Hamari Aawaz

غزل: گھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع

شعر و شاعری ← غزل
📅 30-03-2021 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>خیال آرائی: خوشبو پروین، حیدرآباد</p>
<p>ہر اک قدم پر ہوجائے گا پھر میرا انکار شروعگھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع</p>
<p>نفرت نے تو پہلے ہی تقسیم کیا ہےرشتوں کوبوڑھا برگد کٹے تو آنگن میں ہوگی دیوار شروع</p>
<p>کب سے سنتی ہی آئی ہوں، میری بھی کچھ سن لو آجعادت سے مجبور ہو تم، ہو جاتے ہو ہر بار شروع</p>
<p>اپنی صفائی میں کہنے کی مجھ کو اجازت ہے ہی نہیںمنصف جلد اشارہ تو کر، ہو جائے تلوار شروع</p>
<p>صرف مبارک ہو کی آوازیں ہی گونجی تھیں ہرسوکس نے حامی بھر دی جس دم میں نے کیا انکار شروع</p>
<p>بستی والوں کی نظروں میں یونہی تو بدلاو نہیںپھر کسی مذہب کا ہونے والا ہے کیا تہوار شروع</p>
<p>ہجرت کے رستے جاوں تو زاد ِ سفر خودداری ہےلوٹتی ہوں تو خوشبو تھوڑے فاصلے پر دربار شروع</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 204 قارئین📊 1.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 48 ویوز