مذہبی مضامین

جامع مسجد دہلی: شاہی امام اور انتظامیہ کی لاپرواہی

تحریر: صابر رضا محب القادری نعیمی، کشن گنج

مساجد شعار اسلام میں سے ہیں قرآن حکیم میں ہے وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ “اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے
شعائرﷲ کی تعظیم وتکریم اور اس کے حرمت و تقدس کا خیال رکھنا مسلمانوں کا لازمی فریضہ ہے اور یہی دلوں کا تقوی ہے
مساجد کو روز اول سے ہی عند ﷲ بڑا مقام ومرتبہ حاصل ہے حدیث پاک میں ہے احب البلاد الی ﷲ مساجدھا وابغض البلاد الی ﷲ اسواقھا
اور مساجد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں بندہ مومن کامل طہارت نظافت نفاست اور پاکیزگی کے ساتھ داخل ہو جنبی ناپاک انسان کا داخل ہونا جائز نہیں حتی کہ پیاز لہسن مولی بو پیدا کرنے والے اشیاء کے تناول کرکے جانے سے بھی رسول ﷲ ﷺ نے منع فرمایا“یہ اس محبوب پاک مقام عظمت وحرمت ہیں یہی وجہ ہے کہ اسے بیت ﷲ (ﷲ کا گھر) بھی کہا جاتا ہے
مساجد عبادت گاہ ہیں تربیت گاہ ہیں اوراسے اولین تعلیم گاہ بھی ہونے کا شرف حاصل رہا ہے اور آج بھی ہے کوئی بھی مسجد ہو اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے جائے قیام سے اوپر آسمان اور نیچے تحت الثری تک مسجد ہے
لھو ولعب تماشہ ڈراما ہنسی مذاق کے لیے مساجد میں کوئی گنجائش نہیں
اب سنیں درد دل
دہلی کی جامع مسجد اس کی تعمیر1656ءمیں بادشاہ شاہ جہاں نےکروائی تھی اور یہ ایک عالی شان خوبصورت تاریخی مسجد ہے یہ سبھی جانتے ہیں لیکن افسوس ابھی چند ساعات پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھ کر بڑا افسوس ہوا کہ عیاش بد قماش لوگوں نے اسے تماشا گاہ بناکر رکھ دیا ہے مرد عورت لونڈے اور لونڈیاں عریاں رقص ڈراما کھیل کود اور بیہودگی کا مظاہرہ کررہی ہیں
ٹک ٹاک حیا سوز فحش ویڈیوز بنائے جارہے ہیں یہ اسلامی شعور رکھنے والا ہر فرد جانتا ہے کہ اس طرح کی قبیح حرکات منکرات مسجد کے علاوہ بھی روا نہیں ہیں چہ جائیکہ مسجد میں ان سب کا تصور لیکن جناب یہاں تصور نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اس طرح کے جرائم سے مسجد کی حرمت کو پائمال کیا جارہا ہے
کھلے عام مسجد کی بے حرمتی انتظامیہ اور شاہی امام کی بے التفاتی ایک بڑا المیہ ہے
کہیں یہ سب ان کی آمدنی کا ذریعہ تو نہیں اگر نہیں تو پھر ان سب کے پیچھے کون سے اسباب کار فرما ہیں قوم کو بتایا جائے
جامع مسجد (مولانا سیداحمد بخاری شاہی امام )اور پورے بخاری خاندان کو امامت اور قیادت کے نام پر صرف ایسے موقع سے باہر آتے ہوئے میں نے دیکھا ہے جب اپنی قوم کا سودا کرنا ہو اور آپ نے بھی یہی دیکھا ہوگا
اگر جناب امام صاحب زندگی کے ساتھ زندہ ہوتے اور انتظامیہ میں تھوڑی بھی غیرت ہوتی تو مسجد کے احاطے میں ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے جو آج دیکھ کر روح کانپ رہی ہے اور بہت ممکن ہے کہ عرش الٰہی بھی کانپ رہے ہوں
امام صاحب اور انتظامیہ اس جانب فوری توجہ دے ویسے بھی اسلام دشمن طاقتوں کی نظر میں یہ مسجد کھٹک رہی ہے ابھی سے پوری مستعدی کے ساتھ آلودگیوں سے اسے پاک کرنا ہوگا نہیں تو آنے والے وقت میں یہی سارا کچھ دلائل کی صورت میں ظالم پیش کرکے اس کی مسجدیت کو ختم کرنے کا کھیل کھیلنگے اس کی حفاظت کی جائے آباد کیا جائے امام حق کی آواز حق کا ترجمان ہو نہیں تو پھر یاد رہے ڈاکٹر اقبال کے بقول

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے