غزل: اے طالبِ شمیم وہ پُروائیاں پرکھ
📅 26-08-2024
👁 8 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>جب دھوپ اُ گی ہوٸی ہو تو پرچھائیاں پرکھچہرہ نہ پڑھ خیال کی سچائیاں پرکھ</p>
<p>جو سانس سانس درد سے مہکاٸیں جسم کواے طالبِ شمیم وہ پروائیاں پرکھ</p>
<p>مانا نڈھال کر گٸی ساون تری پھوارتحریک دے رہی ہیں جو انگڑائیاں پرکھ</p>
<p>ان سے ہی شش جہات میں ہیں میری شہرتیںاس زاویے سے تو مری رسوائیاں پرکھ</p>
<p>راتوں کی تیرگی میں ہی تارے چمکتے ہیںویرانیوں میں انجمن آراٸیاں پرکھ</p>
<p>نورِ سحر ہی آمدِ شب کی دلیل ہےوقتِ وصال آئے تو تنہائیاں پرکھ</p>
<p>تو صرف ان پہاڑوں کی اونچاٸیاں نہ جانچپہلے ذرا ندی کی بھی گہرائیاں پرکھ</p>
<p>ذکی طارق بارہ بنکویسعادتگنج،بارہ بنکی،انڈیا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 56 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 50 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز