سیاست و حالات حاضرہ

بھارت دو راہ پر

ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اب محض ایک عدالتی معاملہ نہیں رہا، یہ بھارت کی جمہوری ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر فیصلہ الیکشن کمیشن کے حق میں آتا ہے تو بی جے پی، جو اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہے، ایک بار پھر حزبِ اختلاف پر حملہ آور ہو گی اور الیکشن کمیشن پہلے کی طرح اپنی راہ پر گامزن رہے گا۔ لیکن اس صورت میں سپریم کورٹ بھی ملک کے ایک بڑے طبقے کا بھروسہ کھو دے گی۔ ایسے میں 17 اگست سے بہار میں راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والا حزبِ اختلاف کا دورہ روکنا حکومت کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ غریب اور اقلیتی طبقات میں یہ تاثر گہرا ہو جائے گا کہ ان سے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے اور سرکاری امداد کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً یہ طبقہ راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور بائیں محاذ کے ساتھ سڑکوں پر اُتر آئے گا، اور نتیش سرکار کے لیے حالات قابو میں رکھنا دشوار ہو جائے گا۔

راہل گاندھی واضح طور پر طے کر چکے ہیں کہ ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے معاملے کو سڑکوں پر لے جانا ہے۔ اگر سپریم کورٹ اپنی ساکھ بچانا چاہتی ہے تو اسے بہار کا انتخاب پرانی ووٹر لسٹ کے مطابق کرانے کا حکم دینا ہوگا اور موجودہ ایس آئی آر کی اصلاح کی اجازت دینی ہوگی۔

اصل میں بہار کا انتخاب مودی سرکار کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ ہے۔ "آپریشن سندور” کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کہنے پر روکنا اور بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف کا نفاذ وزیرِ اعظم کی "وشو گرو” شبیہ کو گہرا دھچکا دے چکا ہے۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ سیز فائر کسی تیسرے ملک کے دباؤ پر نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ بارہا—بلکہ 32 بار—یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تجارتی دباؤ ڈال کر بھارت-پاک جنگ رکوا دی۔

لوک سبھا میں راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم کو چیلنج دیا کہ اگر یہ دعویٰ جھوٹ ہے تو ٹرمپ کو کھلا جواب دیں۔ لیکن وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا۔ اس خاموشی نے اپوزیشن کو مزید شہ دی ہے۔

مودی سرکار جانتی ہے کہ عالمی سطح پر چاہے کتنی ہی سبکی کیوں نہ ہو، بہار میں شکست اس کے لیے اندرونی سیاست میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ اس لیے بی جے پی یہ انتخاب ہر قیمت پر جیتنا چاہے گی، کیونکہ اگر بہار میں شکست ہوئی تو مرکز میں حکومت بچانا مشکل ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ کے جج اس وقت بھاری دباؤ میں ہیں۔ لیکن اگر بھارت اور اس کی جمہوریت کو بچانا ہے تو انہیں دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلہ دینا ہوگا، چاہے اس کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ موجودہ ایس آئی آر میں واضح خامیاں ہیں، اور اگر اسی بنیاد پر انتخاب کرائے گئے تو ملک کو انارکی کی جانب جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ بھارت کی جمہوری ساکھ عالمی سطح پر بکھر کر رہ جائے گی۔

دنیا بھارت کو ایک مستحکم جمہوریت کی مثال کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، مگر اگر الیکشن کمیشن—جو غیر جانبداری کا ضامن ہے—ایک سیاسی جماعت کے لیے امپائر کا کردار ادا کرنے لگے تو انتخاب اپنی معنویت کھو بیٹھے گا۔

راہل گاندھی کی نظر صرف بہار تک محدود نہیں۔ وہ پورے ملک میں عوام کو بیدار کرنا چاہتے ہیں، اور موجودہ حالات میں عوام کا غصہ حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کے خلاف ہے۔ مودی سرکار بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گی؛ وہ اپنی حکومت بچانے کے لیے سخت سے سخت قدم اٹھائے گی۔

آج بھارت دو راہ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ جمہوریت اور عوامی حقِ رائے دہی کی حفاظت کی طرف جاتا ہے، دوسرا راستہ اس جمہوریت کو کمزور کرنے کی طرف۔ فیصلہ اب عدالت کے ہاتھ میں نہیں، عوام کے ہاتھ میں ہے—کیونکہ اصل طاقت وہی ہیں۔

تحریر: مشرف شمسی
میرا روڈ ،ممبئی
موبائیل 9322674787

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے