غزل: مدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں
📅 03-05-2022
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>از قلم.. دلشاد دل سکندر پوری</p>
<p>زہر ہوں اور شہد گھول رہا ہے مجھ میںکون ہے تیری طرح بول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اب محبت نہ کروں گا یہ قسم کھائ تھیبند دروازہ کوئی کھول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>خود کو اپنے ہی میں قدموں پہ جھکا لیتا ہوںایک ہی فن ہے جو انمول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اپنی جنت میں بنا کر کے مٹا دیتا تھامدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>میرے سینے میں یہ دل ہے کہ کوئی سوداگرمیرے احساس کا دھن تول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اب یہ پتھر مجھے کیا آنکھ دکھائیں گے دلپہلے آئینوں کا اک غول رہا ہے مجھ میں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز