غزل: دھندلا چکا ہے آئینہ اعتبار بھی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ازقلم: مختار تلہری

زینت ہے گلستاں کی خزاں بھی بہار بھی
شاخوں سے لپٹے رہتے ہیں گل اورخار بھی

کیسے یقیں کا چہرہ نظر صاف آ سکے
دھندلا چکا ہے آئینۂِ عتبار بھی

ایسا نہیں کہ صرف گریباں ہوا ہو چاک
دیکھا ہے میں نے دامنِ دل تار تار بھی

میں تو ہوا میں ہاتھ ہلاتا ہی رہ گیا
اس نے پلٹ کے دیکھا نہیں ایک بار بھی

کہنے کے با وجود نہ وہ باز آ سکا
حالانکہ تھوڑی دیر ہوا شرمسار بھی

دن ہی نہیں گزارا ہے امیدِ وصل میں
یوں ہی گزر گئی ہے شبِ انتظار بھی

مختار اسکے باب میں کیا عرض میں کروں
دونوں ہی خوشگوار ہیں نفرت بھی پیار بھی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

یہ آئی بہار عید کے دن

ہے کانپور میں یہ آئی بہار عید کے دنخوشی سے چہروں پہ آیا نکھار عید …