نتیجۂ فکر: رمشا یاسین، کراچی پاکستان میں جھکی تھی دنیا کے آگے،میں رویٔ تھی دنیا کے آگے،امید تھی مجھ کو دنیا سے ہی،یقین تھا مجھ کو دنیا پہ ہی،دنیا نے مجھے ٹھکرادیا،مجھے چلتے چلتے گرا دیا۔ کر کے خود کو خدا سے غافل،کر کے خود کو دنیا کے قابل،آگ کی لپٹوں میں جلتی رہی،میں دنیا […]