غزل

غزل: اور یہ زخم ہرا رہنے دے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان

اب محبت کو قضا رہنے دے
اور یہ زخم ہرا رہنے دے

اب نہ آنا تو پلٹ کر دلبر
اب مجھے غم پڑا رہنے دے

کیا کہا اپنا بنالوں تجھ کو
تجھ سے نہ ہوگی وفا رہنے دے

روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش نہ کر
وہ خفا ہیں تو خفا رہنے دے

تیری تصویر ہی زخموں کا بنی ہے مرہم
اس کو زخموں پہ سجا رہنے دے

اس کی نس نس سے واقف ہوں
اس نے دی مجھ کو صدا رہنے دے

اب نہ آنا تو پلٹ کر دلبر
اب مجھے غم میں پڑا رہنے دے

دل نہ دینا تو کسی کو فیضان
اس کو سینے میں سجا رہنے دے