تحریر: عبدالسبحان مصباحی
استاذ: جامعہ صمدیہ دار الخیر ،پھپھوند شریف،ضلع اوریا ،یوپی
اللہ عزوجل نے رسول اکرمﷺکو اس خاکدان گیتی پر آخری نبی ورسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپﷺکے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ نبوت ورسالت کے سلسلۃ الذہب کی آخری کڑی آپﷺکی ذات والا ستودہ صفات ہے۔”وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ “۔
رب ذوالجلال نے آپﷺکے لئے ایسے اعوان وانصار،افراد و رجال،اصحاب واشخاص اور معین ومددگار نفوس قدسیہ کو منتخب فرمایا جو تن،من،دھن،غرض یہ کہ ہر جہت واعتبار سے ہمہ وقت آپﷺپر پروانہ وار نثار رہے۔ ہر مشکل ترین گھڑی میں آپﷺکا ساتھ دیا۔ جان و مال،دولت وثروت ،حکومت و سلطنت اور اپنی عزیز اولاد کی قربانی دی وغیرہ وغیرہ۔
وہ صحابۂ کرام جن کی اطاعت واتباع ہمارے لیےباعثِ نجات، جن کی گفتار وکردار ہمارے لیے فلاحِ دارَین کا معیار، جن کی نشست وبرخاست ہمارے لیے سِرِّ فوزِ کَونَین، جن کی جلوت وخلوت ہمارے لیے حیاتِ جاودانی کا لائحہ عمل، جن کا کردار وعمل ہمارے لیےقانونِ زندگی، جن کی سِیَر و سوانح ہمیں اصولِ حکومت ودستورِ جہاں بانی عطا کریں، جن کی غلامی ہمارا نصب العَین، جن کی ہر ادا ہمارے لیےواجب العمل، جن کی اقتدا ہماری ہدایت کی ضامن ہے۔ اُن کے بارے میں نبی آخر الزماںﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :
”عَلَيْكمْ بسُنّتِي وسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكوا بِها، وَعَضُّوا عَلَيْها بالنَّوَاجِذِ“۔
[مشکوٰۃ شریف، باب الاِعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی،ص:۳۰، مجلسِ برکات]
”أصحَابِي كَالنُّجُومِ ، فَبِأيِّهِم اِقتَدَيتُم اِهتَدَيتُم“۔
[ایضًا، مناقب الصحابۃ ،ص:۵۵۴]
اس عالم رنگ و بو میں صحابۂ کرام کی وہ مقدس و پاکباز جماعت ہے جن کی عدالت وثقاہت، عظمت و رفعت، عفت و پارسائی، زہد و تقوٰی، جرأت و جسارت، ہمت و جوانمردی، شجاعت و بہادری، حق گوئی و حق پسندی، استقامت علی الحق، خدا داد صلاحیت و لیاقت، عزم وحوصلہ، فکر ومزاج، خوش اخلاقی و سلیقہ مندی، پاکیزگئ اخلاق و کردار، گفتارو کردار وغیرہ وغیرہ ایسے سینکڑوں اوصاف و کمالات ہیں جن کی قسمیں کھائی جا سکتی ہیں۔
قرآن و حدیث میں تما م صحابۂ کرام کو عادل،ثقہ،ثبت،متقی و پرہیزگار اور زہد و ورع وغیرہ صفات حسنہ سے بارہا یاد کیا گیا ہے۔جس طرح انبیائے کرام کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام ضروری ہے اسی طرح تمام صحابۂ کرام کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام ضروری ہے،اور ان کی مقدس شان میں گستاخی بہت بڑا جرم اور نا قابل معافی ہے۔
بلا شبہ صحابۂ کرام عدالت و ثقاہت کی دنیا کے مسلّم الثبوت بے تاج بادشاہ ہیں۔
قرآن وحدیث میں صحابۂ کرام کے بے شمار فضائل و محاسن،محامد ومناقب اور حسنات وبرکات وارد ہیں جن میں سے چند فقط احادیث مقدسہ درج ذیل ہیں:
﴿١﴾ ”أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإنَّهُم خِيَارُكُم“۔
[مشکوۃ شریف: باب مناقب الصحابۃ، الفصل الثانی،ص : ۵۵۴، مجلس برکات]،
میرے صحابہ کی تعظیم و تکریم کرو کیونکہ وہ تم سب سے افضل وامثل ہیں۔
﴿٢﴾ ”اللّٰهَ اللّٰهَ في أصْحابِي،لا تَتَّخِذَوهُمْ غَرَضاً بَعْدِي،فَمَنْ أحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أحَبَّهُمْ،ومَنْ أبْغَضَهُمْ فبِبُغْضِي أبْغَضَهُمْ،ومَنْ آذاهُمْ فقد آذانِي،ومَنْ آذاني فقد آذى اللَّهَ، ومَنْ آذى اللَّهَ يُوشِكُ أنْ يَأْخُذَهُ “۔
[ترمذی،ج،ثانی، أبواب المناقب،باب فیمن سبّ أصحابَ النبیﷺ،ص: ۲۲۶،مجلس برکات،حدیث نمبر:۳۸۶۲]
میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو،میرے بعد انہیں اپنی اغراضِ بد کا نشانہ نہ بنانا،جو شخص ان سے محبت کرتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے، جس نے انہیں تکلیف و ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی، اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالی کو ایذا دی، اور جو اللہ تعالی کو ایذا دیتا ہے تو قریب ہے کہ وہ اللہ کی گرفت و پکڑ میں آ جائے۔
﴿٣﴾ ”مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالمِلحِ في الطَّعَامِ، لَا يَصلَحُ الطَّعَامُ إلَّا بِالمِلحِ“۔
[مشکوٰۃ: بتفصیل سابق]
میری امت میں میرے صحابہ کھانے میں نمک کی مانند ہیں،اور کھانا نمک ہی سے اچھا بنتا ہے۔
﴿٤﴾ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَن اِختِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحَى إِلَيَّ : يَا مُحَمَّدُ!ﷺ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ في السَّمَاءِ، بَعْضُهَا أَقْوَی مِنْ بَعْضٍ، ولِکُلٍّ نورٌ، فَمَنْ أخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِن اخْتِلاَفِهِمْ فَهُمَ عِنْدِي عَلَى هُدًى“ قال: وَقال رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ ”أصحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأيِّهِم اِقتَدَيتُم اِهتَدَيتُم“۔
[ أیضًا،الفصل الثالث،ص:۵۵۴]
میں نے اپنے رب تعالیٰ سے اپنے بعد صحابۂ کرام کے اختلاف کے بارے میں دریافت کیا،تو اس نے میری طرف وحی فرمائی: اے محمد!ﷺ بلا شبہ آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں،جن میں سے بعض دیگر بعض سے قوی تر ہیں،[اس کے باوجود] ہر ایک کے لیے نور و نکہت اور روشنی ہے، تو جس نے ان کے اختلافات میں سے کسی بھی اختلافی مسئلے پر عمل کیا،تو وہ میرے نزدیک ہدایت و راہِ راست پر ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں،جس کی بھی اقتدا و پیروی کروگے ہدایت پا جاؤگے۔
ان کے علاوہ متعدد آیات طیبات اور احادیث بینات ہیں جن میں خلّاقِ دو جہاں و حبیبِ کبریاﷺ نے جاں نثار،وفا شعار صحابۂ کرام کی عظمت شان کا ذکر رفیع فرمایا ہے۔
مشاجرات و محارباتِ صحابہ کی بابت ہم اہل سنت کا موقف:
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل، ثقہ، اصحاب علم و فضل اور پیشوایان امت ہیں، امت کے امین اور ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے لیے ستاروں کی مانند ہیں۔
اور ان کے باہمی مشاجرات ومحاربات، مناقشات و تنازعات،لڑائیوں و جنگوں اوراختلاف وانتشار کی وجہ سے کسی کو برا نہ کہا جائے، جو بھی ان کے مابین ہوا وہ مبنی بر اجتہاد تھا، ان سب کا ذکر بھلائی و خیر ہی کے ساتھ کیا جائے، خواہ الگ الگ ذکرہو یا سب کا ایک ساتھ ،خیر ہی سے ہونا فرض ہے۔
ان کے باہمی مشاجرات و محاربات میں اغماض و سکوت اختیار کیا جائے،اور کسی کو برا بھلا نہ کہا جائے، ان معاملات میں وہ اجتہاد و تاویل کرنے والے تھے،ہرفریق و گروہ خود کو براصابت و بر حق اعتقاد کرتا تھا،جس کی وجہ سے وہ مستحق اجر و ثواب ہیں۔
ان کے باہمی معاملات میں پڑنا دنیا و آخرت برباد کرنا ہے،لہٰذا ہم اپنی زبان و قلم کو ان سے آلودہ کرنے کی بجائے ان محاربات و مشاجرات کی بہتر تاویل کریں گے، ورنہ وہ روایتیں مردود و مطرود ہوں گی اور ان سے سکوت و کف لسان ضروری ہے۔
”إذا لم يكن التاويل وجب رد الرواية، وجب السكوت وتركُ الطعن.“
الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية،ص: ٣٠]
جب روایات کے درمیان تاویل و تطبیق ناممکن ہو تو وہ روایت مردود، ناقابلِ عمل ہوگی اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی باہمی جنگوں کے بارے میں سکوت و خاموشی واجب و ضروری اور ان کی مقدس شانوں میں طعن و تشنیع کی زبان و قلم کو خاموش رکھنا ضروری ہے.
اہل سنت والجماعت کے نزدیک کوئی بھی صحابی گناہ سے معصوم نہیں،اور نہ ہی ہم انبیاء کرام علیہم السلام کے سوا کسی کو معصوم مانتے ہیں۔ صحابۂ کرام ایک ایسی مقدس جماعت ہیں ،جنہیں، اللہ تعالیٰ نے شریعت کی حفاظت و صیانت اور آپ ﷺ کی نصرت ومدد کے لیے چن لیا ہے،انہوں نے اسلام کی سر بلندی کےلیے جہاد و قتال اور جنگ وجدال کرتے ہوئےاپنی جان،مال،اولاد،خاندان اور وطن عزیز کو راہِ خدا میں نثار و قربان کردیا۔ اور مشکوٰۃِ نورِ نبوت کی نورانی شعاعوں سے ان کے دل نورِ یقین سے منور و تابندہ ہو گئے، اور اس نور میں دن بدن مزید اضافہ ہوتا گیا اور آپﷺ سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبت کی، اور ایسی اطاعت و فرما برداری اختیار کی جس کی مثال و نظیر سے دنیا قاصر ہے۔
رسول مکرم، نبی محتشمﷺ کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام ہر صاحبِ ایمان کے لیے ضروری ہے۔ اور اس کا حق ادا کرنے کے لیے، صحابۂ کرام کی تعظیم و توقیر اور ادب واحترام بھی ضروری ہے۔ تمام آل بیت اطہار ،ازواج مطہرات اور جملہ صحابۂ کرام سے عقیدت و محبت رکھنا نہایت ضروری اور فرض ہے۔
شیخ الاسلام،علامہ، أحمد بن حجر شافعی مکی رحمہ اللہ اپنی کتاب مستطاب ” الصواعق المحرقہ“ میں رقم طراز ہیں کہ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ سب صحابہ کو عادل قرار دے کر انہیں پاک قرار دیں،اور اُن پر طعنہ زنی نہ کریں، اور اُن کی ثنا کریں۔۔۔ جب خدا تعالیٰ نے گواہی دے دی کہ وہ ” خیر الامم“ ہیں تو ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ یہی ایمان و اعتقاد رکھے۔ اگر کوئی یہ ایمان و اعتقاد نہیں رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی خبروں کی تکذیب کرتا ہے۔ بلا شبہ وہ شخص جو اس چیز کی حقیقت میں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ خبر دے چکا ہے۔ شک کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے اجماع سے کافر ہے۔ قرآن کریم میں صحابۂ کرام کو ” خیرالامم“، ”عادل“اور ”نیک“ قرار دیاگیا ہے۔ اور یہ کہ اللہ تعالی انہیں رسوا نہیں کرےگا اور وہ ان سے راضی ہے۔ اب جو شخص اُن سے متعلق ان باتوں کی تصدیق نہ کرے وہ قرآن کریم کے بیان کا مُکذّب ہے۔ اور جو قرآن کے بیان کی ایسی تکذیب کرے جس کی کوئی تاویل نہ ہو سکے وہ کافر،منکر،ملحد اور دین سے خارج ہے۔ [الصواعق المحرقہ،ص: ۴۷۸/۴۸۱،ملتقطًا]
قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ ” شفا شریف “ میں فرماتےہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عظمت و تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ آپﷺ کے صحابۂ کرام کی عزت و توقیر، اُن کے حقوق کی نگہداشت،اُن کی پیروی،خوبی سے اُن کو یاد کرنا،اُن کے لیے طلبِ رحمت کرنا،ان کے باہمی تنازعات و اختلافات سے پہلو تہی اور اعراض کرنا، اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کرنا،اور [اس میں سے یہ بھی ہے کہ] مؤرخین [کی بے سروپا] خبریں اور جاہل راویوں،گمراہ رافضیوں،اہل بدعت وہوا کی وہ خبریں جس میں کسی صحابی کی شان رفیع میں جرح وقدح کی گئی ہے، اور ہر وہ بات جو ایسے لوگوں کی طرف سے [بلا تحقیق] منقول ہو، اُن سب سے بچنا اور اعتماد نہ کرنا لازم ہے۔ اور اسی طرح صحابۂ کرام میں جو باہمی تنازعات ہوئے تھے،انہیں تاویل حسن اور عمدہ مخرج ہر محمول کرنا چاہیے،اس لیے کہ صحابۂ کرام کی علوِّ مرتبت اسی کی مقتضی اور مستحق ہے۔ صحابۂ کرام میں سے کسی کو برائی اورسوء ظنی سے یاد نہ کیا جائے،اور نہ کسی پر کوئی عیب و الزام منسوب کیا جائے۔ بلکہ ان کے فضائل و مناقب،حسنات و برکات اور خصائل محمودہ کو یاد کیا جائے، اور ان کے سِوا دیگر امور سے سکوت و خاموشی اختیار کی جائے۔
[شفا شریف :حصہ دوم،ص: ۵۲/ ۵۳،شبیر برادرز،لاہور،سن۲۰۰۹ء]
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحابۂ کرام سے سچی عقیدت و محبت عطا فرمائے