معارف اشرف الفقہاء: تعارفی کرنیں..!
<p>نوساری کی سرزمین سے علمی کام…</p>
<p>حضور مفتی اعظم کے خلفا میں جو جہاں ہے؛ وہیں خوشبو بکھیر رہا ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کا ہے۔ صدرالشریعہ کے جوارِ علم ’’گھوسی‘‘ سے طلوع ہونے والا یہ ماہتاب ناگپور میں ایک سال قبل غروب ہو گیا۔ لیکن! اس کی کرنیں آج بھی جہانِ سُنیّت کو نورٌ علیٰ نور بنائے ہوئے ہے۔ بزمِ خطابت سے تطہیر فکر و نظر اور فروغِ مسلکِ اعلیٰ حضرت کا جو فریضہ مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ نے انجام دیا وہ مثالی ہے۔ بزمِ معرفت بھی آپ کی خدمات سے معطر ہے۔ سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی۔ دلوں کی بزم میں انقلاب برپا کیا۔ اعلیٰ حضرت کے پاکیزہ افکار کی خوشبو پھیلائی۔اشعارِ رضاؔ کی توضیح و تشریح کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کو دلوں میں بسایا۔</p>
<p>مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی (بانی دارالعلوم انوارِ رضا نوساری) نے حضور اشرف الفقہاء کی خدمات کو منصۂ شہود پر لانے کا عزم کیا۔ ’’معارفِ اشرف الفقہاء‘‘ کی اشاعت عرسِ اشرف الفقہاء کی بہاروں میں عمل میں آئی۔ "معارفِ اشرف الفقہاء" کے کل صفحات ۵۱۲؍ہیں۔ مشاہیر علما و مشائخ نیز محققینِ اہلِ سنت کی نگارشات شاملِ اشاعت ہیں۔ کل ابواب ۱٤؍ ہیں۔ جن کا اجمال اس طرح ہے:</p>
<p>پہلاباب: حیات و خدماتدوسرا باب: مشائخ و اساتذہتیسرا باب: فقہی بصیرتچوتھا باب: اخلاق و آدابپانچواں باب: خدمات کا تنوعچھٹا باب: یادوں کے نقوشساتواں باب: تابشِ فکر و نظرآٹھواں باب: خطبات کا تنوعنواں باب: انتخابِ کلامِ مجیبدسواں باب: بزم شعر و ادبگیارھواں باب: جادہ و منزلبارھواں باب: تحریری خدماتتیرھواں باب: تعزیتی پیغاماتچودھواں باب: مناقب</p>
<p>ترتیب کے فرائض مولانا سرفراز احمد ازہری پرنسپل دارالعلوم انوارِ رضا نوساری نے انجام دیے۔ معاونت ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی اور احقر غلام مصطفیٰ رضوی (نوری مشن مالیگاؤں) نے کی- دارالعلوم کے اساتذہ نے پروف ریڈنگ کی۔ مرتب نے جان دار اداریہ لکھا۔ جس میں منزل بہ منزل حضور اشرف الفقہاء کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یادوں کے نقوش تازہ کیے گئے۔ سوانحی رخ سے حضور اشرف الفقہاء کا انٹرویو بھی خاصا اہم ہے۔ معارفِ اشرف الفقہاء میں کئی جہتوں کو سمیٹا گیا ہے۔ کئی گلشن مہک رہے ہیں۔ کئی بزمیں سجی ہوئی ہیں۔ مطالعہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضور اشرف الفقہاء بزم میں رونق افروز ہیں۔ فیضِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری ہے۔ دل پذیر لحن سے فضا گونج رہی ہے۔ اشعارِ رضا کا خوشگوار ارتعاش ہے۔ ’’معارفِ اشرف الفقہاء‘‘ کی اشاعت وقت کا تقاضا ہے۔ اپنے اسلاف کے نقوش کو مشعلِ راہ بنانے والی نسلیں ان کی یادوں کے گلشن سجایا کرتی ہیں اور ان کے کارہاے نمایاں کو محفوظ کر کے فروغِ دین و سنیت کے کئی قصر تعمیر کرتی ہیں۔ یقیناً یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اشاعت کا فریضہ دارالعلوم انوارِ رضا نوساری نے انجام دیا- ٦ اگست ٢٠٢١ء جمعہ کی شام ساداتِ کرام کے ہاتھوں رائل انگلش میڈیم اسکول کی افتتاحی تقریب میں اجرا ہوا-</p>
<p>ازقلم : غلام مصطفیٰ رضوی، مالیگاؤں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

شہید یحییٰ سنوار کی وصیت!

غوث الرحمٰن خواجہ عبدالحلیم المعروف حضرت حاجی آغا (حضرت آغا بابجی صاحب)

ڈاکٹر سید وحید کوثر کرنولی ، منفرد لہجے کا شاعر
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 83 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 62 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 55 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 49 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 47 ویوز