از :۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ،) M.A., M.Com., Ph.D (Osm
دنیا میں جتنے بھی انقلابات برپا ہوئے ہیں ان میں نوجوان نسل کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ قرآن مجید میں اصحاب کہف اور کٹھن حالات میں حضرت موسیؑ پر ایمان لانے والے نوجوانوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے ظالم حکمرانوں کے مقابل حق پرستی کا ساتھ دیا۔ کسی بھی قوم میں نوجوان نسل اور ان کے پاک کردار کی کیا اہمیت ہوتی ہے اس کا اندازہ علامہ اقبال کی اس دعا سے کیا جاسکتا ہے …جوانوںکو میری آہ سحر دے …پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے۔ قوم و ملت کی فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی ، سیاسی، ترقی عزم و حوصلہ سے سرشار نوجوان نسل کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔جس قوم و ملت کی نوجوان نسل اخلاقی اقدار اور بلند عزائم کی حامل ہوتی ہے ترقی ان اقوام کا مقدر بن جاتی ہے۔ لیکن جب یہی نسل نو جس کے کندھوں پر قومی کی ترقی کا مدار ہوتا ہے، دنیوی اغراض کی بندگی میں ڈوبتے ہوئے قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کو ترجیح دینے لگتی ہے تو اس قوم کا وہی حشر ہوتا ہے جو موجودہ دور میں امت مسلمہ کا ہورہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا ہے جب متعصب قومی و بین الاقوامی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اسلام اور مسلمانوں کو ہدف تنقید نہ بنارہا ہو۔ تو دوسری طرف مسلم نوجوانوں کی اکثریت سوشیل میڈیا پر تضیع اوقات میں مصروف نظر آرہی ہے۔ قرآن، صاحب قرآن اور بزرگان دین کے خلاف نازیبا اور گستاخانہ کلمات استعمال کیے جارہے ہیں اور مسلم نوجوان نسل ٹک ٹاک بنانے میں مصروف ہے۔ اغیار اپنے دین کی خوبیاں بیان کررہے ہیں اور مسلم نوجوان نسل کی پست ذہنیت کا یہ عالم ہوچکا ہے کہ وہ کہنے میں مصروف ہے کہ یہ پیغام تین لوگوں کو ارسال کریں تو آپ کو شرطیہ خوشخبری ملے گی اور یقین نہ کرنے والے سنگین حالات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یہ اس لیے ہورہا ہے چونکہ مسلم نوجوان طبقہ الٰہی تعلیمات سے نابلد اور دوری اختیارکیے ہوئے ہے، ان کے سینے حرارت قرآن پاک سے خالی ہوگئے ہیں، وہ خودشناسی اور خود اعتمادی سے محروم نظر آتے ہیںجو ہر بحران سے باہر نکلنے اور دنیا کے تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہزاروں مسلم نوجوان جنسی بے راہ روی اور فتنۂ ارتدداد کا شکار ہوچکے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کی جنسی بے راہ روی کی ایک اہم وجہ ان کا فتنۂ نظر میں مبتلا ہوجانا ہے۔ پچھلے سات آٹھ سال میں سوشیل میڈیا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بہت سارے فوائد بھی ہیں لیکن سوشیل میڈیا کا صحیح استعمال کرنے کے بجائے اکثر مسلم نوجوان اس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ مسلم نوجوانوں میں فحش اور مخرب الاخلاق ویب سائٹ دیکھنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کا منفی اثر یہ ہورہا ہے کہ مسلم نوجوان نسل علمی تحقیق و جستجو سے دور ہوتی جارہی ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو نیچی نگاہ رکھنے یعنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر مسلم نوجوان نسل اس پر عمل پیرا ہوجائے تو مختلف شعبہ ہائے حیات میں عظیم کارنامے انجام دیکر اپنا، اپنے خاندان، قوم اور ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسانی معاشرہ میں وقوع پذیر ہونے والے ہولناک حوادثات، جرائم اور مظالم کی محرک انسان کی جنسی قوت ہے جس کا تدارک غص بصر سے ہی ممکن ہے اسی لیے قرآن مجید مرد و زن کو اپنی نگاہوں کو نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ چونکہ جب انسان فتنہ نظر کا شکار ہوجاتا ہے تو وہ فراست مومن کی عظیم نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اور مخالفین کی سازشوں، مکاریوں اور منصوبوں کا آسانی سے شکار بن جاتا ہے، وہ عظیم کارنامے انجام دینے سے قا صر ہوجاتا ہے اس طرح وہ مغلوب و مقہور ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندے کو جن بیش بہا نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے ان میں ایک آنکھ بھی ہے۔ اس نعمت کا حق ادا کرنے کے لیے انسان پر لازم ہے کہ آنکھ کا استعمال رب قدیر کے احکامات و ہدایات کے مطابق کرے۔ اگر انسان آنکھ کو رب کے فرمان کے مطابق استعمال کرتے ہوئے ماں باپ کو دیکھے گا تو حج و عمرہ کا ثواب پائے گا اور اسی آنکھ کی رب کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق حفاظت نہ کرے گا تو وہ جسمانی، دماغی اور روحانی طورپر مریض ہوجائے گا۔ دین اسلام میں انسانی زندگی سے زیادہ اہمیت عصمت، طہارت و ناموس کو حاصل ہے اسی لیے ہر مومن مرد وزن کو انفرادی ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اپنے دامن عصمت کو تمام محرکات اور ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک و صاف رکھیں تاکہ اعلی اقدار کا حامل اسلامی معاشرہ تشکیل پاسکے۔اسلام دین فطرت ہے اس کی بین دلیل یہ ہے کہ دین متین میں اگر انسان کی نظر پہلی بار غیر ارادی طور پر کسی نامحرم پر پڑھ جائے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے لیکن جب انسان قصد ،ارادہ اور ہوسناک نگاہوں سے دوسری مرتبہ نامحرم خاتون کو دیکھتا ہے تو دین اسلام اس کو مہلک گناہ قرار دیتا ہے اوراپنے ماننے والوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہے چونکہ دوسری نظر سے فتنے کے احتمالات زیادہ ہوجاتے ہیں، پر سکون جذبات میں آگ لگ جاتی ہے، جذبات شہوت مشتعل ہوجاتے ہیں اور انسان اپنے ظاہری شرف و تقدس کی پرواہ کیے بغیر آسانی سے جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے اسی لیے بعض اہل دل و نظر نے شہوت کے ساتھ کسی نامحرم کی تصویر دیکھنے سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ انسان سینکڑوں گناہوں اور آفتوں سے محفوظ ہوجائے۔ حضرت جریر بن عبداللہ الجبلیؓ فرماتے ہیں میں نے حضور سے دریافت کیا کہ اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نظر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلوں۔ اچانک کسی نامحرم پر نظر پڑ جائے تو وہ معاف ہے لیکن اگر دوبارہ دانستہ اس کی طرف دیکھے گا تو گناہگار ہوگا۔ چونکہ بدنظری سے ہوا و ہوس کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ،انسان اعصابی بیماریوں، نفسیاتی امراض، مستقل جنسی ہیجان کا شکار ہوجاتا ہے اسی لیے دین اسلام نے مرد و زن کو اپنی نگاہوں کو نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت ام سلمہؓ اور حضرت میمونہؓ آنحضرتؐ کے پاس بیٹھی تھیں۔ اتنے میں حضرت ابن ام مکتومؓ آئے جو نابینا تھے۔ حضورؐ نے فرمایا ان سے پردہ کرو۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا کیا یہ نابینا نہیں ہیں۔ نہ وہ ہم کو دیکھیں گے نہ ہمیں پہنچانیں گے۔ حضورؐ نے جواب دیا، کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو۔(ترمذی) لیکن آج دنیا پرستی مسلمانوں پر اس طرح غالب ہوگئی ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں بھی لوگ اپنے کاروباری اشتہارات میں نیم عریاں خواتین کی تصاویر اخبارات میں شائع کرتے ہیں اور لوگوں کو بدنظری اور آنکھوں کے زنا کی دعوت دیتے ہیں۔ جس امت کو دین اسلام نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دے رہا ہے آج وہی لوگ فتنۂ نظر کا نہ صرف خود شکار ہورہے ہیں بلکہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دیگر کو اجنبی خواتین کے حسن کی دید سے لطف اندوز ہونے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ (العیاذ باللہ) ۔ امریکہ اور اسرائیل کی طاقت پر تکیہ کرنے والے سعودی عرب کے صلیبی و صیہونی عربوں یعنی موجودہ حکمرانوں کی غافلانہ اور مجرمانہ پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مدینہ منورہ جیسی مقدس جگہ پر بھی رقص و سرور کی محافل سجانے کی خاطر سینما ہال کھولے جارہے ہیں جو یقینا لوگوں کو عریانی و فحاشی جیسے سنگین گناہوں پر ابھاریں گے۔ جبکہ دین اسلام انسان کو شیطان کے مکر، نفس کے فریب اور دنیا کی محبت سے پیدا ہونے والے فاسد افکار و تخیلات، ناپاک نظریات ،نفسانی خواہشات، سفلی جذبات ، جنسی ہیجان کو کمزور کرنے کے لے غص بصر کا حکم دیتا ہے۔ آنکھ کی نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک ایسا زہریلا تیر ہے جو انسان کی ایمانیات، اخلاقیات اور روحانیت کو کمزور کرکے اسے طبعی و عادی طور پر فسادی بنادیتا ہے۔ ایک زمانہ تھاجب پھٹے ہوئے کپڑے پہننے کو ہر انسان معیوب سمجھتا تھا لیکن اب وہی چیز فیشن میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا جب تنہائی میں غیر شادی شدہ نوجوان لڑکا لڑکی کی ملاقات کو غیر اخلاقی تصور کیا جاتا تھا اب ایک دوسرے کی فطرت سے واقف ہونے کے لیے living in relationship کو ضروری سمجھا جانے لگا ہے اور اس پر فخر و ناز کیا جارہا ہے۔ اس طرح انسان اورجانور کے درمیان کا فاصلہ روز بروز کم ہوتا جارہا ہے۔ بحیثیت مسلم ہر مسلمان کی مذہبی ذمہ داری تھی کہ ان حیا سوز معاملات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے لیکن جب خود مسلم نوجوان نسل سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے خواتین کے بنائے ہوئے ٹک ٹاک دیکھنے میں مصروف ہو تو گمراہ لوگوں کو رشد و ہدایت کا راستہ دکھانے کا فریضہ کون ادا کرے گا؟ دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے مطابق جو شخص کسی اجنبی عورت کے محاسن پر ہوس آلود نگاہیں ڈالے گا قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ رحمت عالمؐ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے جو شخص میرے خوف سے (دل کے تقاضے کے باوجود) اپنی نگاہ کی حفاظت کرلے میں اس کے بدلہ میں اسے ایسا پختہ ایمان دوں گا کہ جس کی لذت اور مٹھاس کو وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔ (الترغیب و الترھیب) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو فتنۂ نظر کا شکار ہوجاتا ہے اس کا ایمان کمزور ہوجاتا ہے اور جس کا ایمان کمزور پڑجاتا ہے وہ دنیا میں مغلوب و مقہور ہوکر زندگی گزارتا ہے چونکہ قرآن مجید نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ دنیا میں کامیاب و سرخرو وہی لوگ ہوں گے جن کے پاس کامل و اکمل ایمان کی دولت ہوگی۔اسلام اور مسلمانوںکو ذلت و رسوائی کے اس گرداب سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے نونہالوں کی اسلامی نہج پر تربیت کی جائے۔والدین اپنی اولاد کو اعلی اور معیاری موبائل فراہم ضرور کریں لیکن موبائل کے مختلف استعمالات پر گہری نظر رکھیں اور اولاد کو شرعی اصول و ضوابط کے مطابق موبائل کے استعمال کی تعلیم دیں تاکہ اولاد غلط روش کا شکار نہ ہوجائے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔