غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا
📅 06-06-2025
👁 16 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
محمد شعیب رضا
<p>وہ جاتے ہوئے آسرا دے گياملیں گے کبھی پھر دعا دے گياوہ پل بھر کا مہمان اور عمر بھرمجھے جاگنے کی سزا دے گیارُلایا مجھے ایک عرصے تلکوہ ملنے کا مجھ کو پتا دے گیاوہ ماضی کے لمحوں پر چھڑکا نمکمجھے درد دل کی دوا دے گیاوہ جس کو محبت سے دیکھا کِیےیہ مرزا کو جی بھر دغا دے گیا</p>
<p>از قلم :مرزا بشارت کریم</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Rising Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز