متفرقات

نعت : وہ مسکرائیں تو سارا جہاں منورہو

سخن آموز : عبدالمبین حاتم فیضی

اگر وہ چاہیں تو ذرہ بھی رشک اختر ہو
نگاہ ڈال دیں قطرے پہ تو سمندر ہو

اگر وہ زلف کو کھولیں اندھیرا چھا جائے
وہ مسکرائیں تو سارا جہاں منور ہو

اگر وہ ٹھہریں تو کل کائنات ہو ساکت
چلیں تو خوشبو سے ان کی، گلی معطر ہو

اگروہ چپ ہوں تو ہمت نہیں کہ بولے کوئی
اگر وہ بولیں تو گونگا ہر اک سخنور ہو

اگر وہ گزریں تو سنگ و شجَر سلام کریں
اگر وہ بیٹھیں تو بادل کا سایہ ان پر ہو

لُعابِ پاک سے کھارا کنواں بنے شِیریں
اگروہ لکڑی کوچھودیں توپل میں خنجر ہو

اگر وہ حکم کریں چاند سینہ چاک کرے
اگر وہ چاہیں تو پھر موم سخت پتھر ہو

دعا کریں تو پلٹ آئے ڈوبا سورج بھی
اشارہ ان کا اگر ہو تو گویا کنکر ہو

ملا ہے ان کو وہ اوجِ کمال اے حاتم
وہ چاہ لیں تو زمیں ایک پل میں اَمبَر ہو

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے