Hamari Aawaz

غزل: پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہے

شعر و شاعری ← غزل
📅 30-03-2021 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>خیال آرائی: خوشنما حیات ایڈوکیٹ، بلند شہر اُتر پردیش بھارت</p>
<p>پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہےیہ وراثت میری خاندانی تو ہے</p>
<p>خوش ہوں میں میری کوئی کہانی تو ہےوہ نہیں ہے تو اس کی نشانی تو ہے</p>
<p>بے وفا جو کبھی خود کو کہتا نہیوہ مجھے دیکھ کر پانی پانی تو ہے</p>
<p>آج کل آپ کچھ بولتے ہی نہیآپکے دل میں کچھ بدگمانی تو ہے</p>
<p>خوشنما کچھ نہ بولو کے اُن کے سببمیری سانسوں میں اب تک روانی تو ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 220 قارئین📊 1.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 48 ویوز