غزل: گھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع
<p>خیال آرائی: خوشبو پروین، حیدرآباد</p>
<p>ہر اک قدم پر ہوجائے گا پھر میرا انکار شروعگھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع</p>
<p>نفرت نے تو پہلے ہی تقسیم کیا ہےرشتوں کوبوڑھا برگد کٹے تو آنگن میں ہوگی دیوار شروع</p>
<p>کب سے سنتی ہی آئی ہوں، میری بھی کچھ سن لو آجعادت سے مجبور ہو تم، ہو جاتے ہو ہر بار شروع</p>
<p>اپنی صفائی میں کہنے کی مجھ کو اجازت ہے ہی نہیںمنصف جلد اشارہ تو کر، ہو جائے تلوار شروع</p>
<p>صرف مبارک ہو کی آوازیں ہی گونجی تھیں ہرسوکس نے حامی بھر دی جس دم میں نے کیا انکار شروع</p>
<p>بستی والوں کی نظروں میں یونہی تو بدلاو نہیںپھر کسی مذہب کا ہونے والا ہے کیا تہوار شروع</p>
<p>ہجرت کے رستے جاوں تو زاد ِ سفر خودداری ہےلوٹتی ہوں تو خوشبو تھوڑے فاصلے پر دربار شروع</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز