سیاست و حالات حاضرہ

حالاتِ حاضرہ اور سفر

ازقلم: سید محمد قدیر رضا مصباحی

آج کل حالات کتنے بہترین ہوتےجارہے ہیں ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ کہیں جائیے خوف بے خوف کی کشمکش ہے ۔کیاٹرین ، کیا بس، ہرجگہ یہاں تک کہ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹینڈوں پر یہی بات ہوتی ہے ۔
کیا کریں گے جناب ؟ ڈاڑھی ٹوپی جو ہے اور بے ڈاڑھی ٹوپی والے بھی بے چین رہتے ہیں کہ کہیں مسلم سمجھ کر کوئی پریشان نہ کرنے لگے ۔ تبریز انصاری کا سانحہ سامنے ہے ۔

کم و بیش یہی کیفیت رہتی ہے ۔ ملک کےمختلف خطوں میں۔ حالات تقریبا ایسے ہی ہیں کہیں کم کہیں زیادہ ۔
مختلف بس اسٹینڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر ہزاروں کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ ایک مسلمان خودکو تنہا سمجھ کر ڈرا سہما جارہاہے ۔ کہ کہیں کوئی اس پر دست شفقت نہ پھیر دے ۔ اور پھر وہ بھیڑ کی شکل اختیار کرجاے ۔ مگر اسے کہیں سے یہ معلوم ہوجاے کہ اس کی طرح سو پجاس اور مسلمان اس کے آس پاس ہی ہیں ۔ تو اس کے دل کا کیا حال ہوگا وہ خوشی سے گٙد گٙد ہوجاے گا خوف و حراس دور ہوجاے گا ۔
مگر افسوس آج کوئی ایسا سیمبل یا پہچان نہی رہ گئی ۔ جس سے مسلمان ایک دوسرے کو پہچان سکیں ۔اور باہم مربوط ہوسکیں ۔ بھیڑ بھاڑ کی جگہوں میں اجتماعی انسیت ومحبت کا سُکھ لے سکیں۔ چین وسکون سے کہیں آجا سکیں ۔

کاش کہیں ایسا ہوتا سبھی مسلمان شعار اسلام سے آراستہ ہوتے ڈاڑھی ٹوپی والے ہوتے تو سبھی اجتماعی جگہوں پر بے خوف ہوتے شرپسند بھی تعداد دیکھکر ہاتھ ڈالنے کی حماقت نہ کرتے اور خوف ہمیں کیا وہ خود ہم سے خوف کھاتے ۔ اور وہ ڈاڑھی ٹوپی بار بار دیکھ دیکھکر عادی اور کچھ حد تک مانوس ہوجاتے ۔ پھر کسی ڈاڑھی ٹوپی والے کو دیکھکر غیر مانوس کتے کیطرح انکے بھونکنے کے امکانات ذرا کم ہوجاتے ۔

ہاں آج صرف نقاب والی عورتوں سے سمجھ میں آتاہے کہ ان کے ساتھ ضرور کچھ مسلمان مرد ہونگے چلو صاحِب سلام کرکے ان کے دائیں بائیں رہ کر سفر کریں گے ۔ تھوڑی تسلی رہے گی ۔ایسے ہی پینٹ شرٹ والے مسلم بس یا ٹرین پر چڑھیں اور دو تین ٹوپی ڈاڑھی والے دِکھ گئے ۔تو دِل خوش ہوگیا ۔ چلو میں تنہا نہیں ہوں ۔ میرے جیسے اور لوگ بھی ہیں ۔ اچھے سے سفر کٹے گا ۔اور اگر کہیں وہ دو تین بیٹھے ہوے لوگ مسلم تو ہوتے مگرٹوپی ڈاڑھی والے نہ ہوتے تو کیا ہوتا ؟ ڈرے ڈرے سفر کرتے۔ راستے بھر سہمے رہتے ۔

ایسے ہی ہم ایک بار فیملی کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔سخت گرمی کا مہینہ تھا ۔پانی کی بوتلیں کھالی ہورہیں تھی ۔میری گود میں میرا چھوٹا بچا تھا بار بار میرا منہ نوچ کر کچھ نہ کچھ پوچھتا جاتا ۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی چلبلاہٹ سے محظوظ ہورہےتھے ۔کسی نے اس سے پوچھ لیا پیارے انداز میں۔ آپ کو کیا کیا آتا ہے ۔ اس نے کلمہ شریف سے لے کر. . . . نعرہ تکبیر اللہ اکبرتک زور زور سے سنایا ۔ کسی نے کہا کہ اسے کلمہ وغیرہ خوب یاد ہے تب کہیں جاکر میں نے سمجھاکہ یہ لوگ مسلمان ہی ہیں جنہیں ہم کچھ اور سمجھے ہوے تھے توبہ ۔ اور میں خود انہیں مسلمان جانتے ہی پہلے سے زیادہ بے تکلف ہوگیا ۔ ذہن سونچ وفکر سے نکل کر تفریحی ہوگیا ۔ پھر ہم نے انہیں بوتل میں برف سے پگھلا ہوا ٹھنڈا پانی پلایا ۔
ایسے ہی روڈویز پر ایک صاحب میرے بغل کی سیٹ پر آجمے ۔ گمان گیا کہ کوئی غیر ہی ہوگا۔جب کنڈیکٹر سے ہم دونوں نے ایک ہی جگہ کا ٹکٹ مانگا۔ تو انہوں نے مجھے باضابطہ غورسے دیکھا ۔ پھر سلام اور مصافحہ کیا مجھے بھی کچھ پہچانا چہرا لگا۔ بعد میں مکمل تعارف ہوا ۔ وہ ایک ماسٹر صاحب تھے ۔اور اسکول جارہے تھے ۔ انہوں نے اصرار کرتےہوے میرے ٹکٹ کے بھی پیسے دے ڈالے ۔ کہاں ان کے تعلق سے میرا وہ گمان ۔اور کہاں یہ انکی نوزشات ۔ خیر۔ گفت شنید ہوئی ۔ مزے کاسفر ہوا۔

آج دوچار شرپسند کسی مسلم کو زدو کوب مارپیٹ کرتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ اس کو تنہا اور اکیلا سمجھتے ہیں ۔ اور مسلمان بھی انکی مار پیٹ سٙہتا ہے صرف اس لیے کہ وہ تنہا ہے ۔ اور دور کھڑا مسلمان اسکی کوئی مدد نہیں کرتا صرف اس لیے کہ وہ خود تنہا ہے ۔ اور اس کی پٹائی ہونے دیتا ہے ۔ اسی طرح سینکڑوں مسلمان اس کی طرح وہاں موجود ہوتے جو خود کو تن تنہا سمجھے ہوے ہوتے ہیں . وہ بھی فرضی اور نقلی طور پر ۔ جب کہ وہ حقیقتا سینکڑوں افراد ہیں ۔ جو دس بیس شرپسندوں کی تعداد سے چار گُنا زیادہ ہیں ۔ مگر ان میں کا ہر ہر فرد خود کو تنہاسمجھ کر خوف زدہ ہے اور بھاگنے کے فراق میں ہے ۔اگر وہ سب مسلمان آپس میں سلام کلام کے ذریعے ،،آپ جناب ،، صاحِب سلام ،، کے ذریعے مربوط ہوتے ۔ تو دانت کھٹے کردے تے شرپسندوں کے ۔

لہذا ہم مسلمانوں کو سفر میں یا بھیڑ بھاڑ والی جگہوں میں سلام کلام کرنے کی عادت ڈال لینی چاہیے ۔ خاص کر عالم دین سے یا عام ڈاڑھی ٹوپی والوں سے سلام کلام توکرہی لیا کریں ۔چونکہ مشرکین کی نظر میں وہی زیادہ چُبھتے ہیں ۔ حدیثِ رسول بھی ہے أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشوا السَّلامَ، اے لوگوں سلام پھیلاو ۔ اور اگر ممنوع السلام ہو تو دوسرا طریقہ اختیار کریں ۔

اس تعلق سے ہم علماء کو بیداری لانی ہوگی ۔تاکہ بِلکتے سِسٙکتے بھارت کو مسکرانے کا موقع ملے ۔ ہم بھارت کے باشندوں کو خوف وہراس سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔اور عام جگہوں مثلا. ریلوے اسٹیشن ، ٹرین ، بس ، بس اسٹینڈ جیسی جگہوں پر مسلمانوں کو باہم مربوط ہوجانے کی اپیل کریں ۔
. . شکریہ!

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button