نیک اور باکردار لوگوں کی صحبت میں رہنا دارین میں کامیابی کا ضامن

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

بروں سے دوری اختیار کرنے کی تلقین۔مولانا ممشاد پاشاہ کا خطاب

حیدرآباد 26 نومبر(راست) انسان کو جیسی صحبت ملتی ہے اس کی زندگی اسی راستے پر چل پڑتی ہے، اگرکسی کو صحبت اہل اللہ کی نصیب ہوتی ہے تو اس کی زندگی نیکی اور بھلائی والے راستے پر گذرتی ہے اور بدقسمتی سے کسی نے برے اور بدکارلوگوں کی صحبت اختیار کرلی تو پھر غلط راستے کا مسافر ہوجاتا ہے۔ اسی لیے مذہب اسلام نے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے اور برے اور بدکار لوگوں کی صحبت سے دور رہنے کا حکم تاکید کے ساتھ دیا ہے۔امام غز الیؒ فرماتے ہیں کہ برے دوست کی صحبت انسان کیلئے سانپ اور شیطان سے زیادہ نقصان دہ ہے اس لئے کہ شیطان صرف انسان کے اندر وسوسے ڈالتا ہے اور بہکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک بدکار دوست انسان کو برائی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔نبیرۂ حضرت سید زرد علی شاہ صاحب مہاجر مکی مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ بانی و صدر مرکزی مجلس قادریہ نے جامع مسجد خواجہ گلشن، مہدی پٹنم اور مسجد محمودیہ ناغڑ، یاقوت پورہ میں قبل از جمعہ خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔مولانا ممشادپاشاہ نے کہا کہ صحبت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی دوستی، ہم نشینی، مجلس محفل، با ہمی ملاقات کے ہیں۔ قرآن مجید میں صحبت کے انتخاب کا بیان آیا ہے۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت سے جو مشرف ہوئے وہ صحابہ کرام کہلائے اور ان کی صحبت سے مستفیض ہونے والے تابعین اوران کی صحبت کو غنیمت جاننے والے تبع تابعین کہلائے اور اولیاء،صالحین نے ان کی صحبت پائی،یقینا ان بابرکت صحبتوں کا نتیجہ ہے آج بھی اہل اللہ کی مجالس اور ان کی صحبت میں وہ تاثیر ہے کہ سخت سے سخت انسان کا دل بھی موم بن جاتا ہے، اللہ کا خوف اور آخرت کی تڑپ پیدا ہوتی ہے، انسانوں کے اندر تکبر ہے، حسد ہے، بغض ہے، حب دنیا ہے، آخرت سے بے فکری ہے، گناہوں سے دلچسپی ہے، اس طرح کے تمام گندے اوصاف شیطانوں کے مکروفریب اور ان کے بہکاوے سے پیدا ہوتے ہیں، صلحاء اور بزرگان دین مدتوں ریاضت سے جن کے نفوس منجھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ شیطان کے مکروفریب کو اچھی طرح جانتے ہیں، ان بزرگوں کی صحبت جو اختیار کرتا ہے اور ان کے توسط سے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے یہ نفوسِ قدسیہ ان کو شیطان اور نفس سے بچنے کی تدبیریں بتاتے ہیں، اگر ان کی ہدایات پر عمل کیا جائے تو بہت جلد نفس کے عیوب اور رزائل کا ازالہ ہوجاتا ہے اور ان کی فیض صحبت سے انسان اخلاقِ فاضلہ، معرفت الٰہی، خوفِ خدا، آخرت کی طرف رغبت کی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی رہے اللہ کی قوتِ گرفت کا احساس ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اے میرے بندے اپنی جان ان سے مانوس رکھوجو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں۔احادیث میں بھی حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے والا ہے، مشک والا یا تو تمہیں کچھ دیدے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے) اور بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے۔اسی طرح ایک نیک مومن انسان کی صحبت کے حوالے سے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی قابل غور ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے مومن آدمی کے کسی کی صحبت مت اختیار کر، اور تیرا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی نہ کھائے۔اور ایک موقع پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین اور اس کی روش پر ہوتا ہے،پس تم میں سے ہر ایک شخص کو یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف ہماری صحبت اور اٹھنا بیٹھنا برے لوگوں کے ساتھ لیکن میں برا نہیں ہوں اور ان کے اندر جو اخلاقی برائیاں اور خرابیاں ہیں میں ان سے پاک و صاف ہوں، یہ کہہ وہ خوش ہوتے ہیں اور عافیت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس میں بھی کوئی عافیت نہیں ہے بلکہ اس میں بھی نقصان اپنا ہی ہے۔حضرت مالک بن دینارؒ نے اپنے داماد مغیرہ بن شعبہ سے فرمایا: اے مغیرہ! جس بھائی اور دوست سے تو اپنے دین کا کچھ فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ اس کی صحبت ترک کر دے تاکہ تو سلامت رہے کیونکہ ایسے شخص کی صحبت تجھ پرحرام ہے۔مولانا ممشاد پاشاہ نے مزید کہا کہ افسوس کہ اہل اللہ اور ان کی مجالس و محافل سے عامۃ المسلمین کا فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز بروز فتنہ و فساد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں، جلسے جلوس اور دینی محفلوں کے انعقاد کے باوجود نہ تو ماحول اور معاشرہ میں اسلامی جھلک ہے نہ مسلمانوں میں اسلامی ذہنیت، نہ تو فکر ِ آخرت ہے نہ ہی خدا کو پانے کی تڑپ۔ ضرورت ہے کہ عامۃ المسلمین اہل اللہ کو تلاش کریں اور ان سے اپنا تعلق استوار کریں، ان کی صحبت اختیار کریں،ان کو اپنا رہبر تسلیم کریں کہ اس کے بغیر افادہ اور استفادہ کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

عرس حضور صدرالشریعہ وتاج الشریعہ رضی اللہ عنہما کے موقع پر شہر جالنہ میں عظیم الشان فقیدالمثال سنی اجتماع

جالنہ:بتاریخ 2/جون بروز جمعرات بمقام زم زم مسجد عارف کالونی، جالنہ میں بعد نماز عشاء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔