غزل: اور تنہا ہو گئی ہوں نا
📅 11-04-2021
👁 1 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہما اکبر آفرین
<p>خیال آرائی: خوشبو پروین قریشی، حیدرآباد</p>
<p>زبانِ حال میں ماضی کا قصہ ہو گئی ہوں نامیں اس کے ساتھ رہ کر اور تنہا ہو گئی ہوں نا</p>
<p>مسلسل خشک دریا سے لگی چلتی رہی شایدتو اب لگتا ہے میں مانوسِ صحرا ہو گئی ہوں نا</p>
<p>گھنے بادل تو ہیں لیکن نہیں آثار بارش کےعجب سا ہجر موسم ہے میں تشنہ ہو گئی ہوں نا</p>
<p>دلاتی ہے یقیں کیوں میرے ہونے کا بھری دنیاگماں سے پوچھتی ہوں، کوئی دھوکا ہو گئی ہوں نا</p>
<p>سمندر تک پہنچنا ہے مگر اف دھوپ کی شدتمیں اپنی ذات میں خود خشک دریا ہو گئی ہوں نا</p>
<p>سبب شاید کسی کا یاد آجانا بنا خوشبومیں خود میں مر چکی تھی پھر سے زندہ ہو گئی ہوں نا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 82 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 47 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 46 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 45 ویوز