غزل: شہر والوں کو فن سے کیا مطلب
📅 11-10-2024
👁 1 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>میرے افکار و فن سے کیا مطلبانکو شعر و سخن سے کیا مطلب</p>
<p>روز لوٹتی ہے آبرو گل کیباغباں کو چمن سے کیا مطلب</p>
<p>ہم قلندر مزاج لوگوں کوبعض لوگوں کے دھن سے کیا مطلب</p>
<p>تیرے پہلو میں دل نہیں شایدتجھ کو دل کی چبھن سے کیا مطلب</p>
<p>بول بالا ہے چاپلوسوں کاشہر والوں کو فن سے کیا مطلب</p>
<p>میں طلبگار روح ہوں اس کیمجھ کو اس کے بدن سے کیا مطلب</p>
<p>چلتے رہیے مقام منزل تکہے جنوں تو تھکن سے کیا مطلب</p>
<p>میں ہوں روشن ترے خیالوں سےتیرے اس بانکپن سے کیا مطلب</p>
<p>افروز روشن کچھوچھوی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز