غزل: اکیسویں صدی ہے کہ آفت کا دور ہے
<p>ہر آن اک جدید مصیبت کا دور ہےاکیسویں صدی ہے کہ آفت کا دور ہے</p>
<p>اک عطر بیز جسم کی وصلت سے قرب سےمیرے وجود پر بڑی نکہت کا دور ہے</p>
<p>نفرت کی بھینٹ اس کو چڑھا تا ہے کس لئےیہ زندگی تو یار محبت کا دور ہے</p>
<p>بہرِ سکوں جہانِ محبت میں آئے تھےلیکن یہاں تو اور بھی وحشت کا دور ہے</p>
<p>کتنے ہی اہلِ دل کی یہ جانیں ہے لے چکاتجھ پر شباب ہے یا قیامت کا دور ہے</p>
<p>میری کسی کو کوئی ضرورت نہیں رہییہ تو مرے لئے بڑی ذلت کا دور ہے</p>
<p>چاہت کے عہد کو نہ تلاشو ادھر ادھریہ اپنی دوستی ہی تو الفت کا دور ہے</p>
<p>اک بے پناہ حسن کی قربت کا ہے کمالجملوں پہ میرے یہ جو فصاحت کا دور ہے</p>
<p>اس میں ہی شیطاں بنتا ہے انسان دوستوعہدِ جوانی ہی یہ عبادت کا دور ہے</p>
<p>یہ جس کو وصلِ یار کا موسم ہیں کہتے سبیہ بے پناہ لطف کا لذت کا دور ہے</p>
<p>ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز