کالم

افسانہ: بڑا ہوا تو کیا ہوا؟

افسانہ نگار: خلیل احمد فیضانی، راجستھان

دو بیٹوں کے اچانک چارپائی پکڑلینے سے گھر میں غریبی نے قدم جمالیے فاقے پہ فاقے پڑنے لگ گٔے کیوں کہ کمانے والے تو یہی تھے بڑے والا تو ہاتھ دھل کرصرف ٹھونسنا ہی جانتے تھا بوڑھا باپ اس ہٹے کٹے بیٹے سے کام کے لیے کبھی کچھ کہتا بھی تو بڈھا ہوگیا ہے ,سٹیا گیا ہے , عقل سے یتیم ہے وغیرہم کے کلمات سے اس کی خدمت کی جاتی
بیٹی کی شادی کرکے ابھی چند روز پہلے ہی سسرال بھیجا تھا, پھوٹی قسمت کہ وہ سسرال کیا گئی آپسی خلفشار و باہمی تنازعات کا ایک دروازہ کھول کر آگئی ایک طرف گھر میں دو جوان بیٹے درد سے کراہ رہے ہیں تو دوسری طرف غربت نے کمر توڑ رکھی تھی ,پہلے ہی کیا کچھ کم پریشانیاں تھیں ایسے میں بیٹی کا سسرال والوں سے لڑ جھگڑ کرگھر واپس آجانا بوڑھے باپ کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں تھا پھر رہی سہی کسر داماد جی نے نکال دی کہ تاناشاہ بنے سسرال آءے اورطلاق دینے کی دھمکی دے کر چلتے بنے یہ گھڑی بوڑھے باپ کےلیے موت سے کچھ کم نہ تھی

اتنی مشکل سے اپنی لاڈلی کی ڈولی سجائی تھی گھر کی برتن تک گروی رکھنے پڑے تھے اب اس بیچاری کا کیا ہوگا اس کی دو وقت کی روٹی کا ہی ذمہ دار کون ہوگا ,بابوجی , یہ سب تصور کرکے ڈھاڑیں مار مار کر رونے گا -بڑا بیٹا جو بالکل ناہنجار تھا باپ کے پاس آیا اور بولا اب ڈھاڑیں مارکر رونے سے کیا فائدہ !میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ لوگ بد تمیج ہیں ان سے بہنا کا رستہ مت کرو لیکن کیا کریں آپ کی اکڑ کا! وہ تو ٹوٹنی نہ تھی لیکن آج بہنا کا رستہ جرور ٹوٹ رہا ہے –
صبح دونوں بیٹوں کو شہر کی بڑی ہاسپٹل میں لے جانا ہے ڈاکٹر نے تاخیر کرنے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی کا پہلے ہی بول دیا تھا لیکن کریں تو کیا کریں !چاے کے لیے چینی اور سبزی کے لیے نمک خریدنے کے روپے تو ہے نہیں اتنی خطیر مقدار میں رقم لأیں گے کہاں سے ?
انہیں خیالات میں گم بابوجی قریب المرگ شخص کی طرح بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ اب صبح کیا ہوگا
اتنے میں بڑا بیٹا پاگل اونٹ کی طرح دوڑتا ہوا باپ کے پاس آدھمکا اورروح فرساں و سنسنی خیز خبر سنایا کہ غجب ہوگیا ,غجب ہوگیا
اناج کے کھلیہان میں آگ لگ گئی پورا اناج جل کر راکھ ہوگیا , ہاے اب میں کیا کھاوں گا بیٹے نے چیکھتے ہوے کہا , بوڑھا باپ گویا اس غم خبری سے آدھا مرچکا تھا گرا اور بےہوش ہوگیا وفا شعار بیٹا تو پاس ہی کھڑا تھا تڑاک سے بولا اب بڈھے کو ایکٹنگ سے کیا فائدہ? کھلیہان کو خود ہی کھلے میں چھوڑتا ہے اور خود ہی بےہوش ہوتا ہے ,اگر کھلے میں نہیں چھوڑتا تو آج وہ نہیں جلتا باپ ادھر نیم مردہ ہے, بہن ادھر خون کے آنسو رو رہی ہے دو چھوٹے بھائی درد سے تڑپ رہے ہیں لیکن مجال کہ اس کو بڑے ہونے کے ناطے ذمہ داری کا کچھ احساس ہو!وہاں سے دم دبا کر نکلتا ہے اور شام کے کھانے کا انتظام کرنے میں لگ جاتا ہے۔

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے