ائمہ کرام

امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کی فقہی بصیرت

محمد محیب احمد فیضی، بلرام پوری
استاذ/ دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور
Email:faizimujeeb46@mujeebhamariaawaz

اللہ تبارک تعالی کا یہ بے پایاں کرم ہے کہ اس نے شرعی مشکلات کے حل کے لئے اس روئے زمین پر ائمۂ کرام رحمہم اللہ کو پیدا فرمایا۔ائمہ اربعہ میں سے ہر ایک ہمارے سروں کے تاج اور وقت کی ضرورت ہیں اگر ان کی اجتہادی کاوش اور فکری رہنمائی نہ ہوتی تو عمل کے راستے آسان نہ ہوتے۔امت مسلمہ میں کافی اختلاف وانتشار ہوتا اور لوگ آئے دن عمل کی دشواریوں میں مبتلا ہوتے۔اگر ہم بات کریں دوسری صدی ہجری کی تو اسلامی شخصیات میں ایک ممتاز ومنفرد نام کشف الغمہ سراج الامۃ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا آتا ہے۔دنیائے اسلام میں آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے۔آپ کے وجود مسعود سے عالم اسلام کو علم وفقہ کی جو سوغات ملی ہے وہ تاقیام قیامت یادگار رہے گی اور رہتی دنیا تک لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں گے ۔چودہ صدیوں کی طویل مدت میں زمانے نے نہ جانے کتنے اور کیسے رنگ دکھلائے نہ جانے کتنی کروٹیں بدلیں،چڑھاؤ اتار آئے مگر آپ کی شہرت ومقبولیت بجائے گھٹنے کے دن بہ دن بڑھتی چلی گئی۔آپ کے علم وفکر کی نوری شعاؤں سے کائنات ذہن وفکر میں وسعت وکشادگی کے ساتھ اجالا پھیلتا رہا۔آپ کی دینی خدمات آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں بالخصوص تدوین فقہ ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت مذہب حنفی پر عمل اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتی ہے۔یہ بات وثوق واعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مذاہب اربعہ میں جو پزیرائی مذہب حنفی کو حاصل ہے وہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں زیادہ اور کافی حدتک اطمینان بخش ہے۔ائمہ ثلثہ کے مقلدین کی تعداد میں عروج وزوال آتا رہا،ان کی پیروی کرنے والوں میں کمی زیادتی ہوتی رہی لیکن مذہب حنفی کے مقلدین کی تعداد روز بروزبڑھتی رہی اور آئے دن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔

نام ونسب، کنیت
حضرت امام اعظم رحمہ اللہ کا اسم گرامی” نعمان” اور کنیت "ابو حنیفہ” ہے۔سن ۸۰/ہجری میں سرزمین کوفہ میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
آپ کے والد گرامی نام” ثابت "ہے۔آپ فارسی النسل ہیں۔آپ کے آباء واجداد کبھی کسی کی غلامی میں نہ رہے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت” ابو حنیفہ” بیان کی جاتی ہے جس پر محققین اور تذکرہ نگاروں کا اتفاق ہے مگر اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ اس کنیت کو آپ نے کس وجہ سے اپنایا۔ بعض لوگوں نے اس کو آپ کے صاحبزادے کی جانب منسوب کرنا چاہا مگر یہ نسبت صحیح نہیں کیوں کہ تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ: آپ کے پاس صرف ایک ہی صاحبزادہ تھا جس کا نام "حماد "تھا نہ کہ حنیفہ لہذا ان کی جانب منسوب کرنا صحیح نہیں کہ آپ نے یہ کنیت اپنے بیٹے کے نام سے اپنائی۔لہذا اکثر تذکرہ نگاروں نے ابو حنیفہ کنیت کی یہ توجیہات بیان کی ہیں:

حنیفہ ، یہ لفظ حنیف کا صیغہ مونث ہے جس کے معنی عبادت کرنے والا اور دین کی طرف مائل ہونے والا ہے۔ کیوں کہ آپ رب کی عبادت کثرت سے کرتے تھے۔

آپ کا حلقہ درس کافی وسیع تھا اور آپ کے شاگرد قلم ودوات رکھا کرتے تھے۔چوں کہ اہل عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لئے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا یعنی دوات والے۔

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان امام اعظم کی کنیت "ابوحنیفہ” کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایک استفسار کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "حنیف اوراق کو کہتے ہیں ،چوں کہ کشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو شروع ہی سے لکھنے کا بہت شوق تھا” مجھ راقم الحروف کو ان توجیہات میں فاضل بریلوی کی توجیہ بے حد پسند آئی۔

علماء اسلام نے تحریر فرمایا ہے۔آپ کے نام "نعمان” کے متعلق ایک زبردست عالم دین علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک بڑا ہی لطیف نکتہ تحریر فرمایا ہے :آپ لکھتے ہیں: "نعمان” کے معنی لغت میں اس خون کے ہیں جس پر جسم کے سارے ڈھانچے کا قیام ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ جسم کے سارے اعضاء کام کرتے ہیں ۔بعض علماء نے کہا کہ : اس کے معنی روح کے ہیں، جس کا مفہوم گہری نظر سے یہ نکلتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کی ذات گرامی اسلام کے لئے بنیاد ومحور اور فقہی مسائل وتعلیمات کے لئے روح کی طرح ہے۔ ((الخیرات الحسان))

آپ کی ذہانت وفطانت
اللہ رب العزت نے آپ کو ذہن ثاقب سے نوازا تھا آپ بڑے ذہین وفطین ہونے کے ساتھ مستحکم حافظہ کے مالک تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ
سیدنا امام اعظم رحمہ اللہ سے کسی شخص نے سوال کیا :کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہ کہتا ہے کہ :مجھے جنت کی کوئی امید نہیں، میں اللہ سے نہیں ڈرتا ،مجھے دوزخ کی کوئی پرواہ نہیں،مردار کھاتا ہوں ،نماز میں رکوع سجدہ نہیں کرتا، میں اس چیز کی گواہی دیتا ہوں جسے میں نے آج تک دیکھا ہی نہیں،میں حق سے نفرت کرتا ہوں اور فتنے سے محبت کرتا ہوں۔آپ نے اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:اس کا کیا جواب ہے؟
استفسار کرنے پر بعض شاگردوں نے کہا:وہ تو کافر ہوگیا،بعض نے سکوت اختیار کیا پھر آپ نے اس گفتگو کو اس انداز میں سلجھایااور فرمایا: یہ شخص جنت کی امید نہیں رکھتا صرف اللہ کی ذات کی امید رکھتا ہے،اور جنت سے اللہ کی محبت اور امید بڑھ کر ہے۔وہ مردار کھاتا ہے ،یعنی مچھلی ذبح کئے بغیر کھاتا ہے۔اور بغیر رکوع اور سجدہ کے نماز پڑھتا ہے یعنی وہ نماز جنازہ ادا کرتا ہے جس میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا ۔وہ بلا دیکھے گواہی دیتا ہے یعنی اس نے نہیں اللہ کو دیکھا مگر پھر بھی اس کی گواہی دیتا ہے۔یہ اس قیامت کی بھی گواہی دیتا ہے جسے اس نے آج تک نہیں دیکھا،
وہ حق سے نفرت کرتا ہے یعنی موت سے نفرت کرتا ہے کیوں کہ موت برحق ہے، وہ فتنہ سے محبت کرتا ہے یعنی وہ اپنے مال اور اولاد سے محبت کرتا ہے جسے قرآن نے فتنہ کہا ہے۔امام اعظم کی یہ باتیں سننے کے بعد وہ شخص اٹھا اور آپ کے سر کو چوما اور کہنے لگا حضور آپ واقعی علم کے سمندر ہیں ،بڑے ذہین وفطین اور ہوشیار ہیں۔میں آپ کے متعلق جو خیالات ورجحانات رکھتا تھا آپ کے روبرو ان تمام چیزوں سے آپ کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہوں۔

زہد و ورع
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علم وفضل میں بے مثل وبے مثال اور یکتائے روزگار ہونے کے ساتھ زہد و پرہیز گاری ،تدوین وتقوی،عبادت وریاضت تلاش رزق حلال وغیرہ میں بے نظیر تھے۔
آپ کے زہد وتقوی کا عالم یہ تھا کہ ہر مشکوک ومشتبہ چیز سے آپ اجتناب واحتراز کرتے، اتنے بڑے فقہ کے امام ہو کربھی رزق حلال کے لئے کپڑے کی تجارت کرتے ،امیر کبیر کے نذرانے ،ہدایا ،تحائف کو جلدی سے اس لئے نہیں قبول فرماتے کہ ان کے اموال میں حلال حرام ہر طرح کااختلاط رہتا۔
دین کے معاملے میں آپ کافی محتاط تھے اور کھانے پینے میں تقوی کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ” کوفہ” میں کسی کی ایک بکری گم ہوگئی تو تقریبا سات سالوں تک حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے کمال تقوی کی وجہ سے بکری کا گوشت نہیں کھایا صرف یہ سوچ کر کہ کہیں گم شدہ بز کا گوشت میرے کھانے میں نہ آ پہونچے،اور سات سال کی تقئید اس لئے تھی کہ ایک روایت کے مطابق بکری کی عمر طبعی سات برس ہے۔

فقہی بصیرت میں مہارت
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنی گوناگوں خوبیوں اور فقہ واجتہاد میں کمال دسترس اور مہارت تامہ رکھنے کی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور ان ادوار کے علماء میں کافی فائق وممتاز تھے ۔ رب کریم کی عطا سے آپ خداداد صلاحیت کے مالک تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اپنی اجتہادی فکر وبصیرت ہی کی بنیاد پر انہوں نے فقہ کا بیڑا اٹھایا اور اسے اس شان وشوکت اور بحسن وخوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہونچایا کہ بڑے بڑے ائمہ ومجتہدین کی آنکھیں تعجب اور حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔جو پیچیدہ مسائل انتہائی غور خوض کے بعد بھی ائمہ وعلماء حل نہ کرسکے آپ نے اپنی کمال تفقہ اور فقہی تبحر سے ہر عقدہ لاینحل کو آسانیوں کے ساتھ حل فرمایا۔
امام ابن حجر مکی کی تصنیف "الخیرات الحسان” کے حوالے سے یہ واقعہ میں قلم بند کررہا ہوں جس سے امام اعظم کی فقہی بصیرت کس قدر گہری تھی آپ خود اندازہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔آپ نے لکھا ہے: ایک بار امام اعمش اپنی شریک حیات سے ناراض ہوگئے اور اس غضبناکی میں اپنی بیوی سے یہ کہہ بیٹھے کہ اگر تم نے مجھے یہ خبردی کہ آٹا ختم ہوگیا تو تمہیں طلاق، اگر آٹے کے ختم ہونے کے بارے میں کچھ لکھا یا آٹا ختم ہونے کے متعلق مجھے کوئی پیغام دیا تو ان تمام صورتوں میں تمہیں طلاق ۔ان کی اہلیہ کو اس پر بڑی حیرانی اور تعجب لاحق ہوا کہ باتوں باتوں میں امام اعمش نے کیا کہہ دیا،وہ سوچنے لگیں کہ یا خدا اب کیا کیا جائے،بہرحال کسی نیک انسان نے آپ کو یہ مشورہ دیا کہ اس مصیبت سے اگر صحیح وسالم نکلنا چاہتی ہوتو چلی جاؤ امام اعظم کی بارگاہ میں اور ان سے یہ ساری باتیں اول فرصت میں کہہ ڈالو ان شاء اللہ وہ اس کا حل نکالنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیں گے۔چنانچہ مصیبت کی ماری کرتی تو کیا کرتی گئی امام اعظم ابوحنیفہ کی بارگاہ میں اور جانے کے بعد اپنا پورا واقعہ تھوڑی ہی دیر میں سنا ڈالا ۔کشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ فرمانے لگے کہ اس میں کیا مشکل بات ہے اس کا حل تو بہت ہی آسان ہے ،کہنے لگی حضور !!وہ کیسے؟ آپ نے کہا:وہ اس طرح کہ تم رات کے وقت ان کے ازار بند کے ساتھ آٹے کا خالی تھیلہ باندھ دینا وہ خود بھی محسوس کریں گے کہ آٹا ختم ہوگیا ہے۔چنانچہ صبح اندھیرے میں جب وہ شلوار پہننے لگے تو انہیں ازار بند کے ساتھ کچھ چیز لپٹی ہوئی محسوس ہوئی جب دیکھا تو آٹے کا خالی تھیلا تھا،انہیں معلوم ہوگیا کہ گھر میں آٹا ختم ہوگیا ہے ۔یہ کیفیت دیکھ کر امام اعمش کہنے لگے خدا کی قسم یہ ترکیب امام اعظم کے سوا اور کسی کو نہیں سوجھ سکتی جب تک وہ رہیں گے ہمیں ایسے ہی شرمندہ کرتے رہیں گے۔