخر ان کی ذات کے ساتھ رخصت ہوگیا،اب مسلمانوں میں کوئی شخص ایسا موجود نہیں ہےجس کا نام اس فخر کے ساتھ پپش کیا جاسکتاہو۔یہ تھی وہابیہ کے اکثر اکابر کی راے اعلیٰ حضرت قبلہ کے علوم کے متعلق ” والفضل ماشہدت بہ الأعداء“حقیقی بڑائی وہ ہے جس کی گواہی دشمن دیں“۔)[5](</p>
<p>5امام احمد رضا اورفقہ وافتا:</p>
<p>فقیہ اعظم ہندوستاں احمدرضا تم ہو مقام فقہ میں عرش آستاں احمد رضا تم ہو</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ اپنے دَور کے بے مثال فقیہ اور بلند پایہ مفتی تھے ، علم فقہ میں آپ کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے، ان میں سب سے زیادہ مشہور ومعروف ” فتاویٰ رضویہ “ہے ۔یہ فقہ حنفی کاایک عظیم انسائیکلوپیڈیا ہے جو رضا اکیڈمی ، ممبئی سے بارہ جلدوں میں شائع ہورہاہے۔صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ(متوفیٰ:۱۳۶۷ھ) آپ کی فقہی بصیرت اور علمی ودینی خدمات کے بارے میں فرماتےہیں:</p>
<p>” علم فقہ میں جو تبحر وکمال حضرت ممدوح(امام احمد رضا ) کو حاصل تھا اس کو عرب وعجم ،مشارق ومغارب کے علمانے گردنیں جھکاکر تسلیم کیا،تفصیل تو ان کے فتاویٰ دیکھنے پر موقوف ہے ، مگر اجمال کے ساتھ دو لفظوں میں سمجھیےکہ موجودہ صدی میں دنیا بھر کا ایک مفتی تھا جس کی طرف تمام عالم کے حوادث ووقائع استفادہ کے لیے رجوع کیے جاتے تھے ،ایک قلم تھا جو دنیا بھر کو فقہ کے فیصلے دے رہاتھا، وہی بدمذہبوں کے جواب میں لکھتاتھا، اہل باطل کی تصانیف کا بالغ رد بھی کرتاتھااورزمانہ بھر کے سوالوں کے جواب بھی دیتاتھا،اعلیٰ حضرت کے مخالفین کو بھی تسلیم ہے کہ فقہ میں ان کا نظیر آنکھوں نے نہیں دیکھا“۔)[6](</p>
<p>مکہ مکرمہ کے عالم جلیل شیخ سیدمحمد اسماعیل بن سید خلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نےجب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کا ایک فتویٰ دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھے:واللہ أقول والحق أقول إنہ لوراٰہا أبوحنیفۃ النعمان لأقرت عینہ وجعل مؤلفہا من جملۃ الأصحاب۔)[7](</p>
<p>خدا کی قسم !میں بالکل سچ کہتاہوں کہ اگر یہ فتویٰ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھتے توبلاشبہہ اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور وہ فتویٰ لکھنے والے کو اپنے اصحاب(امام محمد ، امام ابو یوسف ، امام زفر وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) کے زمرے میں شامل فرمالیتے ۔</p>
<p>آپ کی خدمت میں آنے والے استفتا کی کثرت بہت حیرت انگیز تھی اور ان سب کے جواب لکھنا اور لکھوانا اس سے بھی زیادہ محیر العقول تھا، استفتاکی کثرت کے بارے میں ایک جگہ خودتحریر فرماتے ہیں:</p>
<p>” فقیر کے یہاں علاوہ ردِّ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالیٰ ودیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے کارِ فتویٰ اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے،شہر ودیگر بلادو امصار، جملہ اقطار ہندوستان وبنگال وپنجاب ومالیبار وبرہما وارکان و چین وغزنی وامریکہ وافریقہ حتی کہ سرکارحرمین محترمین سے استفتاآتے ہیںاورایک ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہوجاتے ہیں“۔)[8](</p>
<p>ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب رقم طراز ہیں:</p>
<p>” امام احمد رضا کے مطالعہ وتحقیق کا معیار بھی بہت بلند تھا ، انھوں نے لکھی لکھائی اور سنی سنائی پر تکیہ نہ فرمایا، بلکہ اصل متون کا خود مطالعہ فرمایااور جب تک خود مطمئن نہ ہوتے حوالہ نہ دیتے ،ان کے پایۂ تحقیق کا اندازہ ” حجب العوار عن مخدوم بہار“کے مطالعہ سے ہوتاہےجس میں انھوں نے متن کتاب کی تحقیق سے متعلق وہ وہ نکات واصول بیان فرمائے ہیں جو دَور جدید کے محققین کے وہم وخیال میں بھی نہیں اور دنیا کا کوئی محقق متن کے لیے یہ اہتمام نہیں کرتاجو امام احمد رضا فرماتے تھے۔امام احمد رضا نے اپنی تمام نگارشات میں اصول تحقیق کا پورا پورا خیال رکھاہے۔وہ ایک محتاط محقق ، عاقبت اندیش مدبر اور بلند پایہ مفکر تھے“۔)[9](</p>
<p>●اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗکے علمی فضل وکمال اور مختلف زبان وادب پر قدرت کاملہ کا عالم یہ ہے کہ اردو ، عربی ، فارسی ،منظوم ، منثور جس زبان اور جس انداز میں استفتاہوا ، اسی زبان اور اسی انداز میں اس کا جواب مرحمت فرمایا،جسے دیکھ کر ارباب علم ودانش بھی حیرت زدہ رہ گئے ۔نواب سلطان احمد خان صاحب بریلوی نے منظوم استفتا کیا تو آپ نے جواب بھی منظوم ہی عطافرمایا۔وہ استفتا اور جواب دونوں فتاویٰ رضویہ میں اس طرح درج ہیں:</p>
<p>مسئلہ : مسئولہ نواب سلطان احمد خاں صاحب، بریلی ( سوال منظوم )</p>
<p>الجواب ( منظوم)</p>
<p>نظم کی تنگ دامانیکے باوجود جواب میں اصول افتاکی پوری رعایت موجودہے ۔3کتب فقہ کی عبارتوں کا مفہوم بھی مذکور ہے ۔4ان کے نام بھی مرسوم ہیں ۔5اختلاف کا اشارہ اورترجیح وتصحیح کی تصریح بھی مرقوم ہے ۔6اورجو حکم اپنی طرف سے ازراہِ تفقّہ بیان کیا اُس کی دلیل بھی مسطور ہے ۔7ان سب کے ساتھ اہل افتا کی روایتی عبارت ” واللہ أعلم “ بھی دونوں سوالوں کےجواب میں ایک خاص جِدّت وجَودت کےساتھمنظوم ہے۔8جواب میں بھی اُسی وزن وبحر کی پابندی ہے جو سوالمیں ہے ۔فاعلاتن ،فاعلاتن ، فاعلاتن ، فاعلات(بحر رمل ، مُثمّن، مقصور) فللّٰہ دَرُّہ ، ما أمْہَرَہٗ في الشعروالفقہ۔تفصیل کےلیے دیکھیے استاذ گرامی حضرت علامہ محمد احمد مصباحی مدظلہکا مضمون ” امام احمد رضا بریلوی کے افتا کی ایک خصوصیت “ مطبوعہ ماہ نامہ پاسبان ، الٰہ آباد ، شمارہ جولائی ۱۹۷۹ء۔</p>
<p>6امام احمد رضا اورتحقیق انیق:</p>
<p>علم کا دریا ہوا ہے موجزن تحریر میں جب قلم تونے اٹھایا اے امام احمد رضا</p>
<p> خلق کو وہ فیض بخشا علم سے بس کیاکہوں علم کا دریا بہایا اے امام احمد رضا</p>
<p>●کن چیزوں سےتیمم کرنا جائز ہے اور کن سے ناجائزہے۔یہ مسئلہ تقریبا فقہ کی تمام کتابوں میں موجود ہے،مگر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے پہلے فقہاے کرام نے اس سلسلے میں جو تحقیقات پیش کی ہیں، ان سب کا حاصل یہ ہے کہ جن چیزوں سے تیمم کرنا جائز ہے ان کی کل تعدادچوہتر (۷۴)ہے اور جن سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے، ان کی كل تعداداٹھاون(۵۸)ہے۔</p>
<p>جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اس مسئلہ کی تحقیق کی تو ایک سو اکّاسی (۱۸۱) چیزیں وہ بیان فرمائیں جن سے تیمم کرنا جائز ہے،گویا انھوں نےاپنی خداداد فقہی بصیرت کی روشنی میں فقہاے کرام کی بیان کردہ چوہتر (۷۴)اشیاپر ایک سو سات(۱۰۷) اشیا کا اضافہ فرمایاــــــاسی طرح ایک سو تیس(۱۳۰) چیزیں وہ بیان فرمائیں جن سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ،گویا پیش رَو فقہاےکرام کی ذکر کردہ اٹھاون(۵۸) اشیا پر مزید بہتر(۷۲) اشیا کا اضافہ فرمایا۔چنا ن چہ آپ اس مسئلہ پر مفصل تحقیقی بحث فرمانے کے بعد یوں رقم طراز ہیں:</p>
<p>”یہ تین سوگیارہ)۳۱۱(چیزوں کابیان ہے۔ایک سو اکیاسی )۱۸۱(سے تیمم جائز ،جن میں چوہتر(۷۴)منصوص اورایک سو سات (۱۰۷)زیاداتِ فقیر اورایک سو تیس (۱۳۰)سے ناجائز، جن میں اٹھاون(۵۸)منصوص اوربہتر(۷۲)زیاداتِ فقیر۔</p>
<p>(پھر آگےتحدیث نعمت کے طور پر فرماتے ہیں:) ایساجامع بیان اس تحریر کے غیرمیں نہ ملے گا ،بلکہ زیادات درکنار، اتنے منصوصات کااستخراج بھی سہل نہ ہوسکے گا۔وللٰہ الحمد أولا واٰخرا،وبہالتوفیقباطناوظاھرا،وصلیاللٰہتعالیٰوسلمعلیٰحبیبہواٰلہوصحبہمتوافرامتکاثرا،اٰمین۔)[11](</p>
<p>●حضور اقدس ﷺنے اپنی حیات ِمبارکہ میں بذاتِ خود اذان دی ہے یا نہیں ؟اس سلسلے میں علماے کرام کے دو قول ہیں:</p>
<p>(۱)آپ نے ایک مرتبہ بذاتِ خود اذان دی ہے جیسا کہ امام ترمذی کی روایت سے ثابت ہے۔(۲) آپ نےبذات خودکبھی اذان نہیں دی ہے ،اور امام ترمذی کی روایت میں جو حضور اقدس ﷺ کی طرف اذان کی اسنا د ہے ، وہ اسنادمجازی ہے۔</p>
<p>علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں:”عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے خود اذان دی ہے یا نہیں؟امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ حضور اقدس ﷺنے دورانِ سفر خود اذان دی اور صحابہ کو نماز پڑھائی۔امام نووی نے اس پر جزم کرتے ہوئے اسے قوی قرار دیا، لیکن اسی طریق سے مسند احمد میں ہے کہ آپ نے بلال کو حکم دیاتو انھوں نے اذان کہی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ترمذی کی روایت میں اختصار ہے اور ان کے قول”أذَّنَ“کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔</p>
<p>اس سے معلوم ہوتاہے کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا موقف یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے کبھی بذاتِ خود اذان نہیں دی ہے اور امام ترمذی کی روایت میں جوحضور اقدس ﷺ کی طرف اذان کی اسنا د ہے، وہ اسنادمجازی ہے۔</p>
<p>لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی تحقیق یہ ہےکہ حضور اقدس ﷺ نے بنفس نفیس اذان دی ہے ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابن حجر مکّی کی کتاب ”تحفہ “ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سفر میں ایک دفعہ اذان دی اور کلماتِ شہادت یوں کہے أشْہَدُأنّيْ رَسُوْلُ اﷲ(میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں)اور ابنِ حجر نے اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ نص مفسر ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں؛اس ليے کہ اگر آپ نے بذاتِ خود اذان نہ دی ہوتی تو روایت میں أشْہَدُأنّيْ رَسُوْلُ اﷲکی بجاے أشْہَدُأنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اﷲکے الفاظ وارد ہوتے۔اور اس سے امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کو تقویت بھی ملتی ہے ۔)[12](</p>
<p>●جنب نے بدن کا کچھ حصہ دھویا، کچھ باقی رہاکہ پانی ختم ہوگیا،پھر حدث ہوا کہ موجب وضوہے ،اب جو پانی ملے اسے وضو اور رفع حدث میں صرف کرے یا بقیہ جنابت کے دھونے میں ۔یہ مسئلہ لُـمْعَہ ہے ۔</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ نے اس مسئلہ کی وہ تحقیق وتفصیل مع حوالہ جات بیان فرمائی کہ فقہ کی کسی کتاب میں اس کا چوتھائی حصہ بھی نہیں ملے گا۔وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤتِیْہِ مَن یَّشَاء۔</p>
<p>فقہ کی ہر کتاب میں لمعہ کی صورتیں مع احکام مندرج ہیں ،سب سے زیادہ صورتیں شرح وقایہ کے اندر بیان ہوئی ہیں،جن کا شمار پندرہ ہے ،لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ نے علی حدہ علی حدہ گن کر لمعہ کی اٹھانویں صورتیں بیان فرمائیں اور ہر صورت کا مدلل شرعی حکم واضح کیا ، چوں کہ بعض صورتوں کا حکم ایک ہی جیساہے،لہذا اٹھانویں صورتوں کے احکام کی تعداد تیس بیان فرمائی ۔اور اس کے بارے میں ایک رسالہ لکھاجس کا نام ہے ” مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ[۱۳۳۶ھ]“۔اس رسالہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں:</p>
<p>” مسئلہ لُمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے ہوئیں،کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے، اگر ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیںگی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں اٹھانوے میں سے صرف پندرہ، ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اصناف ہی کا احاطہ نہ فرمایا صور درکنار“۔)[13](</p>
<p>پھراس مسئلہ میں فقہا کے جو اختلافات واضطرابات ہیں ، ان سے متعلق عبارتیں نقل کرکے انھیں رفع کیا، پھر فقہا ے متقدمین سےآسان اور جامع ضابطۂ کلیہ بیان کردیا ، علاوہ ازیں جب نجاست حکمیہ اور حقیقیہ کا اجتماع ہوجائے اور پانی صرف ایک کے لیے بقدر کفایت موجود ہو۔نیز جب حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں کا اجتماع ہوجائے اورپانی اتنا ہو کہ صرف ایک حدث کے لیے کافی ہوسکے ، ان دونوں صورتوں سے متعلق عباراتِ علما نقل کرکے ان پر کلام کیا اورواضح فرمایاکہ اس مسئلہ میں ترجیح ، محرر مذہب ، امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کو ہے۔چنان چہ وہ فرماتے ہیں:</p>
<p>”بالجملہحاصل تحقیق یہ ہوا کہ اگر کپڑے یا بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ مانعہ ہے اور وضو نہیں اور پانی اتنا ملا کہ چاہے نجاست دھولے، چاہے وضو کرلے ، دونوں نہیں ہوسکتے تو واجب ہے کہ اُس سے نجاست ہی دھوئے، اگر خلاف کرے گا گنہگار ہوگا ،حدث کےلیے تیمم کرے خواہ نجاست دھونے سے پہلے یا بعد اور بعد اَولیٰ ہے کہ خلاف علماسے بچنا ہے اور اسی لیے اگر پہلے کرچکا ہے نجاست دھونے کے بعد دوبارہ تیمم کرلینا انسب واحری ہے۔</p>
<p> اور اگر جنابت کا لمعہ باقی ہے اور حدث بھی ہوا اور وہ لمعہ غیر مواضع وضو میں ہے یا کچھ مواضع وضو کے ایک حصے میں کچھ دوسرے عضو میں اور پانی اتنا ملا کہ دونوں میں جس ایک کو چاہے دھولے ،دونوں نہیں ہوسکتے تو اُس پانی کو لمعہ دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلیے لازم کہ جب پانی خرچ ہولے اس کے بعد تیمم کرے، اگرچہ پہلے بھی کرچکا ہوکہ وہ منتقض ہوگیا ،ظاہر ہے کہ تیمم بعد کو کرنے یا بعد کو دوبارہ کرلینے میں نہ کچھ خرچ ہے نہ کچھ حرج۔ تو اگر قول امام محمد کی صریح تصحیح نہ بھی ہوتی ،خلاف ائمہ سے خروج کے لیے اسی پر عمل مناسب ومندوب ہوتا، نہ کہ اس طرف صراحۃً لفظ اصح موجود اور یہی دلیل کی رُو سے ظاہرتر اور اسی میں احتیاط اور امر نماز میں احتیاط باعث فلاح وصلاح“۔)[14](</p>
<p>آخر میں آپ نے حقیقت واقعیہ کا یوں اظہار فرمایاہےجو کافیعبرت آموز اورفکر انگیز ہے:</p>
<p>” الحمدللہ کتاب مستطاب”حسن التعمّم لبیان حدّ التیمم“ مسودۂ فقیر سےاٹھارہ(۱۸)جز سے زائد میں باحسن وجوہ تمام ہوئی جس میں صدہا وہ ابحاثِ جلیلہ ہیں کہ قطعاً طاقتِ فقیر سے بدر جہاورا ہیں ،مگر فیض قد یر عاجز فقیر سے وہ کام لے لیتا ہے جسے دیکھ کر انصاف والی نگاہیں کہ حسد سے پاک ہوں ناخواستہ کہہ اٹھیں ،ع:کم ترک الأول للآخر۔کتنے مسائل جلیلہ معرکۃ الآرا بحمدہٖ تعالیٰ کیسی خُوبی وخوش اسلوبی سے طے ہوئے وللٰہ الحمد کتاب میں اصل مضمون کے علاوہ آٹھرسائل ہیں۔ ۔ ۔بہرحال جو کچھ ہے میری قدرت سے ورا اور محض فضل میرے رب کریم پھر میرے نبی رؤف رحیم کا ہےجلّ وعلا وﷺ“۔)[15](</p>
<p>7امام احمد رضا اورتطبیق بین الاقوال :</p>
<p> تیری شان عالمانہ نے یہ ثابت کردیا تجھ کو زیباہے امامت ،سیدی احمد رضا</p>
<p>مختلف اقوال میں جمع و تطبیق بڑا اہم اورمشکل کام ہے ، یہ کام وہی انجام دے سکتاہے جو اس فن کا متبحر عالم،وسعت نظر کا مالک اور جزئیات کا حافظ ہو ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی تصانیف جلیلہ اور ان کی فکر انگیز تحقیقات عالیہ میں اس کی مثالیں بکثرت موجودہیں۔فتاویٰ رضویہ سے اس کی ایک مثال نذر قارئین ہے:</p>
<p>●وضو یاغسل میں بلاوجہ پانی خرچ کرنے کے بارے میں فقہاے کرام کے درمیان سخت اختلاف پایاجاتاہے، چنان چہ علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں اورعلامہ طحطاوی نے شرح درمختارمیں بلاوجہ پانی صرف کرنے کو حرام ٹھہرایا۔مدقق علائی نےدرمختار میں مکروہ تحریمی قرار دیا۔بحرالرئق میں اسے مکروہ تنزیہی شمار کیا۔محقق علی الاطلاق امام بن ہمام نے فتح القدیر میں خلاف اولیٰ ہونے پر اعتمادکیا۔</p>
<p>الحاصل اس مسئلہ میں فقہاے کرام کے چار اقوال ہیں:حرام ، مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی او رخلاف اولیٰ ۔بظاہر ان اقوال میں شدید اختلاف ہے ، لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقدس سرہٗ نے اپنی خداداد صلاحیت اور فقہی بصیرت سے تطبیق کی ایسی صورت بیان فرمائی جس سے اختلاف یکسر ختم ہوجاتاہے ۔اس تطبیق کا ماحصل یہ ہے :</p>
<p> (۱) وضو یاغسل میں سنت سمجھ کر بلاحاجت پانی خرچ کیا جائے تو حرام ہے ۔(۲) بلا اعتقاد سنیت وبلاحاجت وضو یا غسل میں پانی خر چ کرے کہ وہ پانی ضائع ہوتو مکروہ تحریمی ہے ۔(۳) نہ تو سنت کا اعتقاد ہو، نہ پانی ضائع کرنے کا ارادہ ، لیکن عادۃً بلا وجہ زیادہ پانی خرچ کرتاہوتو مکروہ تنزیہی ہے ۔(۴) نہ اعتقاد سنت ہو ، نہ پانی ضائع کرنے کا ارادہ ، نہ ہی بلا ضرورت خرچ کرنے کی عادت ہو، بلکہ نادراً بلاضرورت پانی خرچ ہوجائے تو خلافِ اولیٰ ہے۔چنان چہ مسئلۂ دائرہ سے متعلق تفصیلی کلام کرنے کے بعد فرماتے ہیں:</p>
<p>”بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا،بے حاجت زیادت اگر باعتقاد ِسنیت ہو، مطلقاً ناجائز وگناہ ہے اگرچہ دریا میں۔ اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقاً مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد ِسنیت نہ ہو۔ اور اگر نہ فسادِ عقیدت، نہ اضاعت تو خلافِ ادب ہے، مگر عادت کرلے تو مکروہ ِتنزیہی ۔یہ ہے بحمداللہ تعالیٰ فقہ جامع وفکر نافع ودرک بالغ ونور بازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحُسن تحقیق وعطر تدقیق وباللّٰہ التوفیق والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔)[16](</p>
<p>اس تضاد کو ختم کرنے کے ساتھ یہ بھی افادہ فرمایا کہ یہ اسراف فی الوضوء کی وہ صورتیں ہیں جو ناپسندیدہ ہیں،لیکن ایک صورت ایسی بھی ہے جس میں زیادہ پانی خرچ کرنا جائز ہےیعنی خلاف اولیٰ بھی نہیں ہے۔ پھر اس کی چار اقسام بیان فرمائیں:</p>
<p>(۱) بدن سے گندگی اور میل کا ازالہ اور تنظیف کی خاطر تین بار سے زیادہ دھویاجائے۔(۲) گرمی کی شدت سے بچنے اور بدن کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے تین بار سے زیادہ دھویاجائے۔(۳) اس نیت سے تین مرتبہ سے زیادہ دھویا جائے کہ وضو نور علی نور ہے۔(۴) دو یا تین بار میں شک پڑجائے تو ازالۂ ریب کی خاطر مقدار اقل پر بنا کرکے ایک بار اور دھوئے۔چنان چہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:</p>
<p>”یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جب کہ کسی غرض صحیح سے ہو ،ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا ،نہ خود معصیت ہے، نہ بے کار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں اُن پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضو سے مستثنی بتایا ،نیز تبریدؔ وتنظیفؔ کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماےکرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا:(۱) یہ کہ وضو علی الوضوء کی نیت کرے کہ نور علیٰ نور ہے۔(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شک واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلاً شک ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاوں شاید دو ہی بار دھویا تو ایک بار اور دھولے، اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایک بار کا خیال ہوا تو دوبار، اور یہ شک پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے، یہ اسراف نہیں کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔)[17](</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ نےیہ تطبیق وتوضیح یوں ہی نہیں کردیہے ، بلکہ اس کو دلائل وبراہین اور فقہا کی عبارتوں سے روشن بھی فرمایاہے۔یہ ہے آپکا وہ علمی ، فقہی اور تحقیقی کمال کہ جسے دیکھ کر بڑے بڑے علما وفضلا بھی انگشت بدنداں ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ :</p>
<p> ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خداے بخشندہ)[18](</p>
<p>8امام احمد رضا اورحوالوں کی کثرت :</p>
<p>کسی مسئلہ کے اثبات میں کثیر حوالے وہی شخص پیش کرسکتاہے جس کا مطالعہ وسیع ، حافظہ قوی اورجزئیات مستحضر ہوں ۔اس سلسلے میں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ اپنی مثال آپ ہیں۔آپ کی نظر اتنی وسیع وعمیق تھی کہ بسا اوقات اپنے موقف کی تائید وتقویت میں دس بیس نہیں ،بلکہ پچاسوں کتابوں کے حوالے رقم کرتے چلے جاتے تھے۔اس کے چند شواہد درج ذیل ہیں:</p>
<p>●سجدۂ تحیت حرام ہے۔ــــــاس کےثبوت میں آپ نے آیت وتفاسیر کے علاوہ چالیس احادیث اور ایک سوپچاس نصوص فقہ نقل کیے ہیں۔</p>
<p>یہ ایک مستقل رسالہ ہے جس کا نام ” الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃـــ ۱۳۳۷ھ “ہے۔)[19](</p>
<p>● داڑھی منڈانا ممنوع وناجائز ہے۔ــــــاس کے ثبوت میں آپ نے ایک مستقل رسالہ بنام”لَـمعۃُ الضُّحیٰ فيإعفاء اللُّحیٰـــ ۱۳۱۵ھ“ تحریر فرمایا،جس میں اٹھارہ آیتوں ، بہتر حدیثوں اور ساٹھ ارشادات فقہا نقل فرمائےجو آپ کی وسعت نظر اور استحضار پر بین دلیل ہے۔اس رسالے کے آخر میں خود فرماتے ہیں:الحمدللہ یہ مختصر رسالہ جس میں علاوہ زوائد کے اصل مقصد میں اٹھارہ آیتوں بہتر حدیثوں ساٹھ ارشادات علماجملہ ڈیڑھ سو نصوص نے باطل کاازہاق، حق کا احقاق کیا“۔)[20](</p>
<p>●کتا نجس العین ہے یا نہیں ؟ــــــ اس تعلق سے ایک طویل استفتا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی خدمت میں آیا ،جو اس امر کا مقتضی تھا کہ اس کا جواب بھی تفصیل کے ساتھ دلائل وبراہین سے مزین ہو؛اس لیے آپ نے پہلے احادیث وشروح احادیث سے اصل مسئلہ کی وضاحت فرمائی اور اس کے بعد پچاس سے زائد کتب فقہ کے حوالے سے اپنا جواب مدلل ومبرہن فرمایا،اورفتویٰ کا آغازاس طرح کیا:</p>
<p>”قول زید اصح وارجح واحق بالقبول واوفق بالمنقول والمعقول ہے۔اور اس کے اکثر دلائل وجوابات صحیح ونجیح وقابل قبول، فی الواقع ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں یہ جانور سائر سباع کے مانند ہے کہ لعاب نجس اور عین طاہر، یہی مذہب ہے صحیح واصح ومعتمد ومؤید بدلائل قرآن وحدیث ومختار وماخوذ للفتویٰ عند جمہور مشایخ القدیم والحدیث ہے“۔)[21](</p>
<p>تفصیل کے لیے اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کا رسالہ”سلب الثلب عن القائلین بطہارۃ الکلب [۱۳۱۳ھ]“ کا مطالعہ کریں۔</p>
<p>9امام احمد رضا اورعلوم قرآن :</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ علوم قرآن کے ماہر تھے ، قرآن فہمی کے لیے جن علوم وفنون کی ضرورت ہوتی ہے،ان سب پر انھیں کامل عبور حاصل تھا، شان نزول اور ناسخ ومنسوخ سے پوری طرح باخبرتھے۔ان کی تفسیر ی مہارت کا ایک شاہکاراورقرآن فہمی کابیّن ثبوت ان کا ترجمۂ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ بھی ہے جس کے بارے میں محدثِ اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد اشرفی، کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(متوفیٰ:۱۳۸۱ھ/۱۹۶۱ء) فرماتے ہیں :</p>
<p>” علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجیے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے ، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے ،مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں (روح )قرآنہے،استرجمہ کی شرح حضرت صدرالافاضل استاذ العلماء مولاناشاہ نعیم الدین علیہ الرحمہ نے حاشیہ پر لکھی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ دَوران شرح ایسا کئی بارہوا کہ اعلیٰ حضرت کے استعمال کردہ لفظ کے مقام استنباط کی تلاش میں دن پر دن گزرےاوررات پررات کٹتی رہی اوربالآخرماخذ ملا توترجمہ کا لفظ اٹل ہی نکلا۔اعلیٰ حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمے کو سراہا کرتے تھے ،لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمہ کو پاتے تو فرماہی دیتے کہ ” ترجمۂ قرآن شے دیگر است وعلم القرآن شے دیگر“۔)[22](</p>
<p>قرآن کریم کا یہ ترجمہ علمی ، ادبی ، اعتقادی ہرحیثیت سے معیاری اور قرآن کی حقیقی جھلک کا آئینہ دار ہے،اس سے قرآنی حقائق ومعارف کے وہ اسرارورموز منکشف ہوتے ہیں جو عام طورسے دیگر تراجم سے واضح نہیں ہوتے،یہ ترجمہ سلیس وشگفتہ ہونے کے ساتھ انبیاے کرام علیہم السلام کے ادب واحترام اور ان کی عزت وعصمت کی پاس داری میں اپنی مثال آپ ہے۔</p>
<p>پھر یہ ترجمہ کس طرح معرض ِ وجو د میں آیا، اس کے بارے میں مولانا بد ر الدین احمدقادری رضوی یوں تحریر فرماتے ہیں:</p>
<p>”یہ معلوم کرکے ناظرین کو سخت حیرت ہوگی کہ اتنی کثیر خوبیوں والا ترجمہ بغیر کسی کتاب کی مدد کے اور بغیر کسی تیاری کے عالم ظہور میں آیا۔واقعہ یوں ہے کہ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کی ضرورت پیش کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت سے ترجمہ کر دینے کی گزارش کی ۔ آپ نے وعدہ تو فرمالیا، لیکن دوسرے مشاغل ِ د ینیہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی ،جب حضرت صدر الشریعہکی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا: چوں کہ ترجمہ کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے ؛اس لیے آپ رات میں سوتے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں ۔چنان چہ حضرتِ صدر الشریعہ ایک دن کاغذ قلم اور دوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہو گیا۔</p>
<p>ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیاتِ کریمہ کا ترجمہ بولتےجاتے اور صدر الشریعہ اس کو لکھتے رہتے ،لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب ِتفسیر و لغت کو ملاحظہ فرماتے ،بعدہٗ آیت کے معنی کو سوچتے ،پھر ترجمہ بیان کرتے، بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہبرجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوتِ حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف فرفر، فرفر پڑھتا جاتا ہے، پھر جب حضرتِصدر الشریعہاور دیگر علماے حاضر ین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب ِتفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ آ پ کا یہ برجستہ فی البدیہترجمہ تفاسیر ِمعتبرہ کے بالکل مطابق ہے۔</p>
<p>الغرض اِسی قلیل وقت میں ترجمہ کا کام ہوتا رہا،پھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرتِ صدر الشریعہنے اعلیٰ حضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کر الیا اور آپ کی کوششِ بلیغ کی بدولت دنیاے سنیت کو’’ کنز الایمان ‘‘کی دولت ِعظمیٰ نصیب ہوئی ۔فجزاہ اللہ تعالیٰ عن أہل السنۃ جزاءکثیرا وأجرا جزیلا“۔)[23](</p>
<p>آپ کے قلم سے نکلے ہوئے بعض تفسیری حواشی بھی ہیں ، مثلا : 1الزلال الانقیٰ من بحرسبقۃ الاتقیٰ[۱۳۰۰ھ]۔2حاشیہ تفسیر بیضاوی شریف۔3حاشیۃ عنایۃ القاضی۔4حاشیۃ معالم التنزیل۔5حاشیۃ الاتقان فی علوم القرآن۔ 6حاشیۃ الدرالمنثور۔7حاشیہ تفسیر خازن ۔یہ تمام حواشی عربی زبان میں ہیں۔)[24](</p>
<p>مولانا محمدحنیف خان رضوی بریلوی نے اعلیٰ حضرت کی کتب میں سے انتخاب کر کے چھ سو آیات پر مشتمل تفسیر ی مباحث جمع کر کے شائع کر دیے ہیں جو بڑی سائز کی تین جلدوں(جامع الاحادیث جلد۷ 8-9) پر محیط ہیں،جن کو پڑھ کر منصف مزاج حضرات اس بات کا ضرور اعتراف کریں گے کہ جو شخصیت ان آیات کی اس طرح محققانہ انداز میں تفسیر کرسکتی ہے ،وہ بلاشبہ پور ے قرآن کی تفسیر پر قادرتھی اور تمام مضامینِ قرآن اُس کے پیش نظر تھے ۔</p>
<p>:امام احمد رضا اورعلوم حدیث:</p>
<p> اے مفسر، اے محدث، اے فقیہ بےمثال ہمسر اوج ثریا ہے ترا علمی مقام</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقدس سرہٗ ایک بلند پایہ محدث بھی تھے،ان کے سینے میں احادیث کریمہ کا بحر بیکراں موجزن تھا ،علوم حدیث پر ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا چنان چہ جب ان سے پوچھا گیا کہ حدیث کی کتابوں میں کون کون سی کتابیں پڑھی یا پڑھائی ہیں توانھوں نے جواب دیاکہپچاس سے زائد کتبِ حدیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں :</p>
<p>”مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، کتا ب الآثارامام محمد،کتاب الخراج امام ابویوسف، کتاب الحجج امام محمد، شرح معانی الاثار امام طحاوی، مؤطاامام مالک، مسند ِامام شافعی، مسندِ امام محمد وسننِ دارمی، بخاری و مسلم، ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابنِ ماجہ وخصائص نسائی، منتقی ابن الجا رود و ذوعلل متناہیہ و مشکوٰۃ و جامع کبیر و جامع صغیر ومنتقی ابن تیمیہ وبلوغ المرام، عمل الیوم واللیلہ ابن السنی وکتاب الترغیب وخصائص ِکبریٰ وکتاب الفرج بعد الشدَّۃ وکتاب الاسماء و الصفات و غیرہ پچاس سے زائد کتبِ حدیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں‘‘۔)[25](</p>
<p>جب کوئی بالغ نظر ،صاحب فکر وبصیرت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقدس سرہٗکی تصنیفات وفتاویٰ کا مطالعہ کرتاہے تووہ برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ امام احمد رضاقدس سرہٗ علوم حدیث میں یگانۂ روزگار ہیں،حدیث کی صحت وسقم کا مسئلہ ہو یا طرقِ حدیثاور اسماء الرجال کی گفتگو ہو ، ہر ایک میں آپ ممتاز نظر آتے ہیں۔</p>
<p>محدث اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد اشرفی، کچھوچھوی علیہ الرحمہ آپ کے علم الحدیث کے تعلق سے یوں رقم طراز ہیں:</p>
<p>”علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجیے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زَد پڑتی ہے ان کی روایت ودرایت کی خامیاں ہر وقت ازبر ،علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماء الرجال کا ہے ، اعلیٰ حضرت (امام احمد رضا) کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیاجاتاتو ہر راوی کے لیے جرح وتعدیل کے جوالفاظ فرمادیتے تھے ،اٹھا کردیکھاجاتاتو تقریب وتہذیب وتذہیب میں وہی لفظ مل جاتاتھا۔یحییٰ نام کے سیکڑوں راویان حدیث ہیں، لیکن جس یحییٰ کے طبقہ اوراستاذ وشاگرد کانام بتادیاتو اس فن کےاعلیٰ حضرت خود موجد تھے کہ طبقہ واسماسے بتادیتے تھے کہ راوی ثقہ ہے یا مجروح۔اس کو کہتے ہیں علم راسخ او ر علم حدیث سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت اورخداداد علمی کرامت “۔)[26](</p>
<p>یقینا فنِ حدیث میں اُ ن کی جو خدمات جلیلہ ہیں، ان سے اُن کی علمِ حدیث میں بصیرت و وسعت کا اندازہ ہوتا ہے ،حدیث کی معرفت اور اس کی صحت وعدم ِصحت، ضعف وسقم وغیرہ جملہ علومِ حدیث میں جو مہارتِ تامہ اُن کو حاصل تھی وہ بہت دور تک نظر نہیں آتی ہے اور یہ چیزیں ان کی کتب و رسائل میں مختلف انداز پر ہیں،کہیں تفصیل کے ساتھ مستقلاً ذکر ہے اورکہیں اختصار کے ساتھ ضمناً اور کہیں کہیں حدیث و معرفت ِحدیث اور مبادیِ حدیث پر ایسی نفیس اور شاندار بحثیں ہیں کہ اگر ان ابحاث کو امام بخاری وامام مسلم بھی دیکھتے تو اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔</p>
<p>حضرت مولانا محمد حنیف خان رضوی بریلوی نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی تقریبا تین سو تصانیف سےساڑھےچار ہزار (۴۵۰۰) احادیث یکجا کرکے” جامع الاحادیث“کے نام سے شائع کیاہے۔فجزاہ اللہ تعالیٰ خیرالجزاء۔</p>
<p>;امام احمد رضااور علم رِیاضی :</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ دیگر علوم وفنون کی طرح علمِ رِیاضی میں بھی یگانۂ رُوزگار تھے،اس کا ایک نمونہ حیات اعلیٰ حضرت سے ہدیۂ قارئین کرتے ہیں:</p>
<p>” علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین جو کہ رِیاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تَمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے ،وہ امام احمد رضا قدس سرہ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ ارشاد ہوا: فرمائیے! انھوں نے کہا : وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی جلدی عرض کردوں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا:آخر کچھ تو فرمائیے۔غرض وائس چانسلر صاحب نے سوال پیش کردیا۔ اعلیٰ حضرت نے سنتے ہی فرمایا : اس کا جواب یہ ہے۔یہ سن کر ان کو حیرت ہوئی اور گویا آنکھ سے پردہ اٹھ گیا،بے اختیار بول پڑے :میں سنا کرتاتھا کہ علم لدنی بھی کوئی شے ہے ،آج آنکھ سے دیکھ لیا۔ میں تو اس مسئلہ کے حل کےلیے جرمن جانا چاہتا تھاکہ ہمارے دینیات کے پروفیسر جناب سید سلیمان اشرف صاحب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضر ہوگیا۔مجھے جواب سن کر تو ایسا معلوم ہورہاہے کہ آپ اسی مسئلہ کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔</p>
<p> ڈاکٹر صاحب بصد فرحت و مسرت واپس تشریف لے گئے اور اعلیٰ حضرت کی شخضیت سے اس قدرمتاثر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوٰۃ کے بھی پورے پابند ہوگئے“۔)[27](</p>
<p><امام احمد رضا اور علم توقیت:</p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کوعلمِ توقیتمیں اس قدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملالیا کرتے تھے، وقت بِالکل صحیح ہوتا اور کبھی ایک منٹ کا بھی فرق نہیں پڑتاتھا۔حیات اعلیٰ حضرت میں ہے:</p>
<p>” ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت بدایون تشریف لے گئے، حضرت تاج الفحول محب الرسول مولانا شاہ عبدالقادر قادری برکاتی کے یہاں مہمان تھے، ’’مدرسہ قادریہ‘‘کی مسجد میں خود حضرت تاج الفحول امامت فرماتے ۔جب فجر کی تکبیر شروع ہوئی تو حضرت مولانا عبدالقادر صاحب نے اعلیٰ حضرت کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا ۔اعلیٰ حضرت نے نماز ِفجر کی امامت کی اور قراء ت اتنی طویل فرمائی کہ مولانا عبد القادرصاحب کو بعد سلام کے شک ہوا کہ آفتاب طلوع تو نہیں ہو گیا،مسجد سے نکل نکل کر لوگ آفتاب کی جانب دیکھنے لگے، یہ حال دیکھ کر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ ’’ آفتاب نکلنے میں ابھی تین منٹ اڑتالیس سیکنڈ باقی ہیں۔ یہ سن کر لوگ خاموش ہوگئے“۔)[28](اس فن میں آپ کی متعدد تصانیف ہیں ،مثلا:1سرالاوقات2درء القبح عن درک وقت الصبح3زیج الاوقاتللصوم والصلوات4تاج توقیت،وغیرہ۔</p>
<p>=امام احمد رضا اور علمِ تکسیر: </p>
<p>اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کو جن علوم میں مہارت تھی، ان ہی میں ایک علمِ تکسیر بھی ہے۔علم تکسیر کا مطلب یہ ہے کہ اعداد کو تقسیم کر کے تعویذ کے خانوں میں اس طرح لکھنا کہ ہر طرف کا مجموعہ برابر ہو۔ملک العلماء مولانا محمد ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ علم تکسیر کے تعلق سے فرماتے ہیں:</p>
<p>” علمِ تکسیر بھی اس زمانہ میں انھیں علوم میں سے ہے جس کے جاننے والے ہر صوبے میں ایک یا دو شخص ہوں گے، عوام کو اس سے کیا دلچسپی،علما کو اس سے کیا غرض، مشائخِ کرام جن کے یہاں کی اور جن کے کام کی چیز ہے ،سو میں سے اسی(۸۰) ایسے ملیں گے جو اپنے مشائخ کے مجموعۂ اعمال یا مجربات یانافع الخلائق سے نقوش اُلٹے سیدھے ،باقاعدہ یا بے قاعدہ لکھ دینا کافی سمجھتے ہیں ۔ اٹھارہ انیسفی صد نقشِ مثلث یا مربع قاعدۂ مشہورہ سے بھرلینا جانتے ہیں اور پوری چال سے نقوش بھرنا تو شاید چار پانچ سو میں سے دو ایک ہی کا حصہ ہو گا۔)[29](</p>
<p>ملک العلماءمولانامحمد ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ مزید تحریر فرماتے ہیں:</p>
<p>عرصے کی بات ہےکہ ایک شاہ صاحب کا میرے سامنے تعارف کرایاگیاکہ ”ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ فن تکسیر جانتے ہیں ۔میں سمجھ گیا ،میں نےان سے کہا : اس سے بڑھ کر اورکیا کمال ہو گا کہ آپ وہ فن جانتے ہیں جس کے جاننے والے روے زمین سے معدوم و مفقو د نہیں تو قلیل الوجود ضرور ہیں ۔اس پرشاہ صاحب نے فرمایا: مجھے معلوم ہواہے کہ جناب کو بھی فنِتکسیر کا علم ہے۔ میں نے کہا: یہ مخلصوں کا محض حسنِ ظن ہے،کسی فن کے چند قواعد کا جان لینا فن کی واقفیت نہیں کہلاتی ہے۔ہاں! اس فن سے یک گونہ دلچسپی ضرور ہے ۔</p>
<p>اس کے بعد میں نے اُن شا
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ

حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحم ة اللہ تعالیٰ علیہ

حضور مفتی اعظم، تعظیمِ نسبت اور ہمارا کردار
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز