غزل: منزل تلاش کر
📅 27-06-2022
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>جذبے سے تو جنوں میں منزل تلاش کرآثار ہو طوفاں کے تو ساحل تلاش کر</p>
<p>دل کو اچھالتے ہوئے پھرتے ہیں سب یہاںدل دے کے دل جو دے دے تجھے وہ دل تلاش کر</p>
<p>جس میں تجھے نوازے محبت سے سارے لوگایسی کوئی زمانے میں محفل تلاش کر</p>
<p>آئے ہیں نوجوانی میں ایسے خیال بھیآنکھوں سے قتل جو کرے وہ قاتل تلاش کر</p>
<p>عامل بتائے گا کہ عمل کس طرح کرےکچھ سیکھنا ہے تجھ کو تو عامل تلاش کر</p>
<p>آیا ہے زندگی میں تو کچھ سیکھ لے ضرورپانا ہے تجھ کو عقل تو عاقل تلا ش کر</p>
<p>تحسین یہ بھی تجربہ ایک بار کرکے دیکھزخموں سے چور ہو کے تو بسمل تلاش کر</p>
<p>نتیجہ فکر: محمد تحسین رضا قادریاستاذ: دارالعلوم ضیائے مصطفیٰ فہیم آباد کالونی کانپور٩٨٣٨٠٩٩٧٨٦</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز