تعلیم

مسلمان اہل ثروت سے اپیل!!!

ازقلم: کمال احمد علیمی نظامی

حجاب کو لے کرناٹک ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے امت مسلمہ کو ایک بار پھر سے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنا تشخص بچانا ہے تو ہمیں خود ہی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا،اگر اب بھی ہم خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں مسلمان تو رہیں گے مگر اسلام کی حقیقی روح نہیں رہے گی گی،تین طلاق کا مسئلہ ہو، قرآن مجید کی آیات جہاد کا معاملہ ہو، یا پھر حالیہ حجاب کا فیصلہ، یہ سب باتیں ہماری غیرت ایمانی کو نہ مہمیز کریں تو ہمیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے.
غریب اور مزدور طبقہ سے کیا شکوہ شکایت، وہ تو بے چارے دو وقت کی روٹی کو ہی کل متاع حیات سمجھتے ہیں، ہمیں شکوہ ہے تو اس طبقہ اشرافیہ سے ہے جس کے پاس نہ دولت کی کمی ہے، نہ وسائل کی، جن میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو اکیلے کئی کئی کالجز اور یونیورسٹیز بنا کر چلا سکتے ہیں،مگر ان کی ساری توجہ اپنی ٹھاٹ باٹ، شان وشوکت اور خود نمائی کی طرف ہوتی ہے، کاش اب بھی انہیں یہ بات سمجھ میں آجاتی کہ اگر رب العالمین نے انہیں دولت دی ہے تو اس کا حساب بھی لے گا، بے جا مصارف میں پیسہ پانی کی طرح بہانا اور امت مسلمہ کی بنیادی ضرورتوں سے چشم پوشی کرنا ایسا جرم ہے جسے احکم الحاکمین کبھی معاف نہیں فرمائے گا.
کاش یہ بات اہل ثروت سمجھ جاتے کہ اگر ہم نے اچھے اسکول اور کالجز کھولے ہوتے تو ہماری قوم کی عفت مآب بیٹیوں کو نامردوں سے مقابلہ آرائی نہیں کرنی پڑتی، نہ ہی کوئی ان کے حجاب پر انگلی اٹھانے کی جرات کرپاتا.
ایک مفت کا مشورہ ہے، شاید اہل ثروت قبول کریں، اسکول اور کالجز اگر بزنس پرپز سے کھولے جائیں تو بھی اس میں نقصان نہیں، بلکہ اب یہ بات مسلم ہے کہ تعلیمی ادارے آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، اگر بزنس ہی کی نیت سے اہل خیر حضرات اس کام میں آگے بڑھیں تو اس میں ان کا ذاتی فائدہ بھی ہے اور ملت اسلامیہ کی منفعت بھی، جیسے دیگر امور میں پیسے انوسٹ کرتے ہیں اس میدان میں بھی طبع آزمائی کرلیں، ان شاء اللہ فائدہ ہی فائدہ ہوگا.
واضح رہے کہ آج بھی کچھ اہل خیر ہیں جو تعلیم کے میدان میں مالی تعاون کررہے ہیں، ان کے مالی ایثار سے بہت ساری دینی وعصری دانش گاہوں کا وجود قائم ہے، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔