تبصرہ نگار: محمد ارشاد ندوی
شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی
مصنف : عبدالباری قاسمی
سن اشاعت : 2020ء
قیمت : 268
ناشر : قندیل نشریات(معرفت:مرکزی پبلی کیشنز)،نئی دہلی
رابطہ: 8090355815
دور حاضر میں اردوزبان کے ابھرتے ہوئے قلمکاروں کی فہرست میں ایک نام عبدالباری قاسمی کا بھی آتا ہے، عبدالباری قاسمی شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالراورقندیل کے ایڈیٹر بھی ہیں۔انہوں نے دارالعلوم دیوبندسے فضیلت کیا، پھردہلی یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل، اب پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ انہیں دہلی یونیورسٹی میں ایم اے اردو میں سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی بنا پر گولڈ میڈل اور مرزا غالب ایوارڈ سے بھی سرفراز کیاجا چکاہے۔ان کے علمی، ادبی، تنقیدی اور سیاسی مضامین مختلف اخبارورسائل میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں ان کی کتاب تفہیم وتعبیر چھپ کر منظرعام پرآئی ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے سات حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلے حصے کو سلسلہ نثر کا نام دیا گیا ہے، اس میں چارمضامین شامل ہیں۔اٹھارہویں صدی میں اردونثر، قصہ مہرافروز دلبرکا تنقیدی جائزہ، فسانہ آزاد کی ادبی اہمیت اورامراؤجان ادا کا تنقیدی جائزہ۔
اٹھارہویں صدی جو کہ عروج وزوال کی صدی ہے اورہندوستانی عوام کے لئے سماجی، سیاسی، اورمعاشی اعتبار سے تبدیلی کی صدی ہے۔وہیں اردونثر کے لئے ایک عہدآفریں اورنئے دورکی صدی بھی ہے۔ انہوں نے اس باب میں فسانہ آزاد کی ادبی اہمیت، وجہ تصنیف پلاٹ وکردار، اسلوب اورلکھنوی معاشرت کی عکاسی بھی کی ہے۔ اسی طرح سے مرزا ہادی رسوا کے شاہکار ناول امراؤ جان اداکا خلاصہ بھی پیش کیا ہے۔مصنف نے اس دور میں اردو کے پروان چڑھنے اوراس دور کی اہم تصنیفات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
دوسرے حصے کو اسالیب کا نام دیا ہے۔ جس میں نوطرز. مرصع کے اسلوب کی انفرادیت، سرسید احمد خاں کا نثری اسلوب، مولوی عبدالحق کا نثری اسلوب اورغبار خاطر کا نثری اسلوب سادہ اورسلیس انداز میں بیان کیاہے۔ مصنف اپنے منفرد انداز میں ان کے محاسن ومعائب کوبھی بیان کرتے ہیں۔ ایک جگہ وہ سرسید کے نثری اسلوب کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”ان کی تحریروں میں تہہ داری،مفکرانہ سنجیدگی، اصلاحی جذبہ اورخطیبانہ انداز جابجا دکھائی دیتے ہیں“۔وہیں چند خامیاں بھی گنواتے ہیں کہ”سرسید لکھتے وقت اس قدرجذبات میں بہہ جاتے ہیں کہ لفظوں کی خوبصورتی، فقروں کی ہم آہنگی، اورالفاظ وتراکیب کی ترتیب کوبھی بھول جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں ادبی حسن بھی کم ہوجاتا ہے“۔اس باب میں انہوں نے غبار خاطر کا اسلوب اورمولاناآزاد کے تصنیفی ادوار، متعدد اسالیب اوران کے انانیتی انداز کوبھی بیان کیا ہے۔
تیسرے حصہ کو سلسلہ شعروسخن سے موسوم کیا ہے۔جس میں زہر عشق کی ادبی اہمیت، جدید اردوغزل ابتدا وارتقا، مسدس حالی تعارف اورامتیاز، فراق گورکھپوری کی شاعری کے امتیازات، ابوالحیا حضرت مولانا قاری فخرالدین گیاوی، اورسحبان الہند مولانا احمد سعید اسیر دہلوی کی شاعری جیسے اہم مضامین شامل ہیں۔ اس میں انہوں نے جدید غزل کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اور اس کے اسباب وعوامل کیا کیا رہے۔ ان ساری چیزوں کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ شاد عظیم آبادی، حسرت موہانی، فانی بدایونی، جگرمرادآبادی اوراصغر گونڈوی جیسے معتبر شعرا کے منفرد وصوفیانہ مزاج اورتصوف کوپیش کیا ہے،وہیں فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر کا تعارف کراتے ہوئے لکھاہے کہ”فیض نے ایک خاص محبوب اورذاتی دردوغم اوررنج والم کوغزل کا حصہ بنانے کے بجائے انسانیت کے غم کوغزل کا موضوع بنایا ہے۔ ان کی غزلوں میں غم عشق بھی ہے اور غم روزگار بھی۔ جذباتیت بھی ہے اوررومانیت بھی، افسانویت ہے توحقیقت پسندی بھی“۔
چوتھے حصے کو سلسلہ نقد وتحقیق سے معنون کیا گیا ہے جس میں مشرقی تنقید: آغاز وارتقا اورخواجہ احمد فاروقی ایک محقق اورنقاد گرادیب جیسے دوعنوانات شامل ہیں۔ اس باب میں انہوں نے مشرقی تنقید کے آغاز وارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے چینی، جاپانی، فارسی اورعربی زبان کے تنقیدی نظریات کو واضح کیا ہے اورساتھ ساتھ محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی اورشبلی جیسے تنقید نگاروں کے فکروفن اورنقطہئ نظر کوواضح کیا ہے۔
پانچواں حصہ جو کہ فارسی ادبیات سے متعلق ہے اس میں انہوں نے فارسی زبان کے آغاز وارتقا سے لے کر ہندوستانی زبانوں پر فارسی کے جواثرات ہوتے ہیں اس کا بھی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے ابتدائی رسم الخط سے بھی بحث کی ہے۔
چھٹے حصے کو اقبالیات کے نام سے موسوم کیا ہے: اس میں مصنف نے علامہ اقبال کی انفرادیت اورفکر وفن پر روشنی ڈالی ہے اورفلسفہ خودی کوبھی کو سہل انداز میں بیان کرکے اقبال کے نظریے کو واضح کیا ہے کہ اقبال کہنا کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اقبال کے فلسفہ خودی کو حدیث رسول کا ماخذقرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ”یہ فلسفہ پورے طورپر اسلامی ہے اگرانسان میں خوداعتمادی پیدانہ ہو تواس کی حالت غلاموں والی ہوجاتی ہے“۔ اوربطور نمونہ اقبال کے اس شعر کو بھی پیش کیا ہے۔
بھروسہ کرنہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حر کی آنکھ ہے بینا
اورپھر ذکر اقبال کا تنقیدی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عبدالمجید سالک کے اسلوب اورحقیقت نگاری کو بھی واضح کیا ہے۔
ساتویں حصہ کو متفرقات کا نام دیا ہے، اس میں ادب اطفال اہمیت وافادیت، میڈیا، ماس میڈیا روایت اورمسائل، اوراردو کا وسیع ہوتا دائرہ اورتلفظ کی بڑھتی غلطیاں جیسے موضوعات کوشامل کرکے ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ خاص طور سے تلفظ کی بڑھتی غلطیوں کے تعلق سے جو کہ ہمیں بھی عام طور سے جگہ جگہ سننے اوردیکھنے کو ملتی ہے۔ چاہے وہ میڈیا کے لوگ ہوں یا فلم انڈسٹری کے یا پھر وہ حضرات کسی بڑے ا
دارے سے وابس
تہ ہوں۔ ایسے حضرات بھی اردو زبان کے تلفظ میں بے شمار غلطیاں کرتے ہیں۔ مصنف نے اس طرح کی غلطیوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ اردو کے قومی اداروں سے گذارش بھی کی ہے کہ ”جس طریقے سے دوسرے ممالک میں اردو کی اصلاح اورصحیح تلفظ کی ترویج کے لئے اصلاحی تلفظ کا قومی ادارہ موجود ہے اسی طریقے سے ہمارے ملک میں بھی اس طرح کا کوئی ایسا قومی ادارہ ہونا چاہیے جو ایسا ایپ تیار کرے جس میں اردو کے ساتھ ساتھ رومن میں بھی تلفظ اورتحریر کے ساتھ ساتھ صوتی شکل میں بھی موجود ہو تاکہ اس سے اردو تلفظ کی غلطیوں کی اصلاح ہوسکے“۔
میں نے قاسمی صاحب کی اس کتاب (تفہیم وتعبیر) کوحرفاً حرفاً پڑھا جس سے مجھے کافی کچھ سمجھنے اورسیکھنے کو ملا۔ دراصل عبدالباری قاسمی کی یہ کتاب آسان، سادہ اورسلیس زبان میں عمدہ مضامین کا مجموعہ ہے،خاص طور سے ان طلبہ کے لیے بے حد مفید ہے جو کسی بھی جامعہ کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب ادبی وعلمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے براہِ راست مصنف سے اس نمبر9897854153 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔