ازقلم: خلیل احمد فیضانی، راجستھان
محسن گرامی حضرت علامہ و مولانا ڈاکٹر غلام جابر شمس قبلہ مصباحی زید مجدہ ,آپ کا قلم نہایت ہی اثر انگیز ہے…ہند و پاک میں آپ کے قلم کا ایک شہرہ ہے…آپ کا انداز تحریر نہایت ہی کیف آور, اثر آفریں اور اشک انگیز ثابت ہوا ہے-
امیر القلم جیسے معزز لقب سے مذہبی دنیا میں آپ کی شناخت ہے…یعنی کہ تحریری دنیا میں آپ ایک بے تاج بادشاہ ہیں..
جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں ایک نٔے انداز سے کرتے ہیں.. مضمون میں ملاحت و لطافت کا بڑی خوبصورتی کے ساتھ رنگ بھر تے ہیں ,
اور ایسی بلا کی چاشنی پیدا کردیتے ہیں کہ قاری بے خود ہوکر پڑھتا ہی چلا جاتا ہے –
طول طویل جملے جو کئ دفعہ قاری کے دماغ پر بار بن جاتے ہیں اور پلک جھپکنے کا موقع تک نہیں چھوڑتے ,ان سے آپ کا قلم بالکل پاک ہے-
جملے نہایت چھوٹے چھوٹے, موتیوں کی طرح مقناطیسی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں..
دوران قراءت کوفت قطعا محسوس نہیں ہوتی ہے طرز نگارش کمال اور اسلوب بیان نہایت شستہ
یہ آپ کی مرضی ہوتی ہے کہ جب چاہیں اپنے قاری کو ہنسائیں, جب چاہیں رلائیں
آپ کی کتاب”بولتی تصویریں”کا میں نے مطالعہ کیا ..ہر مضمون کے بعد ایک نٔی کیفیت طاری ہوئی ..
کبھی آنکھیں نم ہوئیں..کہیں پر نا رکنے والی مسکراہٹ پیدا ہوئی..کبھی جذباتی ہوگیا اور کسی جگہ اندوہ کی سی کیفیت پیدا ہوئی۔
جتنا پڑھتا جاتا تو افسوس بڑھتا جاتا کیوں کہ بار بار یہ فکر لاحق ہورہی تھی عنقریب اب یہ کتاب ختم ہوجاۓ گی۔
آپ نے شروع ہی میں میری زبردست حوصلہ افزائی فرمائی اور اپنی کتابیں بھی ارسال فرمائی اور ایک مثالی مضمون کیسے لکھا جاتا ہے اس کا ایک گر بھی بتایا فجزاھم اللہ تعالی خیرا کثیرا کثیرا کثیرا
در اصل لکھنا تو آپ کی کتاب "سفر نامہ اعلی حضرت ” پر تھا اور پھر اس کو "اندلس”کے ایک ڈائجسٹ میں چھپوانا تھا تاہم کثرت کار و بے جا افکارکی وجہ سے یہ کام تا ایں دم نہیں ہوپایا .
"سفرنامہ اعلی حضرت”پر ایک تاثراتی مضمون رقم کرنے کی اور پھر بیرون ملک کے ماہناموں وغیرہ میں شائع کروانے کی کوشش رہے گی, ان شاء اللہ تعالی عزوجل
دعا فرمائیں مولا تعالی اسباب پیدا فرماۓ۔