غزل:لیکن ہمارے درد کا مرہم کوئی نہیں
📅 23-03-2021
👁 1 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہما اکبر آفرین
<p>خیال آرائی: انصاری ظاہرہ فرید احمد(بی۔ایس۔سی،ایم۔اے،بی ایڈ)گلزار نگر،بھیونڈی،مہاراشٹر</p>
<p>موسم تھا خوشگوار اور منظر بھی دلنشیںلیکن ہمارے درد کا مرہم کوئی نہیں</p>
<p>غلطی کا پتلا لغزشیں انساں کی بےشمارحیرت ہے ان گناہوں پہ نادم کوئی نہیں</p>
<p>ڈاکو, لٹیرے، چور ملیں گے یہاں بہتگر چہ ہمارے شہر میں حاتم کوئی نہیں</p>
<p>فرقے، زباں،مذاہب و تہذیب سب الگباغی بہت ہیں ملک میں باہم کوئی نہیں</p>
<p>اے سحر تم سنبھل کے رہو اس جہاں میںیاں عیب جو کثیر ہیں مصلح کوئی نہیں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 85 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 58 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 52 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز