غزل

غزل: کیسی بیمار ہے زندگی آج کل

خیال آرائی: فرید عالم اشرفی فریدی

تیری لاچار ہے زندگی آج کل
کیسی بیمار ہے زندگی آج کل

عشق میں زخم کھاۓ ہے میں نے سدا
پھر بھی بیدار ہے زندگی آج کل

چل دیا چھوڑکرمجھکوتنہاصنم
میری بیکار ہے زندگی آج کل

تیری فرقت نے اتنارُلایامجھے
اب بھی آزار ہے زندگی آج کل

غم ہیں تنہائیاں اور بیچینیاں
کتنی دشوار ہے زندگی آج کل

دل چرایاہے پھر زخم دیکر گیا
لگتی انگار ہے زندگی آج کل

دیکھ کر آپکی چالبازی صنم
تم سے ناچار ہےزندگی آج کل

جانےکیوں مجھکو وہ پیار کرتا نہیں
میری بیکار ہے زندگی آج کل

حـافظہ عالمہ زاہدہ پارسـا
ایسی درکارہےزندگی آج کل

موت سے قبل کرلےتو اچھے عمل
تیز رفتار ہے زندگی آج کل

میں فریدی کبھی غم سے ہارا نہیں
میری خودار ہے زندگی آج کل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے