متفرقات

گاؤں کی باتیں۔ مویشی پالنا آسان نہیں، جانور کے پیچھے جانور بنناپڑ تا ہے۔

تحریر : حمزہ فضل اصلاحی

ندی سے گھر اگاؤں ہو ، کنارے مویشی ہوں ۔قریب ہی میں ان کے مالک ہوں،دھوپ ہوتو ان کے ہاتھوں میں چھتر ی ہو اور مویشیوں کو سنبھالنے کیلئے ایک ڈنڈابھی ہو، گھاس کے چادرپربیٹھے وہ اپنےجانوروں کی نگرانی کررہےہوں۔ کچھ مویشی کھیتوں میں گھاس چر رہے ہوںاور کچھ ندی کے پانی میں ڈبکی لگا رہےہوں ، یاگرمی سے بچنے کیلئے یوں ہی پانی میںبیٹھے ہوں،یاکسی کم پانی اور کیچڑ والے گڑھے میں ’لوٹ‘ رہے ہوں ۔آج سے ۲۰؍ سا ل پہلے تک گاؤں میںصبح شام یہی ہوتاتھا ۔ہر جگہ گائے ، بھینس اوربیل ہوتے تھے۔ کھیتوں میں گائیں اور بھینسیں چرتی تھیں ، ان کی پیٹھ پر بگلا سوار رہتا تھا ۔اب بگلا اور بھینس کی یہ دوستی ماضی کا قصہ ہوتی جارہی ہے۔ مویشیوں کو پابندی سے نہلا یاجاتا تھا ۔ تالاب، نہر اور ندی لے جانے کی روایت تھی ۔ہر محلے کے لوگ ایک ساتھ اپنی گائے اور بھینس لے کر نکلتے تھے ۔ سب کے ہاتھوں میں چھوٹے بڑے ڈنڈے ہوتے تھے ۔ ان مویشیوں کی تعداداتنی زیادہ ہوتی تھی جس گلی سے گزرتے تھے ، گلی بھر جاتی تھی۔ان کے پیچھے آنے والے سائیکل سوار یا بائیک سوار کو رکنا پڑتاتھا ، ان کے گزرنے تک انتظار کرناپڑتا تھا ، کہیں سے نکلنے کی گنجائش نہیںہوتی تھی۔کوئی بھینس یا گائے ادھر ادھر دیکھتی یا چلتے چلتے رک جاتی تو اسے ہنکانے کیلئے پہلے ’’ہئیلا ہئیلا…. ہئل ہئل رے ‘‘( جانورکو ہنکانے کے مخصوص الفاظ)کی آواز نکالی جاتی تھی، اس سے با ت نہیں بننے پر ڈنڈے برسائے جاتے تھے ۔ اس طرح ندی ، تالاب یا نہر کے آس پا س کئی محلے والےایک ساتھ جمع ہوجاتے تھے ۔ سامنے میدان میں ان کے مویشی چرتے تھے اوروہ کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتے تھے ،وہاں سے اپنے مویشیوں پرنظر رکھتے تھے۔ سب ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے ، ہنسی مذاق کرتے تھے مگرایک پل کیلئے بھی غافل نہیں ہوتے تھے ، وہ کچھ بھی کرتے تھے ، ان کا پورا دھیان مویشی ہی پر ہوتا تھا ۔ اس طرح مویشی چرانے والوں کے درمیان گہری دوستی ہوجاتی تھی ۔ یہ کبھی کبھی مختلف محلے کے ہوتے تھے اور الگ الگ گاؤں کے بھی ہوتے تھے ۔کوئی کسی دن نہیں پہنچ پاتا تھا تو اسے یا د کیاجاتا تھا ، اس کی کمی محسوس کی جاتی تھی ۔ اُس زمانے میں گھر کا ہرفرد بھینس یا گائےچراتا تھا ،گوبر بھی اٹھاتاتھا ، کوئی شرم محسو س نہیں کر تا تھا، یہ گاؤں کی زندگی کا حصہ تھا ۔ اپنے بچپن میں بھینس چرانے والے بہت سے لوگ آج ترقی کر کے اعلیٰ عہدوں پر ہیں۔ کامیاب تاجرہیں ، لیڈر ہیں ، پروفیسر ہیں ، انجینئر ہیں، ڈاکٹر ہیں،صحافی ہیں اور ادیب بھی ہیںلیکن اُن کے پر انے دوستوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ وہ آج کیا ہیں؟ آپ کچھ بھی کہیں وہ تو یہی کہتے ہیں :’’میرے بچپن کے ساتھی ہیں، میرے ساتھ بھینس چراتے تھے ، ہم ایک ساتھ گھر سے بھینس لے کر نکلتے تھے۔‘‘ آئندہ نسل مویشی چرانے کے بہانے کسی کو اپنا دوست نہیں بناسکے گی ۔
پہلے کے مقابلے میں اب مویشی بہت کم ہیں۔ اُن کے رہنے کی جگہ خالی ہے یا ان پر کسی نے اپنا مکان بنالیا ہے۔پہلے گاؤں والوں کے پاس اپنے گھر کے ساتھ ساتھ مویشیوں کےرہنے کی بھی علاحدہ جگہ ہوتی تھی ۔ قریب میں چارا کاٹنےکی مشین ہوتی تھی ۔ آس پاس ہی بھوسا رکھنے والا کمر ہ بھی ہوتا تھا ۔ اس زمانے کے لوگ بتاتے ہیں :’’ اس دور میں ہرشخص مویشیوں کیلئے سال بھر کا چارا اور ایندھن جمع کرنے کی کوشش کرتا تھا۔‘‘ اب گاؤں میں اتنی جگہ نہیں بچی ہے ۔ مویشی باندھنے اور ان کے چارا رکھنے کی جگہ انسان رہنے لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب گاؤں والوں کی بڑی تعداد پہلی بار اپنے گھر آنے والوں کو بتاتی ہے:’’جہا ں آپ بیٹھے ہیں ، پہلے یہ بھینس کی سار (باڑا ) تھی۔ ‘‘ اس وقت خاند ا ن چھوٹے تھے، ایک گھرمیں انسان رہتے تھے ، دوسرےمیں مویشی۔جب خاندان بڑے ہوئے ۔ بٹوا رہ ہوا،حصہ بخرا ہو ااور تقسیم در تقسیم ہوئی ،پھر مویشی کے رہنے کی جگہ ہی نہیں بچی ۔ ایسے میں لوگ اپنا سر چھپالیں یہی بڑی بات ہے ،مویشی کہاں سے پالیں؟ ویسے مویشی پالنااتنا آسان بھی نہیں ہے ، جانور کے پیچھے جانور بنناپڑ تا ہے۔اچھا خاصا وقت لگتا ہے، محنت لگتی ہے ۔ دن رات ایک کرنا ہوتا ہے، کھلا نا پلا نا ہے ، اندر باہر کرنا ہے ، گوبراٹھانا ہے ، سار میں جھاڑو دیناہے ،مچھر سے بچانے کیلئے ’دھونوار ا‘( دھواں سلگانا) کرنا ہے۔ نہلانادھلانا ہے ، کھیت سے چار ا لا نا ہے،پھر اسے کاٹنا بالنا ہے، اس میں بھوسا چوکر ملا نا ہے ، پھر صبح شا م چرانا ہے اور جانے کیا کیا کرنا ہے؟ ایسے ایک دو نہیں بہت سے کام ہیں ،اسی لئے نئی نسل اس میں سر نہیں کھپا رہی ہے ،اس جھمیلےمیں نہیں پڑ رہی ہے۔
جب لوگ مویشی اپنی ضرورت اور شوق سے پالتے تھے ، اس وقت گاؤ ں میںہر گھر کے باہر گائے ،بیل اور بھینس بیٹھے جگالی کرتے تھے۔ کھلیان میں درخت کے نیچے بھی جانور بندھے ہوتے تھے ۔ندی اور تالاب ان سے بھر ے رہتے تھے ۔ گاؤں میں کوئی نہ کوئی اپنی بھینس ، گائے یا بیل ڈھونڈتے ہوئے ملتا تھا ۔ اکثر بھینسیں ’پہگا تڑا‘ لیتی تھیں، یعنی کھونٹے اور اپنی گردن میں بندھی رسی کے دو ٹکڑے کرلیتی تھیں ، پھرکہیں کا بھی رخ کرلیتی تھیں ، اس کا مالک اس کی تلاش میں ماراماراپھر تا تھا ، جو بھی راستے میں ملتاتھا ، سب سے پوچھتا تھا :’’کونو بھینس دیکھے ہا ۔‘‘(کوئی بھینس دیکھے ہو)۔ اب بہت کم بھینسیں ہیں ، جو ہیں وہ کھونٹے سے بندھی رہتی ہیں۔کم ہی لوگ چراتے ہیں، وہ بھی تھوڑی دیر کیلئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے