گیت

دیوالی گیت

روشنی بن کے چھائی دیوالی
میرے گھر مسکرائی دیوالی

آؤ اس کو دلوں میں بھر لیں ہم
جو اجالا ہے لائی دیوالی

ہجر میں یادوں کے دئے رکھ کر
اب کے میں نے منائی دیوالی

ظلم کی تیرگی سے گزرے ہیں
تب کہیں ہم نے پائی دیوالی

کٹ گیا مرحبا مرا بن باس
آج میں نے منائی دیوالی

پیرہن اس کا جھلملاتا ہے
یا کہ ہے جگمگائی دیوالی

پیار کی آگ میں جلے تھے جب
آج وہ یاد آئی دیوالی

رکھنا روشن مجھے یونہی لوگو
دے رہی ہے دہائی دیوالی

شمعِ الفت جلائیں آؤ ہم
وصل کی رت ہے لائی دیوالی

ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی یو۔پی۔بھارت

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button