اسلام ہی سچا دین ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : بدرالدجی امجدی

اسلام ایک مقدس،محترم ،مکرم معزز اور اللہ کا پسندیدہ دین   ہے – کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے
"إنّ الدِّينَ عِنْدَ اللّهِ الاِسْلاَم "
بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے

اسلام ہمیشہ سے پھلتا پھولتا اور اپنی آن و بان اور شان کے ساتھ خطہ نصف النہار کی طرح جگمگاتا رہا ہے اور ہمیشہ کی طرح جگمگاتا رہے گا – انشاءاللہ
اسلام پر نہ کبھی خطرے کے بادل منڈلائے ہیں اور نہ ہی کبھی منڈلائیں گے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے "إنّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إنّا لَهُ لَحَافِظُوْن
بیشک ہم نے ہی اس کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں

آج کے دور میں جو مسلمانوں کے حالات ہیں وہ کسی سے بھی  ڈھکی چھپی نہیں ہے اور  یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ دشمن اسلام، اسلام اور پیغمبر اسلام پر طرح طرح کے حملے کرنے کی نا کام کوششیں کررہا ہے –  اور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر  کا میڈیا بھی اسلام اور مسلمان سے نفرت دلانے کے لئے طرح طرح کی نیوز ہیڈلائن اور نئے نئے انداز میں  وِیْلَنْ  بنا کر پیش کررہا ہے  ایسے دور میں بھی اسلام اپنی آن و بان اور شان کے ساتھ پھیلتا چلا جارہا ہے تو  یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اسلام ہی سچا دین ہے   ابھی حال ہی میں کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا 
/جولائی 15/2021 مطابق 4 ذی الحجہ 1442 ھ بروز جمعرات 10بجکر 45 منٹ دن میں .   ..
سر زمین مسولی شریف دو شخص دادا اور پوتے جنکا نام… 
دادا… اجے سنگھ
پوتا…. سچن
آئے اور یہ آنے والے دونوں ضلع بارہ بنکی قصبہ شہاب پور کے رہنے والے تھے
ان لوگوں نے مخدوم المشائخ وارث جبہ مولائے کائنات حضور گلزار ملت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید گلزار اسمٰعیل واسطی قادری اسمٰعیلی سجادہ نشین آستانہ عالیہ اسمٰعیلیہ مسولی شریف کے دست حق پرست پر مذہب اسلام قبول کیا حضرت نے کلمہ وغیرہ پڑھا کر اسلام میں داخل کیا اور مرید کر کے سلسلہ اسمٰعیلیہ کے فیضان سے مالا مال کیا 
پھر جامعہ اسمٰعیلیہ کے پرنسپل حضرت علامہ مولانا مفتی سجاد علی خان  مصباحی قبلہ کے کمرے میں بیٹھایا گیا پھر لوگوں نے دریافت کیا کہ کس بات نے آپ کو اسلام قبول کرنے پر ابھارا، اور اپنے مذہب کو طلاق دے کر اسلام کا سہرا اپنے سر پر باندھا –  تو بتایا ہم اور ہمارے اہل خانہ بہت پریشان تھے، بہت سے پنڈتوں اور اپنے دھرم گروؤں کے پاس  گئے پر کہیں سے بھی معاملہ حل نہیں ہوا یہاں تک کہ میرے گھر میں فاقہ کی نوبت آگئی اور کوئی یار و مددگار بھی نہیں تھا ایسے نازک حالات میں ہم لوگ سرکار کچھوچھہ  محبوب یزداں تارک السلطنت غوث العالم سید شاہ مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ کے در پر حاضری دی، مسلسل کم و بیش سات سال تک ہم لوگوں نے در بارے کچھوچھ میں حاضر رہے اور ہم کو وہاں سے بہت کچھ حاصل  ہوا آج ان  کےصدقے طفیل خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ان برکات کے حاصل ہونے سے ہم نے جان لیا کہ مذہب اسلام ہی سچا مذہب ہے اور ساتھ ساتھ مذہب اسلام قبول کرنے کو ٹھان لیا-

اسلام میں ایسی ایسی ہستیاں پیدا ہوئی ہیں جن کے نام دنیائے تاریخ میں ستاروں سے بھی زیادہ روشن اور تابناک ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے باوقار، محترم، مکرم، مشرف ،معزز اور مستند شخصیتوں نےجنم لی ہیں جن کے اخلاق، کردار، گفتار، رفتار اور حیات طیبہ کو پڑھ کر یا سیکھ کر اسلام کو قبول کرنے کی بات ہی الگ رہی ان کے چہرے مبارک کو دیکھ کر بہت سے غیر مسلموں نے اپنے مذہب کو طلاق دے کر اسلام کے دولت سے مالا مال ہوئے

ان میں ایک نام نامی اسم گرامی اولاد علی نائب نبی حضرت
سیدنا امام علی رضا رضی اللہ عنہ کا سرے فہرست ہے
دوسرا نام شہزادہء اعلحضرت معتد اعلحضرت حضرت العلام حجۃ الإسلام حضرت علامہ حامد رضا رضی اللہ عنہ کا بھی ہے
تیسرا نام جو مجھے  یاد آرہا ہے وہ مجدد ابن مجدد محقق ابن محقق امام الفقہاء تاجدار اہل سنت شہزادہء اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ابو البرکات محی الدین حضرت علامہ شاہ محمد مصطفیٰ رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ مایہ ناز شخصیت ہے جن کے خوبصورت چہرے مبارک کو دیکھ کر بہت سے غیر مسلموں نے یہ کہہ کر اپنے کفر کے بندشوں کو توڑ ڈالا کہ” اتنا خوبصورت چہرہ کسی جھوٹے کا چہرا   نہیں ہو سکتا  جب یہ آدمی جھوٹا نہیں ہوسکتا تو جس دین پر یہ قائم ہے وہ دین بھی جھوٹا نہیں ہو سکتا” اور کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے_ اسی طرح اور بھی بہت سی شخصیتیں گزریں ہیں جو اس وقت میرے معلومات کے خزانے سے غائب ہیں –

اسلام کو ہمیشہ سے مٹانے کی ناپاک جسارت ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہے گی دشمنانِ اسلام نے  اسلام کے صادق اور صاف و شفاف چہرے کو داغ دار بنانے کی ہر ممکن ہتھیار کو استعمال کیا – ابتدائیے اسلام میں کافروں کے سردار ابوجہل، ابولہب، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف نے اسلام کو نست و نابود کرنے کی طرح طرح کی سازشیں رچی پھر بعد کے کچھ ظالم و جابر، بے رحم و سفاک قوم نے اسی تاریخ کو دوہرانے کی ناکام کوششیں کی جن کو دنیا چگیز خاں، ہلاکو خاں، الگوں خاں، تاتاری اور منگولی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے جنہوں نے اسلام کے ماننے والوں کو ہزاروں لکھوں  بلکہ سیکڑوں کے تعداد میں تہ تیغ کردیا اور موجودہ صدی میں سوامی سردھا نند، سلمان رُشدی تسلیمہ نسرین، ذلیلہ خاتون جیسے بدبخت، کمبخت، بد نصیب اور بد قسمت قلم کاروں نے اپنے تحریریوں، تقریروں اور تصنیفوں کے ذریعہ آنے والی نسلوں کے ذہن میں اسلام کے خلاف نفرت دلانے کی ایک اور لا حاصل سعی کی-
لیکن اسلام نہ تو کبھی مٹا ہے اور نہ ہی مٹے گا
کیونکہ..
اسلام کے فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنا دباؤ گے

جب جب دشمن اسلام نے،اسلام کو دبانے کی کوشش کی ہے تو اسلام اسی طرح اوبھر کر نکلا ہے اور جب جب دشمن اسلام، اسلام کو بدنام اور اس کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ دین اسلام کو بچانے کے لیے انھیں دشمنانِ اسلام میں سے ایسی ہستی کو پیدا فرما دے گا جو دین اسلام کی حقانیت، صداقت اور عظمت کا علمبردار بن کے اٹھے گا اور اسلام پر ہونے والے حملوں اور پروپیگنڈوں کا صفایا کرے گا، اور صرف صفایا ہی نہیں کرے گا ،  بلکہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کی ایسا ہوا ہے _ تاتاریوں میں سے تیسری نسل نے اسلام قبول کیا،. یہ وہی تاتاری تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خون سے بغداد کو لال کردیا تھا بلکہ اگر تاریخ ابن خلدون کے حوالِ سے بات کروں تو تاتاریوں نے سولہ 16 لاکھ مسلمانوں کو تہ تیغ کردیا تھا اور بغداد میں مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلی تھی اور دریائے دجلہ میں کئی مہینوں تک مسلمانوں کاخون بہتا رہا تاریخ کبھی بھی اس کو بھولا نہیں سکتی ہے- جب اسی تاتاریوں کے تیسری نسل نے اپنے آپ کو اسلام کے دولت سے مالا مال کیا تو انھیں تاتاریوں نے اسلام کی ایک نئی تاریخ رقم کی جن کو پڑھ کر ڈاکٹر اقبال کو کہنا پڑا-
ہے عیاں شورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اسلام صرف ایک واحد مذہب جس کی تعریف میں اپنے تو اپنے ہیں غیروں کے بھی زبان ہمہ وقت رطب اللسان رہتے ہیں اس وقت میرے معلومات کے دروازے پر یورپ کے ایک سائنسدان کا قول دستک دے رہا ہے جس نے حجۃ الإسلام محمد بن محمد بن محمد امام غزالی رحمۃاللہ علیہ کے سوانح پڑھ کر کہتا ہے "I like Islam because Imam e Ghazal is the follower of the Islam” 
میں اسلام کو اس لئے پسند کرتا ہوں کیونکہ امام غزالی جیسا  اسکالر ، سائنسدان، مفکر اور محقق اسلام کا ماننے والا ہے

اسلام ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ اسلام کے لیے بقا ہے اور کفر کے لیے فنا ہے – اللہ رب العزت اس کا محافظ ہےاور اسی کا اعلان ہے

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جس روشن خدا کرے
نورے خدا ہے کفر کے حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول بھی کالے پڑ گئے

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی مکرمی! یہ بات سب کو معلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔