تحریر: عبدالمصطفیٰ ازہری
جامعہ حنفیہ رضویہ اٹوا سدھارتھ نگر یوپی
وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (القرآن)
ترجمہ: اورقریب ہے کہ کوئی بات تمہیں ناپسند ہوحالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
یوپی ودھان سبھا 2022 کے نتائج سے ہمیں دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ عزت و ذلت حکومت و بادشاہت رب قدیر کی طرف سے ہے جس چاہے حاکم بنائے اور جسے چاہے رعایا
ہر شکست کے اندر بندہ کے لئے سبق پوشیدہ ہے عقل مند وہی ہے جس نے اپنی شکست سے نصیحت حاصل کی فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ
إس بار کے إنتخاب میں 36 مسلمان لیڈروں نے کامیابی حاصل کر کے مسلم قیادت کا قد آور اونچا کر دیا ہے.
لہٰذا ہمیں مسلم قیادت کو اتحاد و اتفاق کے ذریعہ مزید مظبوط ومستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست میں دیگر لوگوں کی طرح ہماری بھی حصہ داری تسلیم کی جائے یہ تبھی ممکن جب ہم مسلم مخلص قائدوں پر اعتماد کریں گے اور کامیابی و کامرانی کے لئے لائحہ عمل تیار کریں گے
یاد رکھیں حکومت وہی قومیں کرتی ہیں جو متحرک. متحد اور مخلص ہوں. جن کے بچے مذہبی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت رکھتے ہوں اور انکے مذہبی رہنما سیاسی میدان میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوں لہذا ہمارے علماء کرام جہنوں نے سیاست کو شجرہ ممنوعہ سمجھ رکھا ہے آگے بڑھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں تعصب کا شکار نہ ہوں اور وطن عزیز کے اندر پھیلی ہوئی نفرتوں کا خاتمہ ہو۔