غزل: خود ہی خود کو ستاتی ہوں
<p>خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>کبھی خود کو بناتی ہوں کبھی پھر ٹوٹ جاتی ہوںمیرے دل کی جو حالت ہے وہ میں رب کو سناتی ہوں</p>
<p>وہ جو ہر شۓ میں شامل ہے وہ ہے ہر راز سے واقفمیں اس کو یاد کرتی ہوں تو ہر غم بھول جاتی ہوں</p>
<p>سمجھ میں کچھ نہیں آتا مرے دل کی یہ حالت ہےکہ اس کو یاد کر کے میں خود ہی خود کو ستاتی ہوں</p>
<p>کبھی تیری کہانی سے زمانے کو ہنساتی تھیمیں اب اپنی کہانی سے زمانے کو رلاتی ہوں</p>
<p>خدا کے واسطے تم یاد اپنی ساتھ لے جاناتمہاری یاد آتی ہے تو میں مرجھا سی جاتی ہوں</p>
<p>یہ لہریں تلملا کر توڑ دیتی ہیں ہمیشہ گلؔسمندر کے کناروں پر میں جب بھی گھر بناتی ہوں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 78 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 47 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 45 ویوز

حضور اقدسﷺ کا اسوہ دونوں جہاں میں کامیاب بناتا ہے۔
👁 43 ویوز