تحریر: ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی
ادرائہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ
رابطہ نمبر 9350365055
دنیا میں نہ مذاہب کی کمی ہے نہ اقوام و ملل کی ،مگر انسان جب کسی مسائل و مشکلات کا شکار ہو تا ہے تو جو قوم یا مذہب ا س کا سہارا بن جائے تو فائدہ اٹھانے والا اگر اس کے دامن میںنہیں آئے تو کم از کم اس کا ممنون کرم ضرور ہو تا ہے اس لئے ہر قوم وملت کے افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ کوشش کر تے ہیں کہ ہم کچھ ایسا کام کر جائے جس سے ہمارے ملک و مذہب کا نام روشن ہو اور بہت سے ممالک کی طرح خود ہمارے مملکتی پالیسی کا اصول ہے کہ ہر فرد ایسا کام کرے جس سے ملک کا نام روشن ہو
کسی زمانے میں اس خیرامت کے افراد بھی ایسے ہی تھے جنہوں نے پوری انسانی برادری کے مشکلات کو دور کر نے کا بیڑا اٹھا یا تھا جہاں آبادی کی بقا کے لئے لوگ انسانی جان کی بھینٹ چڑھا یا کر تے تھے خود بھیس بدل کر قربان گاہ گئے اور اوہام باطلہ کا خاتمہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریائے نیل سے منسوب اوہام کا خاتمہ اپنے خط سے کر دیا جب انسانی آبادی کے ساتھ بیماریاں بڑھی تو قدیم اطبا کے اصول میں اضافہ کر کے نئی نئی طبی ایجادات کا کارنامہ مسلمانوں نے انجام دیا ہاسپیٹل کا ایسا اعلی انتظام کیا کہ سیاح جھوٹ موٹ کے مریض بن کر ہاسپیٹل کے کھانوں کا لطف اٹھانے لگے ابن سینا نے مرض کی تشخیص کی جو روایات قائم کی آج بھی اس کی نظیر نہیں ملتی ابن الہیثم نے کتاب المناظرمیں انعطاف نور کا جو نظر یہ پیش کیا دنیا آج اسی نظریے سے استفادہ کر رہی ہے جابر ابن حیان نے جس طرح سے سائنسی معلومات کو تجربات کی منزل سے گزا را اسی کی برکتیں ہیں کہ آج بے شمار کیمیکلس اور ادویا ت کی فراوانی ہے ان کارناموں سے عام انسانی برادری کو فائدہ پہونچا ہے آپ مسلمانوں کی ایجادات کی تاریخ پڑھئے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ دنیا کی بہت کم ایسی ایجادات ہیں جو مسلمانوں کی تجربہ گاہ سے گزر نہ چکی ہو مگر جب فکری جمود کا زمانہ آیا تو اس قوم کے افراد صرف خریدار اور اس کے فقہا محض تفتیش کار ہو کر رہ گئے مائک پر نماز کے جواز اور عدم جواز پر سینکڑوں کتاب اور ہزاروں صفحات مل جائیں گے مگر اس کے موجد کی فہرست میں ایک بھی مسلم نام نہیں ملے گا ۔ہوائی جہاز پر نماز ہو گی یا نہیں اس کی ہیئت کیا ہو گی اس پرمکمل رسالہ مل جائے گا مگر اس کے پارٹ پرزے اور اس ضمن میں کو ئی نیا کام کر نے والا یا اس کی کوئی نئی تکنیک پیش کر نے والا نہیں ملے گا ٹیلی فون وموبائل کی خبر پر مجادلانہ بحثیں مل جائیں گی مگر اس کے ایجاد میں اس قوم کے فرد کا نام کہیں نظر نہیں آئے گا ٹرین پر نماز کے سلسلے میں گروپ بند نظریات مل جائیں گے مگر ایک ڈبہ بنانے کا سہرا ان کے سر نہیں دکھائی دے گا حال ہی میںایسے ہی مباحث کی ایک نئی بزم آراستہ ہو گئی ہے آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت کرونا نامی وبائی مرض نے پوری دنیا کی حالت تباہ کر ڈالا ہے پورا ایک سال کا عرصہ لگ گیا ہے مگر جدید دور کی طبی تجربہ گاہ اس کی ویکسین کو آخری روپ نہیں دے سکی ہے معاملہ ابھی بھی زیر غور ہے کہ بننے والی ویکسین واقعی مفید ہو گی یا نہیں مگر پھر بھی جن اداروں اور افراد نے انتھک کو ششیں کی ہیں اس مرض کا شکار فرد بعد صحتیابی اس کا ممنون کرم ضرور ہو گا اگر چہ ہمارے عقیدہ کا حصہ ہے کہ شفا دوا میں نہیں ہو تی شافی مطلق اللہ تعالی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ تجربہ کامیاب رہا تو اس ویکسین کے موجدین اور ادارے نوبل انعام سے نوا زے جا ئیں اس لئے کہ ایسی ہلاکت خیز بیماری انسانی سماج نے صدیوں بعد دیکھا ہے
مگر خیر امت کا حال دیکھئے کہ ان کے مذہبی پیشوا کیا کر رہے ہیں ابھی ویکسین تجربہ کے مراحل سے گزر رہی ہے اور یہ فقہی مباحث میں الجھ رہے ہیں بات صرف علمی اور سنجیدہ اختلاف کی ہو تی تو کوئی بات نہیں ایک دوسرے کو ناپنے تولنے کا ترازوبھی قائم ہو نے لگا ہے جیساکہ مائک و کیمرہ اور ٹرین و ٹی وی پر ہو چکا ہے میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ فقہی اور علمی مباحثہ رکنا نہیں چاہئے مگر یہ روش مجھے پسند نہیں کہ اختلاف کے علمی اصول کو با لائے طاق رکھ دیا جائے ۔مجھ جیسے بہت سے لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ شاید اسلامی دنیا سے کو ئی طبیب اٹھے اور چیچک کی طرح کرونا کی ویکسین کے ایجاد کا فریضہ انجام دے مشہور طبی ادارہ ہمدرد کے عزم سے مسرت ہو ئی تھی مگر اس کا کام شاید آگے نہیں بڑھ سکا انگریزوں کی بالادستی کے زمانے میں جب بھارت میںتیزی سے یوروپ کے سائنسی نظریات کی اشاعت ہو نے لگی اسی زمانے میں حرکت زمین کا نظریہ منظر عام پر آیا تھابر صغیر کے مشہور فقیہ اعلی حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے سائنسی اصول سے فوز مبین میں اس کی تر دید کیا مجھے حیرت ہو ئی جب میں ایک ٹیکنیکل یونیورسیٹی کے طلبا کی دعوت پر سیرت کے اجلاس سے خطاب کر نے گیا تو بیشتر طلبا کے پاس اس کتاب کو پا یا اور اس کے مباحث سے واقف بھی پایا۔لوگ اس جماعت کے فقہا اورصوفیہ سے امیدوا رتھے کہ شاید یہاں سے کو ئی دوا یا دعا ملے جو اس وبا سے انسانیت کو نجات دلانے میںموثرہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ادھر چند سالوں سے اولیا ء اللہ کے تصرفات کے قائلین کو کہتے سن رہا ہوں:رہے ہوں گے کسی زمانے میں کوئی صاحب تصرف ولی اللہ (حالانکہ تصرفات و کرامات ولایت کی دلیل نہیں )اب کوئی نہیں ہے اگر ہو تے تو ہمیں ظالم انسان اور حیران کن امراض سے نجات کی کوئی نہ کوئی تجویز ضرور بتا تے
ان حا لات میں کیا امت مسلمہ کی ذمہ داری صرف یہی رہ گئی ہے کہ وہ دنیا کے ایجادات کے جائز و ناجائز ہو نے کے احکامات دریافت کر تے رہے کیا ان کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اپنے اسلاف کے ایجادات کو آگے بڑھاتے ہو ئے انسان کی سہولت اور اسے مشکلات سے بچانے والی
چیز
یں ایجاد بھی کرے اگر ہم اس روش پر روا دواں ہو تے تو شاید اس فقہی اختلاف کی نوبت ہی نہیں آتی کہ ویکسین جائز ہے یا نا جائز؟ اور اس میں خنزیر کے اجزا شامل ہیں یا نہیں ؟اگر ہم بھی حلال اشیا کو اس کی طبی افادیت سے پرکھنے والی لقمانی نظر رکھتے تو اس سے حلال چیزوں کی افادیت کے ساتھ ساتھ ہم اسلام کی حقانیت کو بھی ثابت کر سکتے ۔
اگر کرونا ویکسین میں خنزیر کا اجزا شامل ہیں تو مباحثہ ہو نا چاہئے، میں ان علما کے فقہی مباحث کو کوڑا کا ڈھیر سمجھنے والوں میں سے نہیں ہوں مجھے معلوم ہے کہ فقہ اسلامی ایک وسیع سمندر ہے اور اس کے دامن میں اتنے جزئیات ہیں اس عنوان پر اتنی کتابیں ہیں جو قیامت تک پیدا ہو نے وا لے مسائل کا حل پیش کر سکتی ہیں مگر یہ علما و فقہا مسلم سماج میںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کی حیثیت سے جانے مانے جا تے ہیں اور پیغمبر اسلام نے صرف حلت و حرمت کے مسائل ہی نہیں بیان کئے ہیں بلکہ سماجی ،عائلی ،خاندانی ،قانونی ،سیاسی اور طبی الجھنوں کو بھی دور فر مایا ہے باضابطہ طب نبوی پر کتابیں مو جود ہے جہاں شہد و کلونجی کے طبی فوائد کی احادیث ہے وہیں ایک قوم کے سلسلے میں اونٹ کے پیشاب سے علاج کرنے کی حدیث بھی ہے اس لئے جماعت علما و فقہا کی ذمہ داری تھی کہ کم از کم اس میدان کے ماہرین کے ساتھ اپنی دینی بصیرت اور ان کی طبی بصیرت کو پیش نظر رکھ کر کچھ کرتے تاکہ کرونا کے کامیاب ویکسین نہ سہی کوششش کر نے والوں میں ان کا نام آجا تا
بہر حال ایک نہ ایک دن تو یہ واضح ہو ہی جائے گا کہ اس ویکسین میں کیا کیا اجزا ہیں اور فقہی حکم بھی اختلاف رائے کے ساتھ لوگوں کو معلوم ہو جائے گا مگر WHOکی تمام تر ہدایات کے با وجود کیا آپ کو لگتا ہے کہ ویکسین کے ایجاد پر اربو کھرب ڈالر لگانے والا ادارہ بڑی آسانی اور دیانتداری سے اس کے صحیح اجزائے ترکیبی کا انکشاف کر دے گا کیا آپ نے کہیں کاروباری ذہن رکھنے والے کا یہ طریقہ دیکھا ہے میرا تجربہ تو یہی ہے کہ باپ بیٹے کو اور استاذ شاگرد کو بھی اپنا خصوصی راز نہیں بتا تا ہے مگر :
ہم کو سچ کی ہے ان سے امید
جو جانتے نہیں کہ سچ کیا ہے
کرونا ویکسین کا ایجاد کر نے والا ادارہ یا ملک موجودہ دور میں میڈیسن کی تجارت پر قابض کی حیثیت سے اٹھے گا بھلا وہ کیسے آسانی سے اپنا فارمولہ عام کر دیگا کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس میں سور کی چربی کے استعمال کی بات اس وجہ سے بھی ہو کہ کو ئی مسلم ملک یا ادارہ اس کے نقل کر نے کی جرات نہ کر سکے اور دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہماراخریدار رہے خیر معاملہ جو بھی ہو یہ بات حقیقت ہے کہ ہم ہزار فتاوی دینے کے با وجود اب تک ان چیزوں کے استعمال پر روک نہیں لگا سکے جو صرف زینت کے محل میں ہے جیسے کہ شیمپو ،صابن اور لپ اسٹک ،تو کرونا ویکسین تو ضرورت کی منزل میں ہے بہت ممکن ہے کہ بعض اصحاب عزیمت جان دینا گوارہ کر ے مگر ویکسین نہ لے مگر اکثر افراد اس ضمن میں جاری عدم جواز کے فتاوی کا ذرہ برابر خیال نہیں رکھیں گے مگر فقہا کا کام صرف حکم بتا ناہے اور وہ بتا رہے ہیں نئی صورت حال کاحکم دریافت کر نے میں اختلاف ایک فطری چیز ہے اس لئے اختلاف اصول اختلاف کی روشنی میں کیجئے جن علما نے جواز کا حکم دیا ہے ان کے دلائل اور حالات کا احترام کیجئے