غزل: لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں
<p>سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیںلیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں</p>
<p>دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میںلیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں</p>
<p>مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوستآہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں</p>
<p>ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں</p>
<p>آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سِواآج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں</p>
<p>بات یہ ہے کہ سکون دل وحشی کا مقامکنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں</p>
<p>ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیںتو نے کچھ آہ سُنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں</p>
<p>آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموشآج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں</p>
<p>یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبوریہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں</p>
<p>یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشقمگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں</p>
<p>فطرت حسن تو معلوم ہے تجھ کو ہمدمچارہ ہی کیا ہے بجز صبر سو ہوتا بھی نہیں</p>
<p>منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔہے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں</p>
<p>فراقؔ گورکھپوری</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز