مذہبی مضامین

فرضی اور نقلی علماء، ائمہ، مبلغین، دعاة کی تیاری!

” عربی سے ترجمہ "

جامعة تل أبيب الإسلامية ,الجامعةالإسلاميةالعبرية” یعنی
"عبرانی اسلامی یونیورسٹی ,تل ابیب اسلامی یونیورسٹی

” اسرائیل کے شہر ” تل ابیب” میں واقع ہے یہ اسلام میں تحریف اور مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کے لیے یہودی مبلغین کا اسلامی نام رکھ کر تمام مسلم ممالک میں بھیجنے کا کام کر رہی ہے۔اس کو اسرائیل کی خطرناک خفیہ جاسوسی تنظیم موساد نے مختلف اسلامی علوم پڑھانے کے لیے تل ابیب میں قائم کیا ہے,اس کی نگرانی موساد کرتی ہے، اور اس میں موجود ہر ایک چیز اس کے زیرِ کنٹرول ہے۔موساد ہی اپنے اہداف کے حصول کے لیے مطالعہ کے مضامین، ہر مضمون کے لیے نصاب، یونیورسٹی کے پروفیسرز اور اس کے طلبہ کا بغور مطالعہ کیے گئے منصوبے کے مطابق تعین کرتا ہے،
کچھ اہم باتیں :
• یونیورسٹی کے طلباء و اساتذہ صرف یہودی ہیں، اور کسی بھی غیر یہودی شخص کو وہاں تعلیم حاصل کرنا ممنوع ہے۔
• یونیورسٹی کے طلباء کا انتخاب موساد کی طرف سے بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے، اور ان کا اس سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔
• اس میں وہ یہودی نقطہ نظر سے مختلف اسلامی علوم جیسے عقیدہ، تفسیر، حدیث، فقہ اور عربی زبان وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
• یونیورسٹی کے طلباء کو خصوصی کورسز سے گزرنا پڑتا ہے جس میں انہیں تربیت دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کیسے رہنا ہے، ان کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا ہے، انہیں کیسے دھوکہ دینا ہے اور یہ اس” تربیتی کورس ” کے مطالعہ میں کافی وقت لگاتے ہیں۔
• ان کی تربیت کی نگرانی ماہر نفسیات، معاملات کے ماہرین، ماہرین سماجیات اور سیاست دان کرتے ہیں۔
• طالب علم یونیورسٹی سے اس وقت فارغ التحصیل ہوتا ہے جب وہ یہودی نقطہ نظر سے اسلامی قانون، فقہ اور علمی و عملی ثقافت و کلچر کی تعلیم حاصل کر لیتا ہے ۔
• یہ تربیت یافتہ یہودی فارغین باضابطہ طور پر موساد سے منسلک ہوتے ہیں ، اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ذہانت کی تربیت حاصل کیے ہوتے ہیں ۔
• یعنی موساد ان فارغین کی انڈسٹری کو ایک خاص مقصد کے لیے متقضائے حال کے مطابق تیار کرتا ہے۔
• موساد ان فارغین کو فرضی اور نقلی عربی ناموں کے ساتھ بڑا شیخ ,مفتی , عالم بنا کر پیش کرتا ہے۔
• ان نام نہاد مشائخ کو پرکشش ,پرجاذب اسلامی نام دیتا ہے۔
• موساد انتہائی احتیاط کے ساتھ اس شیخ الخاص کے لیے دعوت و تبلیغ کے لیے جگہ متعین کرتا ہے !
• یہ شیخ مسلمانوں کے ساتھ انتہاہی سلیقے کے ساتھ گفتگو کرتا ہے، ان کے ساتھ رہتا ہے، ان کی جاسوسی کرتا ہے، اور ان کے بارے میں سب کچھ وقت پر موساد کو پیش کرتا ہے۔
• اس شیخ کا نام مبہم ہوتا ہے جیسے
ابو عمر الشامی، یا ابو علی المغربی وغیرہ
• یہ شیخ اسلام کی حقیقی تصویر کو مسخ کرنے کے لیے خصوصی دہشت گردی فتوے جاری کرتا ہے، جو موساد اس کے لیے تیار کرتا ہے۔
• موساد اس شیخ سے ایک اسلامی جہاد تنظیم قائم کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے جس میں وہ خاص لوگوں کو بھرتا کرتا ہے
• یہ جہادی تنظیم اس شیخ کی طرف سے منصوبہ بند کارروائیوں کو انجام دے سکتی ہے جسے موساد نے مطلوبہ جگہ پر لگایا تھا۔
● یہ ہے تل ابیب میں موساد کی قائم کردہ بنام "اسلامی یونیورسٹی” آج پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے تخریبی مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔

• تمام منحرف فقہی آراء، سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز مذہبی خطبات، عرب اور اسلامی دنیا میں پھیلے ہوئے تمام اختلاف و انتشار پھیلانے والے مبلغین، تمام گمراہ کن تحریریں، اور عجیب و غریب آراء کے حامل تمام نئے اسلامی مفکرین، جو بدقسمتی سے عرب چینلز ,پرنٹ اور الیکٹرانک پر نظر آتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بدنیتی پر مبنی یونیورسٹی اور اس جیسی یونیورسٹیوں کے پیداوار ہیں جو اسلام و مسلمانوں کی اصلی صورت کو مسخ کرنے کے لیے بنائی گئیں ہیں۔ اس یونیورسٹی میں اسلامی علوم جیسے قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، اسلامی تاریخ اور عربی زبان کے ساتھ ساتھ جدید ترین مذہبی موضوعات اور وہ علوم و معاملات جن کی ایک مسلمان کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں ضرورت پڑتی ہے وہ تمام چیزیں سیکھائی جاتی ہیں اور اس میں تمام طلباء صرف یہودی ہیں یعنی یہ یونیورسٹی صرف یہودی طلباء کے لیے مخصوص ہے تاکہ مذہبِ اسلام کا مطالعہ کریں اور اس کے تمام علمی تقاضوں اور متعلقہ دینی و دنیاوی امور میں مہارت حاصل کریں اور انہیں دنیا کے متعدد گوشوں بالخصوص عالمِ عرب اور مغربی ممالک میں بحیثیت مذہبی رہنما کے بھیجا جاتا ہے، اسلامی مدارس و مساجد کے لیے ان میں سے کچھ شیخ ,امام ,مفتی ,مبلغ ,داعی اور استاد بنا کر بھیجے جاتے ہیں یا اسکول یا یونیورسٹی میں استاد و پروفیسر بنا کر بھیجے جاتے ہیں ! اور انہیں ہر اس جگہ پر بھیجتے ہیں جہاں انہیں ان کی ضرورت ہوتی ہے، جس ملک میں بھیجتے ہیں سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کی بولیاں، ان کے رسم و رواج ,رہن سہن اور فائدے اور نقصانات سکھاتے ہیں، پھر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان پر پیسے کی بارش کرتے ہیں تاکہ اس ملک کے باشندے ان کے قریب جائیں، تاکہ وہ بغاوت، مداخلت اور منظم تخریب کاری کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ یہ فارغ التحصیل افراد اعلیٰ علمی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، ایک طرف جہاں یہ لوگ لوگوں کا پیار حاصل کرنے کے لیے، اسلامی عقیدے کو مسخ کرنے کے لیے، مذاہب اور فرقوں کے درمیان تفریق کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں اور
خاص طور پر مسلم نوجوانوں کی ابھرتی ہوئی نسل کی برین واشنگ کے لیے تمام تر صلاحیتوں و ذرائع کو استعمال کرتے ہیں تاکہ نوجوان کسی بھی خیال و رائے کو قبول کرنے کے لیے پرجوش ہوجائیں اور اس خیال و رائے کو پیش کرنے والے کو ہیرو بنا دیں خاص طور پر غربت و جہالت زدہ دیہاتوں اور شہروں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور یہ صحیح جگہ، صحیح حالات اور صحیح شخص کے انتخاب کو یقینی بناتے ہیں، اور وہ اس کی کامیابی اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے مثالی ماحول پیدا کرتے ہیں اور اسے ہر قسم کے نقصان اور ضرر سے بچاتے ہیں جیسے ایک دبئی کی مسجد سے ایک امام پکڑا جاتا ہے جس کا نام یوشع تھا لیکن وہ یوسف بن جاتا ہے پھر اس کو لقب دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: الشیخ یوسف المغربی یا الشیخ یوسف الجزروی…. وغیرہ مبہم خاندانی کنیت و لقب لگاتے ہیں تاکہ اس کی شخصیت کی تلاش اور تصدیق کرنا مشکل ہو اور اسی طرح لیبیا میں ایک امام پکڑا جاتا ہے جس کا نام موسیٰ تھا وہ ” سماحة العلامة موسیٰ النحاس بن گیا تھا اسی طرح ” "الحداد "یا النجار ” یعنی اس کو کسی پیشے یا کاریگری سے منسوب کرتے ہیں تاکہ اس ملک میں کوئی بھی اس کا نسب کسی معروف قبیلے یا مشہور خاندان سے نہ نکال سکے جیسے ایک یہودی نامی ڈیوڈ شخص فضیلة الشیخ داؤد بن جاتا ہے اور میگرین مقرن بن جاتا ہے وغیرہ۔ اس کے لیے برطانوی افسر تھامس ایڈورڈ لارنس کو یاد رکھیں جو 1916 ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب انقلاب کے دوران عرب افواج کی مدد کرنے میں اپنے کردار کے لیے مشہور تھا، عرب انقلابیوں کی زندگیوں میں اسکی شمولیت پر مشتمل”مسٹر ہیمفر” یا برطانوی جاسوس کے اعترافات کی یادداشتیں پڑھ سکتے ہیں، جو کہ اٹھارویں صدی میں ہیمفر نامی برطانوی جاسوس سے منسوب ایک دستاویزی فلم ہے جو اسلامی تحریک کے نام پر عالم اسلام کو سبوتاژ کرنے کی سازش کے طور پر بہت کچھ بیان کرتی ہے ایک مشہور نام "ہیری سینٹ جان برجر فلبی” جسے "جان فلبی” یا”الشیخ_عبداللہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ خود ساختہ عربی عالم,مفتی کے طور پر متعارف تھا لیکن در حقیقت یہ برطانوی نوآبادیاتی دفتر میں انٹیلی جنس افسر ہے۔ اس نے عثمانیوں کو مشرقِ وسطی خاص طور پر جزیرہ عرب، عراق اور شام سے سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ وہ ” مفتی الدیار الحجازیة ” بن سکے ان کے علاوہ اور بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام اور تباہ و برباد کرنے کے لیے خطرناک کردار ادا کیے ہیں اور کر رہے ہیں جو کسی اسلامی جماعت یا تنظیم میں گھس کر یا کسی مسلم قبیلے یا تعلیمی مرکز وغیرہ میں داخل ہو کر تخریب کاری, فتنہ انگیزی اور اختلاف و انتشار کا کام کر رہے ہیں جیسا کہ تاریخِ اسلامی کے حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ
ایک "شاس ابن قیس” ایک یہودی ربی ( یہودی عالم) تھا جو اسلام اور مسلمانوں سخت نفرت اور دشمنی رکھتا تھا اور وہ مدینہ کے ان یہودیوں میں سے ایک ہے جو اثر و رسوخ اور بہت زیادہ دولت کے مالک تھے جس نے مدینہ منورہ کے دو قبلیے اوس و خزرج کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت اور ان کے درمیان جھگڑے کا بیج بویا۔
ہم عبداللہ ابن سبا (ابن السودہ) اور اس خطرناک فتنوں میں اس کے گھناؤنے کردار کو کیسے بھول سکتے ہیں جس سے ہم آج تک دوچار ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب خطوں میں ہونے والی تمام جنگوں سے تباہی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جن کے زیرِ کنٹرول عرب ممالک ہیں جو احمق ، جاہل اور دھوکہ باز ہیں ان کو ان سرداروں، شہزادوں اور حکمرانوں کی طرف سے احکامات آتے ہیں جن کے ناموں پر شہروں اور دیہاتوں کے نام پر رکھے جاتے ہیں… آپ نہیں جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں…. وغیرہ۔


تحریر :ڈاکٹر صلاح الخالدی حفظہ اللہ
مترجم : محمد عباس الازہری خادم التدریس دار العلوم اہل سنت فیض النبی کپتان گنج بستی یوپی انڈیا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button