پیغامِ آزادی
<p>نیاز جے راج پوری علیگ</p>
<p>مُبارک ہو ہمیں یہ جشنِ آزادی وطن والومُبارک ہو ہمیں بارِش یہ خوشیوں کی وطن والوخوشی کے گیت گاتی ہیں ہَوائیں بھی وطن والوفضائیں آج ہیں رنگین سی کِتنی وطن والونظر جِس سمت بھی جائے خوشی کے پُھول کِھل جائیںچلو ہم ایک ہو جائیں گَلے کچھ ایسے مِل جائیںدِلوں میں داغ ہیں جو بُغض و نفرت کے مِٹا ڈالیںجڑیں فِرقہ پرستی کی چلو ہم تم ہِلا ڈالیںجُدا جو ہم کو کرتی ہیں وہ دیواریں گِرا ڈالیںدِلوں کے درمیاں جو فاصلے ہیں وہ مِٹا دالیںوطن اپنا ، سبھی اپنے تو پِھر ہو غیر کیوں کوئیہمیں جب ساتھ رہنا ہے تو پِھر ہو بَیر کیوں کوئیچلو ہم آج مِل جُل کر خوشی کے گیت گاتے ہیںچلو پِچھلے دِنوں کی ساری باتیں بُھول جاتے ہیںچلوہم یومِ آزادی کی خوشیاں یُوں مناتے ہیںچلو اِک دُوسرے کو آج ہم اپنا بناتے ہیںچلو کھا لیں قسم ہم آج کے دِن یہ حلف لے لیںنہیں ہم سُوکھنے دیں گے کبھی یکجہتی کی بیلیںمحبت ہے اگر مُمکن تو نفرت کیوں کرے کوئیاگر تعریف ہے مُمکن شِکایت کیوں کوے کوئیدِلوں میں کیوں رکھے کینہ ، عداوت کیوں کرے کوئیمِلیں جب پُھول تو کانٹوں کی چاہت کیوں کرے کوئیوطن اپنا وہ گُلشن ہے جِسے یہ فخر ہے حاصِلبہت سے پُھول ہیں اِس میں سبھی ہیں پیار کے قابِللگائیں آگ جو فِرقہ پرستی کہ اُنہیں ڈُھونڈیںبنائیں نرک جو اِس دیش کی دھرتی اُنہیں ڈُھونڈیںکریں پَیدا ہمارے درمیاں دُوری اُنہیں ڈُھونڈیںوطن میں ہیں اگر اپنے کچھ ایسے بھی اُنہیں ڈُھونڈیںکِسی دُشمن کو ہم اِس دیش میں رہنے نہیں دیں گےوطن میں خون کی ہم ندّیاں بہنے نہیں دیں گےدِلوں میں عزم یہ لیکر منائیں جشنِ آزادینہ ہونے دیں گے اپنے دیش میں ہم کوئی بربادیہمارے ذہن و دِل میں رقصاں ہو خوشیوں کی شہزادینظر اب آئے سُندر سورگ سے ہر ایک آبادیوطن کی اور بھی ہم کو بڑھا کر شان چلنا ہےدِلوں میں آج سے لیکر یہی ارمان چلنا ہےہمارے ذہن و دِل سے بُغض و نفرت سب نِکل جائےمحبت دوستی اخلاص ذہن و دِل میں ڈھل جائےزمیںِ خُشک پہ جیسے کوئی چشمہ اُبل جائےاندھرے رات میں جیسے کوئی سُورج نِکل جائےنہیں مُشکِل اگر ہم چاہیں ایسا ہو ہی جائے گاجہاں کے آئینے میں دیش اپنا مُسکرائے گاوطن کے پاسباں ہم ہیں وطن کی آبرو ہم ہیںاگر خوشحال ہے اپنا وطن تو سُرخ رُو ہم ہیںوطن اپنا ہے گُلشن اور اس کے رنگ و بُو ہم ہیںنیازؔ اب ایک ہی رہنے کی کرتے آرزو ہم ہیںاگر ہم ایک ہو جائیں وطن خوشحال ہو جائےاگر ہم نیک ہو جائیں وطن خوشحال ہو جائے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

یوم خواتین پر کچھ اشعار
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 83 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 62 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 55 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 49 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 47 ویوز