ازقلم: ابوالکلام شمسی قاسمی، پٹنہ
ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط اور دین و دینی شعائر پر منڈلاتے خطرات کے پیش نظر مفکر ملک و ملت حضرت مولانا ابوالحسن محمد سجاد رح نے ملک کے علماء و دانشوروں کے سامنے امارت شرعیہ کا خاکہ پیش کیا تھا، اور انہوں نے کوشش کی کہ پورے ملک میں امارت شرعیہ کا نظام قائم کیا جائے، اس طرح امارت شرعیہ کا خاکہ پورے ملک کے لئے ھے ،گرچہ مجبوری کی وجہ سے اس کا قیام پورے ملک میں عمل میں نہیں آسکا ،لیکن بہار میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آگیا ، جس سے ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک نے بھی رہنمائی حاصل کی ، بہار میں امارت شرعیہ کے قیام کو تقریبا 100 سال ھوئے ،اس ادارہ نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ،اور ہر وقت ملت کی رہنمائی کی ،اج امارت شرعیہ ملت اسلامیہ کا دھڑکتا دل ھے،جس پر ملت کا اعتماد و بھروسہ ھے ، آج امارت شرعیہ میں دینی تعلیم کے فروغ اور اردو زبان کے تحفظ کے سلسلہ میں ایک اہم میٹینگ کا انعقاد ھورہا ھے ، جس میں دینی بنیادی تعلیم اور اردو زبان کے تحفظ کے سلسلہ میں ضروری منصوبے بنائے جائینگے ،ویسے بھی اس دونوں کے لئے امارت کی جانب سے بیداری ہفتہ منایا گیا ،اس کے بھی مثبت نتائج برآمد ہونگے ،ان شاء اللہ، دعاء ھے کہ اللہ تعالیٰ میٹینگ کو فال نیک بنائے اور اردو زبان تحفظ و دینی بنیادی تعلیم فروغ و حفاظت کا ذریعہ بنائے ، اور اس سلسلہ میں جامع منصوبے بنائے جائیں گے ،تاکہ عوام و خواص زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں ،اللہ تعالیٰ ہر طرح ادارہ کی حفاظت فرمائے