سخن آموز : عبدالمبین حاتم فیضی
اگر وہ چاہیں تو ذرہ بھی رشک اختر ہو
نگاہ ڈال دیں قطرے پہ تو سمندر ہو
اگر وہ زلف کو کھولیں اندھیرا چھا جائے
وہ مسکرائیں تو سارا جہاں منور ہو
اگر وہ ٹھہریں تو کل کائنات ہو ساکت
چلیں تو خوشبو سے ان کی، گلی معطر ہو
اگروہ چپ ہوں تو ہمت نہیں کہ بولے کوئی
اگر وہ بولیں تو گونگا ہر اک سخنور ہو
اگر وہ گزریں تو سنگ و شجَر سلام کریں
اگر وہ بیٹھیں تو بادل کا سایہ ان پر ہو
لُعابِ پاک سے کھارا کنواں بنے شِیریں
اگروہ لکڑی کوچھودیں توپل میں خنجر ہو
اگر وہ حکم کریں چاند سینہ چاک کرے
اگر وہ چاہیں تو پھر موم سخت پتھر ہو
دعا کریں تو پلٹ آئے ڈوبا سورج بھی
اشارہ ان کا اگر ہو تو گویا کنکر ہو
ملا ہے ان کو وہ اوجِ کمال اے حاتم
وہ چاہ لیں تو زمیں ایک پل میں اَمبَر ہو