خدا کا پیارا انتخاب اور فاضل بریلوی کا یہ شعر
<p>محمد برائے جنابِ الہیجنابِ الہی برائے محمد ﷺ</p>
<p>ازقلم: سعدیہ بتول اشرفی (سبا)</p>
<p>مشکل الفاظ کے معنی:برائے:- واسطے ، لئےجناب:- بارگاہ</p>
<p>مطلبِ شعر:حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے لیے</p>
<p>نسیم الریاض میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق( بندوں ) کے دلوں کی طرف نظر فرمائی تو حضور ﷺ کے دل کو سب سے افضل پایا۔ فاصطفاہ لنفسہ_ پس ان کو اپنے لئے چن لیا ۔</p>
<p>نبئ اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے لئے اللہ تعالی حضور اکرم ﷺ کے لئے ھے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے چن لیا۔</p>
<p>معزز قارئین! آپﷺ کا ایک نام پاک ہے "مصطفی" چنا ہوا۔اب آپ غور فرمائیں!یہ کس نے چنا؟ کس میں چنا؟ کس کے لئے چنا؟ کب سے چنا؟ کب تک لئے چنا؟</p>
<p>میرے مرشد کریم اس کے تحت فرماتے ہیںکس میں چنا _ رسولوں کی جماعت میں سے چنا، جو پہلے ہی چنے ہوئے ہیں ان میں چنا۔</p>
<p>کب سے چنا_ انتخابی نظر پہلے ہی سے ڈالی " اللہ نے قبیلۂ کنانہ کو اولاد اسمعیل میں سے چن لیا" اور قبیلۂ کنانہ میں سے قریش کے خاندان کو چن لیا"اور قریش خاندان سے ہاشمی گھرانے کو چن لیا" اور مجھے ہاشمی گھرانے میں سے چن لیا۔</p>
<p>سبحان اللہ ! خالقِ کائنات نے چنا،کس نے چنا؟ علیم و خبیر نے چنا، سمیع و بصیر نے چنا، جس کے علم میں غلطی نہیں ہوسکتی۔یہ ہمارا تمہارا چننا نہیں ہے،ایک مرتبہ چن لو تو پانچ سال تک پچھتاؤ ، مگر خدا کا چننا، اپنی بنائ ہوئ کائنات میں چننااور جب خدا نے چن لیا تو اولاد اسمعیل میں قبیلۂ کنانہ کا جواب نہیںجب خدا نے چن لیا تو قبیلۂ کنانہ میں قریش کے خاندان کا جواب نہیں ، اور جب خدا نے چن لیا توخاندان قریش میں ہاشمی گھرانے کا جواب نہیں اور جب خدا نے چن لیا تو ہاشمی گھرانے میں محمد عربیﷺ کا جواب نہیں۔</p>
<p>جب خدا سے پوچھو گے کہ کس لئے چنا؟تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ ائے بندوں ہم نے تمہارے لئے چنا ہے "نہیں" ان کو ہم نے اپنے لئے چنا ہے۔پوچھا یہ دنیا کس لئے چنی ، دنیا کو کس لئے پیدا کیا ، کہا: دنیا ان کے لئے ہے یہ میرے لئے ہیں" ائے محبوب ہم نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ تیری معرفت کرادوں "تیری عظمتوں کی پہچان کرادوں اس لئے کہ اگر تجھے نہیں پہچانیں گے تو مجھے کیا پہچانیں گے</p>
<p>تو ائے محبوب ﷺ ہم نے تجھے ایسا چن لیا اور جب چن کے دنیا والوں کے سامنے بھیجاتو بے شمار حجابات کے ساتھ بھیجاتم کو اپنے لئے چنا ہے تو جو چیز مَیْں تم میں دیکھ رہا ہوں وہ کسی کو دیکھنے نہیں دوں گامیں نے اپنے لئے چنا ہے</p>
<p>اب سوال یہ ہوگا کہ آخر وہ کون سی چیز تھی جس کو خدا ہی دیکھ رہا ہے کوئ بندہ نہیں دیکھ رہا ہاں ایک چیز تھی ایک ایسا جمال تھا ایک ایسا حسن تھا اس حسن کو خدا یہ چاہتاہے کہ میرا حبیب ہے تو اس کے صحیح جمال کو میرے سوا کوئ نہ دیکھ سکے</p>
<p>یہ بھی بڑا احسان ہے کہ جمال پر پردہ ڈال کر بھیجا ورنہ ہم کیا تاب لاتے؟</p>
<p>ایک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کووہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو</p>
<p>تو معزز قارئین! اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے چن لیا حضور اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے لئے ، اور اللہ تعالی حضورِ پاکﷺ کے لئے</p>
<p>محمد برائے جنابِ الہیجنابِ الہی برائے محمد ﷺ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

''جوامع الکلم'' حضور علیہ السلام کا ایک عظیم الشان معجزہ

غیب داں نبی کی غیبی باتیں

دنیائے گفتار کے مالک
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 82 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 48 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 47 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 46 ویوز