غزل: دھندلا چکا ہے آئینہ اعتبار بھی
📅 23-03-2022
👁 1 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>ازقلم: مختار تلہری</p>
<p>زینت ہے گلستاں کی خزاں بھی بہار بھیشاخوں سے لپٹے رہتے ہیں گل اورخار بھی</p>
<p>کیسے یقیں کا چہرہ نظر صاف آ سکےدھندلا چکا ہے آئینۂِ عتبار بھی</p>
<p>ایسا نہیں کہ صرف گریباں ہوا ہو چاکدیکھا ہے میں نے دامنِ دل تار تار بھی</p>
<p>میں تو ہوا میں ہاتھ ہلاتا ہی رہ گیااس نے پلٹ کے دیکھا نہیں ایک بار بھی</p>
<p>کہنے کے با وجود نہ وہ باز آ سکاحالانکہ تھوڑی دیر ہوا شرمسار بھی</p>
<p>دن ہی نہیں گزارا ہے امیدِ وصل میںیوں ہی گزر گئی ہے شبِ انتظار بھی</p>
<p>مختار اسکے باب میں کیا عرض میں کروںدونوں ہی خوشگوار ہیں نفرت بھی پیار بھی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 85 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 58 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 52 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز