Hamari Aawaz

نظم: کتنا اچھا لگتا ہے

شعر و شاعری ← غزل
📅 11-04-2021 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>نتیجۂ فکر: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>چاند ہے تنہا تنہا سارات بھی کتنی اکیلی ہےرات کی تاریکی میں کھو جاناکتنا اچھا لگتا ہےمیں بھی چند خواب سمیٹے رات کی گود میں آ بیٹھی ہوںجاگتی آنکھوں میں سپنے سموناکتنا اچھا لگتا ہےتنہا رات اور تنہا میںدونوں باتیں کرتے ہیںیوں تنہائی میں باتیں کرناکتنا اچھا لگتا ہےتاروں کی جھلمل بھی جگتی پھر سو جاتی ہےان تاروں کو تکتے رہناکتنا اچھا لگتا ہےدنیا کی فریب و مکاری سےیہ بے جان نظارے بہتر ہیںسب سے چھپ کر ان میں کھوناکتنا اچھا لگتا ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 219 قارئین📊 1.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 48 ویوز