غزل: تم بھی اُلجھی ہوئی لڑی،،ہو کیا
📅 09-07-2022
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>از قلم: دلشاد دل سکندر پوری</p>
<p>تم بھی اُلجھی ہوئی لڑی،،ہو کیاسچ کہو میری زندگی،، ہو کیا</p>
<p>ہاتھ کنپتے ہیں تم کو چھونے سےتم ابھی کمسنی کلی ہو کیا</p>
<p>بھید کھلتے نہیں ترے مجھ پرمیر و غالب کی شاعری ہو کیا</p>
<p>دیکھتا ہی نہیں کوئی تم کومیری خاطر ہی تم بنی ہو کیا</p>
<p>یہ مجھے نیند کیوں نہیں آتیمیرے خوابوں میں بس گئی ہو کیا</p>
<p>بن ترے ہر غزل ادھُوری ہےمیری غزلوں کی نغمگی ہو کیا</p>
<p>میری آنکھوں میں درد کیسا ہےرات بھر آج تم جگی ہو کیا</p>
<p>میرے بارے میں جانتی ہو سبدل سے پہلے کبھی ملی ہو کیا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز