غزل: میں روز غم کے سمندر کو پار کرتا ہوں
📅 14-10-2024
👁 1 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>اے جان جاں میں فقط تجھ سے پیار کرتا ہوںتمہارے واسطے سب کچھ نثار کرتا ہوں</p>
<p>مجھے پتا ہے دغا ہے تمہاری فطرت میںمگر میں پھر بھی ترا اعتبار کرتا ہوں</p>
<p>تیرے نصیب کی خوشیاں تجھے مبارک ہومیں روز غم کے سمندر کو پار کرتا ہوں</p>
<p>اسی سبب سے ترا ظرف دیکھنے کے لئےکبھی کبھی تو میں تجھ سے ادھار کرتا ہوں</p>
<p>مرا وصول ہے میدان جنگ میں روشنمیں پیٹھ پر نہیں سینے پہ وار کرتا ہوں</p>
<p>افروز روشن کچھوچھوی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز