ملکی خبریں

صحافیوں پر جھوٹے مقدمات کے متعلق تھرور اور سردیسائی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا

ہماری آواز/نئی دہلی،3 فروری (پریس ریلیز) کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اور صحافی راجدیپ سردیسائی سمیت کئی سینئر صحافی یوم جمہوریہ کے تشدد پر کئے گئے ٹویٹس کے معاملے میں دہلی اور ہریانہ میں ان کے خلاف درج معاملوں میں راحت طلب کرنے کےلئے سپریم کورٹ کی پناہ میں چلے گئے ہیں ملک سے غداری،دشمنی کو بڑھاوا دینے اور مجرمانہ سازش کرنے کےلئے الزامات کے تحت مسٹر تھرور اور سردیسائی،مرنال پانڈے،ظفر آغا،پریش ناتھ،آنند ناتھ اور ونود کے جوس سمیت سینئر صحافیوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
ملزمین کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر درج کرکے آرٹیکل 21 کے تھت ان کی زندگی اور نجی آزادی کے حق اور آرٹیکل 19 کے تحت بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے تشدد کے سلسلے میں غلط رپورٹنگ کی اور غلط معلومات پھیلائی ۔ بندوق کی گولی کی وجہ سے مبینہ طورپر کسان کی موت کو غلط طریقےسے دکھانے کے لئے،انڈیا ٹو ڈے ٹی وی گروپ نے سردیسائی کو دو ہفتے تک نہیں دکھایا(آف ایئر کردیا) ۔ سردیسائی اس گروپ کے مشیر مدیر اور اینکر کے طورپر کام کرتے ہیں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button