خواجہ غریب نوازسماج و معاشرہ

خدمت خلق: تعلیمات خواجہ غریب نواز کی روشنی میں

تحریر: شاہ نواز عالم ازہری مصباحی
سربراہ اعلیٰ: جامعہ حنفیہ رضویہ، مانکپور کنڈہ پرتاپ گڑھ یو۔پی۔

بر صغیر ہند و پاک میں صوفیہ کی تاریخ ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ اس دوران یہاں مختلف سلسلوں کے صوفیہ نے امن و محبت اور بھائی چارہ کے پیغامات کو عام کیا اور انسان کو انسان کا بھائی بن کر رہنے کا درس دیا۔ صوفیہ کرام کی تعلیمات کا سب سے نمایاں حصہ ہوتاہے خدمت خلق اور اس کام کے لئے انھوں نے اپنی خانقاہوں کا استعمال کیا۔ ان خانقاہوں میں لنگر کا رواج عام رہا ہے۔ وہ زمانہ جس میں غذائی قلت عام تھی اور لوگوں کو پیٹ بھرنے کے لئے کھانا تک ملنا مشکل ہوتا تھا، صوفیہ اپنی خانقاہوں میں ہر روز ہزاروں افراد کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ بے شمار لوگ جو خانقاہ میں نہیں آ سکتے تھے ان کے گھر پر کھانا بھیج دیا جاتا تھا اور جن لوگوں کے گھر دور تھے ان کے گھر راشن بھیج دیا جاتا۔ خدمت خلق کا یہ طریقہ عام صوفیوں کا طریقہ تھا مگر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر بہت زور دیا اور اسی غریب پروری کے سبب انھیں عوام نے ’’خواجہ غریب نواز‘‘ کے لقب سے پکارنا شروع کر دیا۔ خواجہ صاحب کی تعلیمات میں اگرچہ مختلف قسم کے سبق موجود ہیں مگر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے غریبوں کے امداد و تعاون پر کیونکہ صوفیہ کے نزدیک اللہ تک پہنچنے کا بہتر راستہ ہے اس کے بندوں کی خدمت کرنا۔ اللہ اپنے ایسے بندوں سے خوش ہوتا ہے جو اس کے بندوں کو خوش رکھتے ہیں۔ اللہ کو اپنی مخلوق سے بے حد پیار ہے۔ ایک ماں اپنے بچے سے جس قدر محبت کرتی ہے اس سے بہت زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے لہٰذا وہ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔ صوفیہ کے یہاں بھی اس پر عمل پایا جاتا ہے۔ اللہ والوں کی خانقاہیں ہمیشہ بندگان خدا کے لئے کھلی رہتی تھیں اور یہاں سے ہر کوئی اپنے مسئلے کا حل پایا کرتا تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی کا آستانہ بھی لوگوں کے لئے ہمیشہ پناہ گاہ بنا رہتا تھا اور اسی لئے آپ فرماتے ہیں:

’’عاجزوں کی فریادرسی، حاجت مندوں کی حاجت روائی، بھوکوں کو کھانا کھلانا، اس سے بڑھ کر کوئی نیک کام نہیں۔‘‘ (دلیل العارفین)

خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اس پیغام پر ہمیشہ عامل رہے اور آپ کے اس پیغام کو آپ کے چاہنے والوں نے اپنے لئے حرز جاں بنا لیا۔ آپ کی سیرت میں ملتا ہے کہ کسی کسان کی حاجت روائی کے لئے آپ نے اجمیر سے دلی کا سفر کیا۔ حالانکہ اس کے لئے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ اگر خط لکھ دیتے تو کسان کا کام ہو سکتا تھا اور بادشاہ وقت اس کی مدد کر دیتا مگر غریب کسان کی تالیف قلب کے لئے اجمیر سے دلی کا سفر کیا۔ صوفیہ کے اسی طریقہ کار نے دنیا کا دل جیتا اور انھیں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ بنایا۔ ان کے پیغامات صرف زبانی نہیں تھے بلکہ کردار و عمل کے ذریعے بھی انھوں نے وہی درس دیئے جو اقوال وگفتار سے دیئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خدمت خلق کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ ان کے ایک قول سے ہوتا ہے۔

’’جس میں یہ تین خصلتیں ہوں گی، وہ اس حقیقت کو جان لے کہ خدائے تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے۔ اول سخاوت دریا کی طرح۔ دوسری شفقت، آسمان کی طرح۔ تیسری خاکساری زمین کی طرح۔ فرمایا، جس کسی نے نعمت پائی، سخاوت سے پائی اور جو تقدم حاصل کرتا ہے، صفائے باطن سے حاصل کرتا ہے۔‘‘

نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ کا حکم اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اور ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر خدمت خلق کی اپنی فضیلت ہے اور آج کے دور میں اسی کی کمی ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کی بھیڑ نظر آتی ہے، رمضان میں روزہ رکھنے والے بھی کم نہیں ہیں اور حج کے وقت حاجیوں کی کثرت بھی دکھائی دیتی ہے مگر آج کے معاشرے میں اگر کمی نظر آتی ہے تو خدمت خلق کرنے والوں کی، اللہ کے بندوں کی غمگساری کرنے والوں کی اور اللہ کی مخلوقات سے اس کی رضا کے لئے بے لوث محبت کرنے والوں کی۔

اللہ کے بندوں کی خدمت کرنا، ان کے دکھ درد میں کام آنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کرنا اور پریشان حال لوگوں کی پریشانی کو دور کرنا خواجہ غریب نواز کی زندگی کا مقصد تھا۔ اسے آپ نے اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھا۔ خود قرآن کریم اور سیرت نبوی میں بھی اسی کا حکم ملتا ہے مگر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج نمازی ملتے ہیں، حاجی ملتے ہیں، حج وزکوٰۃ ادا کرنے والے بھی ملتے ہیں مگر خدمت خلق کرنے والوں کی کمی ہے۔ خواجہ صاحب کے بعد جو لوگ آپ کے نقش قدم پر چلنے والے تھے، انھوں نے بھی آپ کے سبق کو یاد رکھا اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کرتے رہے۔ اسی مقصد سے ان کے روحانی جانشینوں نے ملک بھر میں خانقاہیں قائم کیں اور خود کو پوری طرح خدمت خلق کے لئے وقف کر دیا۔ خواجہ غریب نواز نے خدمت خلق کا جو کام شروع کیا تھا وہ بعد کے دور میں بھی جاری رہا اور آپ کے مشن کو آگے بڑھانے والے اس پر عامل رہے۔ صوفیہ کے تذکرے بتاتے ہیں کہ آپ کے مریدین اور خلفاء نے ملک بھر میں خانقاہیں قائم کیں، لنگر شروع کئے اور عوام الناس کی فلاح کے کام کئے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت حمید الدین ناگوری، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء اور ان کے خلفاء ومریدین نے عوامی فلاح کے جو کام کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں اور عین خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے تو اپنے خلفاء کو خاص اسی کام کے لئے بنگال، دکن، گجرات اور مدھیہ پردیش وغیرہ کے علاقوں میں بھیجا تھا جہاں ان بزرگوں نے اس مشن کو آگے بڑھایا جس کے لئے خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ معین الدین چشتی اور دیگر صوفیہ کوشاں رہتے تھے۔ آج خانقاہی نظام تقریباختم ہو چکا ہے اور جو ہے وہ زیادہ تر رسمی ہے مگر جن کاموں کی شروعات پہلے ہو چکی تھی اس کی جھلک آج بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ آج بھی خانقاہوں میں لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اسی لنگر کی یاد ہے جو صوفیہ کی خانقاہوں میں چلا کرتا تھا۔

چشتی سلسلے کے بزرگوں کے ملفوظات، مکتوبات اور تذکروں میں خدمت خلق کا درس ہر دور میں رہا ہے اور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنی مجلسوں میں اس کو بار بار دہراتے رہتے تھے۔ آپ نے جو اپنے مرشد خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات جمع کئے ہیں، ان میں مرشد کے حوالے سے حضرت خواجہ حسن بصری کی کتاب آثار الاولیاء کا ایک حصہ نقل کیا ہے:

’’صدقہ ایک نور ہے، صدقہ جنت کی حوروں کا زیور ہے اور صدقہ 80 ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے جو پڑھی جائے۔ صدقہ دینے والے روزِ حشر عرش کے سائے میں ہوں گے۔ جس نے موت سے قبل صدقہ دیا ہو گا وہ اللہ کی رحمت سے دور نہ ہو گا۔ پھر فرمایا صدقہ جنت کی راہ ہے، جو صدقہ دیتا ہے وہ اللہ سے قریب ہوتا ہے۔

حضرت خواجہ شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ کا لنگر صبح سے رات گئے تک جاری رہتا، جو کوئی آتا کھا نا کھا کر جاتا۔ آپ فرمایا کرتے تھے اگر لنگر میں کچھ نہ ہو تو پانی سے تواضع کروکوئی خالی نہ جائے۔

پھر فرمایا زمین بھی سخی آدمی پر فخر کرتی ہے، جب وہ چلتا ہے تو نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہیں۔

( انیس الارواح ۔ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی، مرتبہ خواجہ معین الدین چشتی)

صدقہ، خدمت خلق کا ذریعہ ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ میں اس کی خاص اہمیت رہی ہے۔ صوفیہ نے اس سنت پر عمل جاری رکھا اور کم سے کم اثاثے پر زندگی گزارنا قبول کیا۔ یہ سبھی سلسلہ طریقت میں موجود ہے مگر چشتی سلسلہ جو بر صغیر ہند و پاک میں زیادہ پھیلا اس میں خدمت خلق پر خصوصی زور دیا گیا جو صدقہ کی ہی ایک صورت تھی۔ اسی لئے خدمت خلق سلسلہ چشتیہ میں صدیوں تک جاری رہا اور جب تک اس سلسلے کے صوفیہ موجود رہے وہ خواجہ صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام کرتے رہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مشن کا حصہ تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے مرشد کے کئی اقوال تحریر کئے ہیں جو خدمت خلق کے سلسلے میں ہیں۔ ایک مقام پر ہے:

’’جب کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، اس وقت اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، اگر وہ مر جائے تو اس کا شمار شہداء میں ہو گا۔ پھر فرمایا جو شخص بھوکے کو کھانا کھلائے اللہ اس کی ہزار حاجتوں کو پورا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے اسے آزاد کرتا ہے، اور جنت میں اس کے لئے ایک محل مخصوص کرتا ہے۔،،

ایک دوسری جگہ خواجہ عثمان ہارونی کا ہی قول درج ہے:

’’میں نے خواجہ مودود چشتی کی زبانی سنا کہ اللہ تعالیٰ تین گروہوں کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے، پہلے وہ باہمت لوگ جو محنت کر کے اپنے کنبہ کو پالتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں اور وہ عورتیں جو اپنے شوہروں کا حکم مانتی ہیں۔ تیسرے وہ جو فقیروں اور عاجزوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔،،

صوفیہ کا ماننا تھا کہ اللہ تعالیٰ، رحمٰن ورحیم ہے لہٰذا اس کی مخلوق کو بھی اس کی صفت رحمت کا مظہر ہونا چاہئے۔ وہ کریم ہے اور اپنے بندوں پر کرم فرماتا ہے۔ وہ محسن ہے اور اپنی مخلوقات پر احسان کرتا ہے، وہ اپنی مخلوقات سے بے حد محبت کرتا ہے لہٰذا اس کی مخلوق کی خدمت کے ذریعے اس کی رضا کو پایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی خدمت سے خوش ہوتا ہے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور عرفانِ الٰہی
شریعت کیا ہے اور طریقت کیا ہے؟ کیا کوئی شخص شریعت پر عمل سے آزاد ہو سکتا ہے؟ کیا عرفان الٰہی کے لئے شریعت پر کامل عمل ضروری ہے؟ کیا طریقت تک رسائی کے بعد شریعت سے آزادی مل جاتی ہے؟ اس قسم کے سوال عام طور پر سننے کو مل جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں علماء، صوفیہ اور بزرگان دین نے بہت واضح جوابات دیئے ہیں اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات میں بھی اس سلسلے میں وضاحت ملتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کوئی بھی شخص جو مسلمان ہونے کا دعویدار ہو اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لائے ہوئے دین میں یقین رکھتا ہو، وہ جب تک ہوش وخرد میں ہے، تب تک دین مصطفوی اور شریعت محمدی کی پیروی سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ ان صلحاء میں سے تھے جن کا مقصد ہی شریعتِ محمدی کی دعوت دینا تھا اور اللہ کی زمین پر اللہ کی احکام کو رائج کرنا تھا۔ آپ کی اسی دعوت کے نتیجے میں بر صغیر میں اسلام کا پرچم لہرایا اور دین و احکام دین کا بول بالا ہوا۔

خواجہ غریب نواز رحمہ اللہ علیہ کی تعلیمات کہتی ہیں کہ طریقت، شریعت کا ہی حصہ ہے، اس سے الگ کوئی راہ نہیں۔ مومن کے لئے ہر حال میں اس پر عمل ضروری ہے اور نماز، روزہ، حج وزکوٰۃ سمیت تمام احکام شریعت پر عمل لازمی ہے۔ یہی سبب ہے کہ خواجہ غریب نواز نے عبادت وریاضت میں کثرت کی اور اہل ایمان کو ہر حال میں احکام شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ آپ کے ملفوظات ’’دلیل العارفین‘‘ میں ایسے اہل اللہ کے واقعات بیان کئے گئے ہیں، جنھوں نے نماز وعبادت میں خود کو اس طرح مصروف رکھا کہ دنیا کے معاملات سے بے نیاز ہو گئے۔ دلیل العارفین میں ایک بزرگ شیخ اوحد الواحد غزنوی کا ذکر ہے، جن سے خواجہ صاحب دوران سفر ملک شام کے قریب کسی شہر کے باہر ایک غار میں ملے۔ یہ بزرگ عبادت الٰہی اور خشیت ربانی کی کثرت سے سوکھ کر خشک لکڑی کی طرح ہو گئے تھے اور جسم پر محض ہڈی اور جلد باقی بچی تھی۔ بزرگ نے خواجہ صاحب سے فرمایا کہ

’’جب میں نماز ادا کرتا ہوں تو اپنے آپ کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اگر ذرہ بھر شرط نماز ادا نہ ہوئی تو سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ اسی وقت یہ طاعت میرے منہ پر دے ماریں گے۔‘‘

اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نماز اور احکام شریعت کی خواجہ صاحب اور ان کے ممدوحین کی نظر میں کیا اہمیت تھی۔ حالانکہ اس کے علاوہ بھی آپ کے ملفوظات میں جگہ جگہ نماز اور احکام دین پر عمل کی تاکید ملتی ہے۔

شریعت پر عمل کے بغیر چارہ نہیں
خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کہتی ہیں کہ شریعت پر عمل ہر حال میں لازم ہے اور اس سے کسی بھی طرح نجات نہیں۔ اس تعلیم پر آپ کے بعد آپ کے جانشینوں نے عمل کیا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر، محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء۔خواجہ حسام الدین مانکپوری اور اس سلسلے کے دوسرے بزرگوں نے ہمیشہ اور ہرحال میں شریعت کے احکام پر عمل کیا۔ شریعت پر کامل عمل کے بغیر طریقت کی منزل پر گامزن نہیں ہوا جا سکتا۔ چنانچہ دلیل العارفین میں خواجہ معین الدین چشتی کا قول درج ہے:

’’راہ شریعت پر چلنے والوں کا شروع یہ ہے کہ جب لوگ شریعت میں ثابت قدم ہو جاتے ہیں اور شریعت کے فرمان بجا لاتے ہیں اور ان کے بجا لانے میں ذرہ بھر تجاوز نہیں کرتے تو اکثر وہ دوسرے مرتبے پر پہنچتے ہیں جسے طریقت کہتے ہیں۔ اس کے بعد جب مع شرائط طریقت میں ثابت قدم ہوتے ہیں اور تمام احکام شریعت بلا کم وکاست بجا لاتے ہیں تو معرفت کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں، جب معرفت کو پہنچتے ہیں توشناخت وشناسائی کا مقام آ جاتا ہے۔ جب اس مقام پر بھی ثابت قدم ہو جاتے ہیں تو درجہ حقیقت کو پہنچتے ہیں۔ اس مرتبے پر پہنچ کر جو کچھ طلب کرتے ہیں پا لیتے ہیں۔‘‘

عارف کون ہے؟

تصوف نام ہے عرفانِ خداوندی کے راستے کا اور اس راستے پر چلنے والوں کو ہی صوفی یا عارف کہا جاتا ہے۔ راہ تصوف وعرفان کے راہی اپنے خالق ومالک کے عرفان کی جد و جہد میں لگے رہتے ہیں۔ صوفیہ اس راستے کو طویل اور مشکلوں سے بھرا ہوا مانتے ہیں۔ اس راستے پر چلنے والوں کو دوران سفر مختلف قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تب عرفان خداوندی کی منزل ملتی ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں:

’’ عارف اس شخص کو کہتے ہیں کہ تمام جہان کو جانتا ہواور عقل سے لاکھوں معنی پیدا کر سکتا ہو اور بیان کر سکتا ہو اور محبت کے تمام دقائق (باریکیاں نکتے) کا جواب دے سکتا ہو اور ہر وقت بحر باطن و نکتہ میں تیرتا رہے تاکہ اسرارِ الٰہی و انوارِ الٰہی کے موتی نکالتا رہے اور دیدہ ور جوہریوں کے سامنے پیش کرتا رہے۔ جب وہ اسے دیکھیں پسند کریں۔ ایسا شخص بے شک عارف ہے۔

بعدازاں اسی وقت فرمایا کہ عارف ہر وقت ولولۂ عشق میں مُبتلا رہتا ہے اور قدرتِ خدا کی آفرینش میں متحیر رہتا ہے۔ اگر کھڑا ہے تو بھی دوست کے وہم میں اور اگر بیٹھا ہے تو بھی دوست کا ذکر کرتا ہے۔ اگر سویا ہے تو بھی دوست کے خیال میں متحیر ہے۔ اگر جاگتا ہے تو بھی دوست کے حجاب عظمت کے گرد طواف کرتا ہے۔‘‘

عرفان الٰہی کا راستہ۔

عرفان و تصوف کی راہ ہی خداشناسی کی راہ ہے۔ یہاں منزل تک رسائی کے لئے کئی مشکل مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس راہ پر چلنے والے زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں۔ جس طرح موتی پانے کے لئے سمندر میں غوطے لگانا پڑتا ہے اسی طرح عرفان حق کے لئے بھی عبادت و ریاضت کے دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

انسان کی تخلیق کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کا عرفان حاصل کرے اور اسے پہچاننے کی کوشش کرے۔ حالانکہ اللہ کی ذات ایسی نہیں کہ وہ انسان کے وہم و گمان میں بھی آ سکے مگر باوجود اس کے، اُس کی ذات وصفات کو سمجھنے کی کوشش لازمی ہے۔ حالانکہ اس جد و جہد میں ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب عارف کی جانب رحمت الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے فرمایا:

’’عرفان میں ایک حالت ہوتی ہے، جب اس پر یہ حالت طاری ہوتی ہے، تو وہ ایک ہی قدم میں عرش سے حجاب عظمت تک کا فاصلہ طے کر لیتا ہے۔ وہاں سے حجاب کبریا تک پہنچ جاتے ہیں، پھر دوسرے قدم پر اپنے مقام پر آ جاتے ہیں۔ (پھر خواجہ صاحب آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا) عارف کا سب سے کم درجہ یہی ہے، لیکن کامل کا درجہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کہاں سے کہاں تک ہے۔‘‘

شریعت پر عمل لازم ہے۔
شریعت کو اس کی روح کے مطابق عمل میں لانا ہی راہ طریقت کا مقصد ہے۔ شریعت پر کامل طور پر عمل کرنے والا ہی طریقت کے راستے کا مسافر کہا جاتا ہے۔ انسان اللہ کے احکام پر جس قدر عامل ہو گا، وہ اسی قدر کامل سالک ہو گا۔ ایسے میں ایک مقام آتا ہے جب سالک کا دل عشق الٰہی کی بھٹی میں تپ کر پختہ ہو جاتا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’ عاشق کا دل محبت کا آتش کدہ ہوتا ہے۔ جو کچھ اس میں جائے اسے جلا دیتا ہے اور ناچیز کر دیتا ہے کیونکہ عشق کی آگ سے بڑھ کر کوئی آگ تیز نہیں ہے۔‘‘

شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

اس مضمون میں خواجہ غریب نواز کے ملفوظات سے جو بھی اقتباس پیش کئے، ان سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ طریقت کی راہ شریعت سے الگ نہیں ہے اور احکام دین پر عمل ہر حال میں لازم و ضروری ہے۔ انسان طریقت میں جتنا کامل ہوگا، وہ شریعت پر اسی قدر کاربند ہو گا۔ آج ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو خواجہ معین الدین چشتی کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں اور ان کے آستانے پر حاضری دینا باعث خیروبرکت سمجھتے ہیں۔ اللہ والوں سے عقیدت ومحبت اچھی بات ہے اور آداب شریعت کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے آستانوں پر حاضری بھی باعث اجر و ثواب ہے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنایا جائے۔ انھوں نے جس مقصد کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی اور جس مشن کے لئے وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر ہزاروں میل دور ہندوستان تشریف لائے، اس مشن میں لگنا انھیں سب سے بڑی خراج عقیدت ہے۔ اگر ہم آج خواجہ صاحب کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ احکام شریعت کی پابندی کریں اور عرفان الٰہی کی کوشش کریں۔ انھوں نے جو اللہ اور اس کے بندوں سے محبت کا درس دیا ہے اس پر عمل پیرا ہوں اور انسانیت کے خیر خواہ بنیں۔اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button