استاذ کا خط شاگرد کے نام
<p>[شاگرد کا امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر استاذ کا خط]</p>
<p>عزیزم اوصاف سلمہٗ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام مسنون</p>
<p>اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے اور علم و عمل کی راہ پر خوشی و استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں گے۔ میں بھی یہاں بفضل الہی بخیر ہوں۔اور میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر (جائز)میدان میں کامیاب کرے اور آپ کی ہر کوشش کو قبول فرمائے۔(آمین)</p>
<p>آج یہ خوشی کی خبر ملی کہ آپ کے [جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی] ششماہی امتحان کا نتیجہ آیا ہے اور ماشاءاللہ آپ نے نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ دل بہت خوش ہوا اور بے حد فخر کا احساس ہوا کہ آپ نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے یہ قابلِ تحسین کامیابی حاصل کی۔ آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں! آپ نے جس طرح سے اس امتحان کی تیاری کی، وہ قابلِ تعریف ہے اور آپ کی علم سے محبت اور سنجیدگی کا مظہر ہے۔</p>
<p>بیٹا، علمِ دین کا حصول ایک عظیم نعمت ہے اور اللہ کی خاص توفیق کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا۔ آپ کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو علم کی دولت سے نواز رہا ہے اور آپ کو دین کی خدمت کے لیے تیار کر رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ علم کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہر کامیابی ایک نئی راہ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ آپ کو ہمیشہ محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، اور یاد رہے کہ علم کی روشنی کو نہ صرف اپنے لیے بل کہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنانا ہے۔</p>
<p>آپ نے جو نمایاں مقام حاصل کیا ہے، وہ آپ کی مسلسل محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے۔ آپ کا یہ شوق اور لگن علم دین کی طلب میں آپ کو مزید بلند مقامات تک لے جائے گا ان شاءاللہ۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر کامیابی عاجزی اور شکرگزاری، جفاکشی کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کریں، فارغ وقت میسر آۓ تو اپنے نیچے کی جماعت کے طلبہ کو کتابیں پڑھایا کریں اس سے صلاحیت تو بنے گی ہی نیز کتابیں ساری زبان زد رہیں گی۔</p>
<p>بیٹا اوصاف! آپ کو یاد ہوگا نا، ایک دن موبائل پر بات کرتے وقت کہا تھا کہ "بیٹا امتحان میں نمایاں نمبر لانے پر آپ کو ایک اچھا سا "قلم" تحفہ دوں گا" اب تو وہ وقت بھی آ پہنچا۔ اور ہاں "قلم" دینے کا وقت آیا تو مجھے ایک بات یاد آئی جس کے متعلق میں اکثر آپ سے موبائل پر گفت گوٗ کے دوران کہا کرتا ہے کہ "بیٹا " قلم" پکڑنا ضرور سیکھنا" یہ میرا محاوراتی جملہ تھا گویا میں آپ سے کہہ رہا تھا کہ بیٹا مضمون نگاری کی طرف خاصا دھیان دینا۔ یہ دور جتنا سوشل میڈیا کا ہے اتنا ہی قرطاس و قلم کا بھی۔</p>
<p>بارگاہ صمدیت جل و علا میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دین و دنیا دونوں میں کامیابیوں سے نوازے اور آپ کو علمِ دین میں مزید ترقی عطا فرمائے(آمین)آپ کے امتحانات میں کامیابی، آپ کی صلاحیتوں اور محنت کی دلیل ہے، اور مجھے یقین ہے کہ آپ آگے بھی اسی محنت اور جذبے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔</p>
<p>اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو دین کی خدمت کے لیے ایک روشن مثال بنائے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ "علمِ دین وہ دولت ہے جو انسان کو نہ صرف دنیا میں سرخرو کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا ضامن بنتا ہے"۔</p>
<p>والسلام</p>
<p>آصف جمیل امجدی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

ہمارے پیارے باشندگان سمرا اور قرب جوار کی بستیاں آپ کے جذبہ محبت کو سلام!

موسم سرما کی آمد آمد ہے!!

رام گری پنڈت کو سزا دی جائے
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز