غزل: حال اپنا مجھے بتائے ذرا
📅 22-03-2022
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان</p>
<p>کچھ سنے اور کچھ سنائے ذراحال اپنا مجھے بتائے ذرا</p>
<p>تیرے بیمار کے ہیں حال برےاس سے کہنا کہ مسکرائے ذرا</p>
<p>ہم پسند اس کو کر ہی جائیں گےچائے کا کپ وہ لیکر آئے ذرا</p>
<p>اس کی ہجرت کا اب ملال نہیںاس سے کہنا اور ستائے ذرا</p>
<p>میکشی ہم کو زیب دیتی نہیںاس سے کہنا کہ چائے لائے ذرا</p>
<p>دیکھنا یار اس کے چہرے کورخ سے پردہ وہ اٹھائے ذرا</p>
<p>اب تو ہر دم نہیں مسکراتا ہوںکوئی آ کر مجھے رلائے ذرا</p>
<p>بظاہر میں جو لیکر پھول آیادل میں رکھتا ہے کیا بتائے ذرا</p>
<p>دل یہ فیضان کا جگمگا اٹھاجب وہ دل کے قریب آئے ذرا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز