کالم

کنویں کی ایک الاپ

ازقلم: طارق فراز

خدا جب کسی کو کچھ خاص دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے غم دیتا ہے۔ غم انسان کو وجود کا احساس دلاتا ہے۔ غم ایک روحانی ہوائی اڈہ ہے جہاں خدائے عزوجل اپنے تار جوڑ کر خیال و خبر عطا کرتا ہے۔ جب مجھے غم عطاء ہوا تو پتہ چلا کہ میں لوگوں کی پیاس بجھاتا ہوں۔

میرے خدا نے مجھے ایسی جگہ تعمیر کیا ہے کہ جہاں ایک مدت سے تپتے ہوئے صحراؤں اور کڑی دھوپ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ عام طور پر لوگ یہاں سے گزرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ شاید یہی میری قسمت ہے۔ میرے خدا نے مجھے شاید کسی خاص مقصد کے لئے بنایا ہو۔ میرے خدا نے مجھے ایسی تاثیر دی ہے کہ جو بھی میرے نزدیک ہوا اسکوسکون ملا۔ خدا نے میری تخلیق کیوں کی، کب کی، کیسے کی، کس سے کرائی، اسکی مجھے خبر نہیں….!

خلق خدا میرے دامن میں اپنی ڈولچی ڈال کر ہمیشہ اپنے حصے کا پانی نکال لیتی ہے۔ مجھے اس پر بہرکیف کوئی اعتراض نہیں۔ شاید یہی میرا کام ہے۔ اب آپ اس سوچ میں ڈوب چکے ہوں گے کہ آخر میں ہوں کون….؟ میں….. پہلے میں ایک چشمہ تھا لیکن اب میں ایک کنواں ہوں جسے اولاد آدم نے کھود کر بنایا ہوگا۔ اب آپ سوچنے لگے ہوں گےکہ میں بول کیسے رہا ہوں ؟ ظاہر ہے آپ بھی آدم و حوا کے خاندان سے ہوں گے۔ جب آپ لوگ مجھے گٹک جاتے ہیں تو اسی صحرا کے سناٹے میں صبح تک میرا خدا اپنی خاص قدرت سے مجھے دوبارہ لبالب کر دیتا ہے۔ "مجھے کمی نہیں ہوتی کبھی محبت کی…… یہ میرا رزق ہے اور آسمان سے آتا ہے”
اکثر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں محض ایک کنواں نہیں ہوں بلکہ اس کرۂ ارض کے جگر میں لگا ہوا ایک گہرا زخم ہوں جس کی حیات تازہ اور ہرا رہنا ہی مقدر ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ وہ میرے کلیجے سے خون نہیں بلکہ پانی کے قطرے نکالتی ہے۔

مجھے خبر ہے کہ آج کل دنیا والوں نے ہماری مکمل نسل کشی کر دی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اب مشین سے میرا خون جگر نچوڑ کر ا سے بکنے کے لئے بازار کی رونق کر دیا جاتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ آج کی دنیا بہت ترقی کر چکی ہے۔ بڑے بڑے شہر بس گئے ہیں۔ اور میرے دامن سے میرا خون جگر نچوڑنے کے لئے اور بہت سے ذرائع ہوگئے ہیں۔ مگر آج بھی جب دنیا کے صحراؤں میں اور خونخوار جنگلوں میں حضرت انسان کو پیاس لگتی ہے تو محض میں ہی اسے بجھاتا ہوں۔
میں نے صدیوں تک اجنبیوں کو سیراب کیا ہے اور ابھی بھی یہ کام جاری ہے۔ خدا کے حکم سے میں نے یہ نہیں دیکھا کہ میرا پانی کون پی رہا ہے؟ میرا اپنا ہے یا غیر۔ میں نے تو مذہب، فرقہ، قبیلہ اور ملک بھی نہیں دیکھا۔ یہ بھی نہیں دیکھا کہ کون زاہد ہے اور کون گنہگار۔ نہ کالا دیکھا اور نہ گورا۔ خیر….. یہ ساری بیماریاں تو انسانوں میں ہی پائی جاتی ہیں۔

جب تک مجھ میں جان تھی اور میرا پانی شیریں تھا، سبھی سیراب ہوتے رہے۔ مگر میں جیسے ہی اپنی بے خبر مجبوریوں کی وجہ سےتیکھا اور کھارا ہوگیا تو یہی سیراب لوگ مجھ میں تھوکنے لگے اور مجھ میں پتھر پھینک پھینک کر مجھے پاٹنے کی کوشش میں گم ہوگئے۔ کاش میں نے صرف کتوں کو پانی پلایا ہوتا تو آجکل وہ میرے ارد گرد چکر کاٹ رہے ہوتے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بدبخت اپنی پیاس بجھا کر مجھ میں زہر ملا کر چلا گیا ہو۔ جیسے اسے دوبارہ پیاس نہیں لگنی اور اس کا گزر تپتے ہوئے صحراؤں اور خطرناک جنگلوں سے نہیں ہوگا۔
یہ بے حس اور بے غیرت انسان بھی کتنا چھوٹا جانور ہے اپنی بے وفائی اور احسان فراموشی پر بھی اتراتا پھرتا ہے۔ مگر مجھ میں بھی ایک ہنر ہے وہ یہ کہ میں اسی بے غیرت تخلیق کو بہشتی بنا دیتا ہوں جسے ہندوستان میں کبھی "بھشٹھی” بھی کہا جاتا رہا ہے۔

خدا نے مجھے وہ صلاحیت نہیں دی کہ میں انسان سے کہہ سکوں کہ اگر کل میں خدا سے سوال کر لونگا تو تم اپنے رب کوضرور شرمندہ کرو گے۔ شاید مجھ میں اتنی سکت نہیں۔ لوگو میں ان سوالوں سے تمہارے خدا کو شرمندہ نہیں کر سکتا کیونکہ میرا خدا بھی وہی ہے۔ میری نسل اور میری عمر بھی اب ہو چلی ہے اور میری تمنا اور آرزو ہے کہ مجھے کوئی بھی جگہ ملے، دوزخ یا بہشت، میں فقط پانی پلانے والوں اور سکون پہنچانے والوں میں ہی شمار کیا جاؤں کیونکہ یہ پیغمبروں کے کام جیسا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خدا کا ڈاکیہ پیغام کے ساتھ ساتھ روحانی مسرت بھی لاتا ہے اور پوری انسانیت کے لئے رحم دل بھی۔
میرے رب مجھ سے میرا کام نہ چھین لینا…..!

کالم نگار: طارق فراز