ذکی طارق بارہ بنکوی
کتابیں جو انسان کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتی اور نہ ہی اکتا ہٹ میں گرفتار ہونے دیتی ہیں –
کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی زندگی کا سب سے بہتر اور بھروسے مند ساتھی ہوتی ہے ۔کتابوں کے متعلق ارنیسٹ ہیمنگوے کا قول ہے ،”ایک کتاب جتنا وفادار کوئی دوست نہیں ہو سکتا "۔
چارلس ولیم ایلیٹ لکھتے ہیں ،”کتابیں دوستوں میں سب سے خاموش اور مستحکم دوست ہیں ؛ مشیروں میں سب سہل اور دانشور ہیں ؛اور معلمہ میں سب سے زیادہ تحمل کے قابل ہیں
اسی طرح کتابوں کے تعلق سے دیگر کئی دانشوروں اور ماہرین تعلیم نے اپنے خیالات اور آراء کا اظہار کیا ہے جو اس بات کی دلیل پیش کرتا ہے کہ ہماری زندگی میں کتابوں کی کیا اہمیت ہے ۔موجودہ دور میں ہم جس مادہ پرست سرمایہ دارانہ اور ٹیکنالوجی کے نظام میں جی رہے ہیں یہاں انسان نہ صرف کتابیں بلکہ علمی شوق اور ذوق سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں موجودہ دور میں انسان ہر کام میں شارٹ کا راستہ اختیار کر رہا ہے ایک ایسا راستہ جہاں اسے ہر چیز بروقت آسانی سے دستیاب ہو سکے اور کام کو آسان بنایا جا سکے ۔ٹیکنالوجی نے یقینا ہمارے زندگی میں بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں اور آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں کئ طرح کے ہمیں نقصان بھی پہنچائے ہیں ان تمام نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ انسانوں کو کتابوں سے کوسوں دور کر دیا ہے موجودہ دور میں تمام طرح کی کتابیں آڈیو ویڈیو پی ڈی ایف اور دیگر سافٹ فارمیٹ میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا کے تمام تر ممالک میں کتب بینی کے شوق میں گرانقدر کرآؤٹ دیکھی جا رہی ہے ۔نئی نسلوں میں کتابوں کے لئے کم ہوتا رجحان یقیناً ملک و قوم کے لئے سوچ کا مرحلہ پیدا کر رہا ہے اور ہمیں اس سمت میں سنجیدگی سے سوچ کر اس مرض کے علاج کی تشخیص بھی کرنی چاہئے – ایک تو کم لٹریسی ریٹ اور پھر نوجوان نسل کی کتابوں سے ختم ہوتی دلچسپی آنے والے وقت میں ہمیں گاندھی ٹیگور مولانا آزاد اور سرسید جیسے مفکروں سے محروم کر سکتی ہے ۔یقینا ہم اپنے اندر اپنی قائد اور رہنما اور ماہر تعلیم و عظیم فلسفی کا خاصہ پیدا نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان جیسے کتابوں کا مطالعہ کرنے والے نہ بن جائیں ۔بغیر مطالعے کے ہمارے اندر عظیم تفکرات پیدا نہیں ہوسکتے کتب بینی سے ذہن کے بند دریچے کھل جاتے ہیں ، یادداشت مستحکم ہوتی ہے اور دنیا کے تئیں ہمارا نظریہ عیاں ہو جاتا ہے ۔کتب بینی میں کمی کے باعث کتابیں فروخت بھی نہیں ہو پا رہی ہیں حالانکہ ملک میں نہ جانے کتنے ناشران حضرات اور کتب خانے آج بھی موجود ہیں اور عوام کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں لیکن کتابوں کی دکانوں پر ہمیں خریدار نظر نہیں آرہے ہیں ۔
کتابوں سے کم ہوتے شوق نے ملک بھر کے سینکڑوں کتب خانوں کو گودام میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ سیکڑوں کتب خانوں نے کتابوں کی اشاعت کا کام بند کر دیا ہے کتابوں کی فروخت میں آئی اس غیر معمولی گراوٹ کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اچھی کتابیں آج بھی مہنگی ہیں ۔اس کے علاوہ کتاب کی اشاعت کے پیچھے مصنف کا ادب کو فروغ دینے کے بےلوث جذبے سے کہیں زیادہ روپیہ کمانے کا ذریعہ سمجھنا بھی بڑی وجہ ہے کتابوں سے کم ہوتی دلچسپی اور اس کے علاوہ بھی کتابوں کی فروخت میں گراوٹ کی دیگر کئی وجوہات بھی ہیں ۔
چند وجوہات مندرجہ ذیل ہیں ۔
*کتابوں سے گھٹتی دلچسپی *کتب بینی کی ضرورت اہمیت اور افادیت سے نا آشنا ہونا
*معلومات کے حصول کا شوق نہ ہونا
*ملک میں کم شرح خواندگی کا ہونا
- کتب کا مہنگا ہونا
*موبائل انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کا بڑھتا استعمال
*سافٹ فارمیٹ میں کتابوں کی موجودگی
*تیز رفتار زندگی۔
کتابیں ہماری زندگی کا اہم ترین حصہ ہیں کتابیں یقیناً شخصیت سازی اور کردار سازی کا بہترین ذریعہ ہیں کتابیں انسان کے لیے علمی و فکری اثاثہ ہوتی ہیں ملک کی حکومت کو اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جس سے کتابوں کی اہمیت اور افادیت بحال ہو سکے۔تاکہ معاشرے میں کتب بینی کو فروغ بخشا جا سکے اور قوم و ملک کو بہتر قیادت اور رہنمائی حاصل ہو سکے۔