سیاست و حالات حاضرہ نظم

جلتے ہوئے آشیانے

تریپورہ کے حالات

از قلم: محمد امیر حسن امجدی رضوی
استاذومفتی: الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر، نگرہ جھانسی یوپی

موجودہ حکومت بی جے پی جب سے اقتدار میں آئی ہے اقلیتوں پر ظلم و زیادتی یہ کوئی نئی بات نہیں، آئے دن کہیں نہ کہیں سے ہندوتوا کے شر پسند عناصر کے ذریعے اہل اسلام پر ظلم و زیادتی کی خبریں آتی ہی رہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں تریپورہ میں مسلم کش فساد بھی انہیں خبر کا ایک حصہ ہے، مسلسل کئی دنوں سے ان پر جو مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اس سے ملک کا قریب ہر باشندہ واقف ہے، کس قدر بے باکی سے وہاں کی مسجدوں دوکانوں مکانوں اور بازاروں کو نذرِ آتش کیا جارہاہے یہ بھی کسی پرمخفی نہیں، آگ زنی، توڑ پھوڑ، مارکاٹ اور نعرے بازی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، دوکان و مکان بلکہ بستی کی بستی آگ کے شعلوں میں تبدیل ہوچکی ہے ، مساجد کی پامالی اس قدر ہوئی ہے کہ جا نماز چٹائیاں پنکھے اور قرآن کریم تک جلنے سے محفوظ نہ رہ سکا، ظالموں نے قرآن عظیم کو بھی آگ حوالہ کردیا۔ باوجود اس کے جمہوریت کا راگ آلاپ نے والے،سبکا ساتھ کا نعرہ لگانے والے ، جھوٹے انصاف ور،تمام سیاسیاں پارٹیاں اور گونگی بہری حکومت سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقلیتوں کی ان کی نظروں میں کیا اہمیت ہے۔سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں سچ کہا گیا ہے:” الکفر علی ملة واحدة،، ۔ اب ہمیں اجتماعی طور پر بیدار ہونا ہوگا اور اپنے حقوق کے استحکام کی لڑائی از خود لڑنی ہوگی ۔اب کوئی فاتحِ اعظم اور قائدِ اعظم نہیں آئیگا ہمیں ہی ان کا نائب و جانشین بن کر اپنے حقوق کے تحفظ، جان و مال کی حفاظت و صیانت، اپنے دین کی بقا خصوصاً اپنے نبی صلی تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستخیاں کرنے والوں کے لئے سینہ سپر ہوکر میدانِ عمل میں اترنا ہوگا اگر یوں ہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے تو انجام و حالات اور بھی بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔ یہ سب بہت بڑی پلاننگ اور منصوبہ بندی کے تحت ہورہاہے ۔آج ہم پر خود کی زمین دن بدن تنگ سے تنگ ہوتی چلی جارہی ہے۔اللّٰہ خیر فرمائے اور دشمنانِ اسلام کے تمام شازشوں کو ناکام فرماکر انہیں خائب و خاسر فرمائے آمین۔

تریپورہ کے مظلوم مسلمان

"ترپورہ،، کے مسلموں پر ظلم کی یلغار ہے
خوف کا عالم ہے ہر سو کفر کی للکار ہے

جل رہےہیں مسجد و قرآں دوکان و گھر سبھی
نذر آتش بستیاں اور کوچہ و بازار ہے

مٹ گئیں سب اس کی صبح و شام کی رعنائیاں
گھر ہر اک ماتم کدہ ہے ، غم الم کی مار ہے

ہیں وہی دوشی محبانِ وطن کہلائے آج
جن کے ہاتھوں میں طمنچہ تیر اور تلوار ہے

حاکمانِ وقت ہیں بیٹھے تماشائی بنے
اس لئے ہر اک ستمگر مست ہے سرشار ہے

یوں ہیں شہ زوروں کو ملتی ہے حمایت دوستو !
ساتھ میں ان کے حکومت اور یہ سرکار ہے

شرپسندوں میں نہیں انسانیت کی بو کہیں
ہر کوئی ان میں درندہ بھیڑیا خونخوار ہے

اے! مسلمانوں منظم متحد ہوکر اٹھو
خوف کھانا ڈر کے رہنا اب تمہیں بیکار ہے

تم بھی آسکتے ہو زد میں شرکشوں کے ایک دن
واسطے تیرے کہاں؟محفوظ گھر دیوار ہے

اپنے مسلم بھائیوں کی تم مدد کرنے اٹھو
ہے یہی اپنا فریضہ اور یہی کردار ہے

دن بدن ہم پر مصائب کا ہے جو یہ سلسلہ
کچھ نہیں اپنے عمل پر ہی یہ حالِ زار ہے

اپنے بد اعمالیوں سے آج ہی توبہ کرو
اور کرو رب سے دعائیں اپنا جو غفار ہے

آگیا ہے وقت نازک آج یہ کیسا امیرؔ
بن کے رہنا اک مسلماں کس قدر دشوار ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے